تلنگانہ ، مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ اور میزورم میں اسمبلی انتخابات کا بِگل بج گیا، تلنگانہ میں 30 نومبر کو ووٹنگ اور 3 ڈسمبر کو نتائج

تلنگانہ، مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ اور میزورم میں اسمبلی انتخابات کا بِگل بج گیا
ووٹنگ اور گنتی کی تواریخ کا اعلان، تلنگانہ میں 30 نومبر کو ووٹنگ اور 3 ڈسمبر کو نتائج

نئی دہلی : 09۔اکتوبر
(سحر نیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے آج ملک کی پانچ ریاستوں تلنگانہ، مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ اور میزورم میں اسمبلی انتخابات کی تواریخ کا اعلان کردیا ہے۔چیف الیکشن کمشنر،الیکشن کمیشن آف انڈیا مسٹر راجیو کمار نے آج دوپہر 12 بجے پریس کانفرنس میں ان تواریخ کا اعلان کیا۔

ان پانچ ریاستوں کےاسمبلی انتخابات میں 16.1 کروڑ رائے دہندے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئےسیاسی جماعتوں کی قسمت اور ان کے مستقبل کی فیصلہ کریں گے۔تلنگانہ، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان کی موجودہ اسمبلیوں کی معیاد جنوری 2024 میں ختم ہو رہی ہے۔جبکہ میزورم اسمبلی کی معیاد ڈسمبر میں ختم ہونے والی ہے۔

ریاست تلنگانہ کی 119 نشستوں کے لیے ایک ہی مرحلہ میں 30 نومبر کو ووٹنگ ہوگی اور 3 ڈسمبر کو ووٹوں کی گنتی ہوگی۔اس کے لیے 3 نومبر کو گزٹ جاری کیا جائے گا۔10 نومبر پرچہ نامزدگی کے ادخال کی آخری تاریخ ہوگی۔13 نومبر کو پرچہ نامزدگیوں کی جانچ پڑتال ہوگی جبکہ 15 نومبر پرچہ نامزدگیاں واپس لینے کی قطعی تاریخ ہوگی۔

بعدازاں 30 نومبر، بروز جمعرات ریاست تلنگانہ میں رائے دہی ہوگی اور 3 ڈسمبر بروز اتوار کو ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان ہوگا۔5 ڈسمبر تک انتخابی عمل کو مکمل کرلیا جائے گا۔

چیف الیکشن کمشنر،الیکشن کمیشن آف انڈیامسٹر راجیو کمار نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں 3 کروڑ 17 لاکھ رائے دہندے موجود ہیں۔یہاں خاص بات یہ ہےکہ تلنگانہ میں مرد اور خاتون رائے دہندوں کا تناسب مساوی ہے یعنی ایک کروڑ 58 لاکھ مرد اور ایک کروڑ 58 لاکھ  خاتون رائے دہندے موجود ہیں۔ان میں سے 8 لاکھ 11 ہزار رائے دہندے ایسے ہیں جو پہلی مرتبہ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔

الیکشن کمیشن کےمطابق تلنگانہ میں انتخابات کے انعقاد کےلیے 35 ہزار 356 مراکز رائے دہی Polling Stations# قائم کیے جائیں گے۔جن میں سے 14 ہزار 464 مراکز رائے دہی شہری علاقوں Urban# میں اور 20 ہزار 892 مراکز رائےدہی دیہی علاقوں Rural# میں قائم کیے جائیں گے۔جبکہ 597 خصوصی مراکز رائے دہی خواتین کے لیے، 644 ماڈل اور 120 مراکز رائے دہی معذور افراد کے لیے شامل ہیں۔ہر ایک مرکز رائے دہی پر 897 رائے دہندے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔

چیف الیکشن کمیشن نے کہا کہ تلنگانہ میں پہلی مرتبہ 80 سال یا اس سے زیادہ عمر کے حامل تمام بزرگ شہریوں کو اپنے گھر وںسے ہی آرام کے ساتھ سے ووٹ دینے کی سہولت دستیاب ہوگی۔یہی سہولت 40 فیصد سے زائد معذور افراد کو بھی حاصل ہوگی۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن آف انڈیا نے آج دیگر چار ریاستوں مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ اور میزورم میں انتخابی عمل کے لیے بھی الگ الگ تواریخ کااعلان کیا ہے۔ لیکن بشمول تلنگانہ ان تمام پانچ ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان 3 ڈسمبر کو ہی ہوگا۔

⬅️ مدھیہ پردیش جہاں بی جے پی برسر اقتدار ہے کی 230 نشستوں کے لیے 17 نومبر کو ایک مرحلہ میں ووٹنگ ہوگی۔
⬅️ راجستھان جہاں کانگریس اقتدار میں ہے کی 200 نشستوں کے لیے 23 نومبر کو ووٹنگ ہوگی۔
⬅️ چھتیس گڑھ جہاں کانگریس پرسر اقتدار ہے کی 90 نشستوں کے لیے دو مرحلوں میں 7 اور 17 نومبر کو رائے دہی کا اعلان کیا گیا ہے۔
⬅️ میزورم جہاں میز و نیشنل فرنٹ اقتدار میں ہے کی 40 نشستوں کے لیے 7 نومبر کو رائے دہی ہوگی۔

ان پانچوں ریاستوں میں 3 ڈسمبر بروز اتوار ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان ہوگا۔اور 5 ڈسمبر تک انتخابی عمل کو مکمل کرلیا جائے گا۔

ماناجارہا ہے کہ تلنگانہ میں برسر اقتدار بھارت راشٹرا سمیتی( بی آر ایس ) اور کانگریس میں سیدھا مقابلہ ہوگا!! اور بی جے پی اپنی موجودگی درج کر وانے کی پوری کوشش کررہی ہے۔لیکن بی آر ایس اورکانگریس کے درمیان اصل مقابلہ کی پیش قیاسی کی جارہی ہے۔!!

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ طویل اور پرامن جدوجہد کے بعد 2014 میں علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد پہلی مرتبہ منعقدہ انتخابات میں بی آر ایس پارٹی(اس وقت کی ٹی آر ایس)نے 34.3 فیصد ووٹ حاصل کرتےہوئے 119 رکنی ریاستی اسمبلی کی 63 نشستوں پر اپنی کامیابی درج کروائی تھی۔جبکہ کانگریس نے 21، تلگودیشم نے 15،کل ہند مجلس اتحادالمسلمین نے  بی جے پی نے 5 اور 8 آزاد و دیگر امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔بعد ازاں اپوزیشن جماعتوں کے چند منتخب ارکان اسمبلی نے بی آرایس میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔

تلنگانہ اسمبلی کے دوسری مرتبہ منعقد ہونےوالے انتخابات کےلیے 7 ڈسمبر 2018 کو ووٹنگ ہوئی تھی اور 11 ڈسمبر کو ووٹوں کی گنتی اور نتائج کے اعلان کےبعد بی آر ایس پارٹی نے دوبارہ شاندار واپسی کرتےہوئے 46.87 فیصد تناسب کےساتھ 88 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ کانگریس نے 19 ، کل ہندمجلس اتحادالمسملین نے 7، بی جے پی نے ایک،تلگودیشم نے دو اور ایک آزاد امیداوار نے کامیابی حاصل کی تھی اور کے۔چندراشیکھر راؤ نے دوسری مرتبہ وزیراعلیٰ تلنگانہ کے طور پر حلف لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں "

حیدرآباد ایئر پورٹ پر 92 لاکھ56 ہزار روپئے مالیتی دیڑھ کلوگرام سونا، 38لاکھ روپئے مالیتی 35 آئی فون اوراسمارٹ واچ بھی ضبط