تاج محل میں بم رکھے جانے کی اطلاع جھوٹی ثابت ہوئی
آگرہ :4۔مارچ (ایجنسیاں/سحر نیوزڈاٹ کام)
اتر پردیش پولیس کے ہیلپ لائن نمبر پر تاج محل میں دھماکو اشیاء رکھے جانے کی فون پر دی گئی دھمکی پولیس کی تلاشی مہم کے بعد جھوٹی ثابت ہوئی ،اسسٹنٹ ڈائرکٹر جنرل آف پولیس آگرہ زون مسٹرراجیو کرشنا نے میڈیا کو بتایا کہ فون کال کی دھمکی کے فوری بعد تاج محل کا پورا علاقہ محاصرہ میں لے لیا گیا۔
اس وقت زائد از ایک ہزار سیاح تاج محل میں موجود تھے فوری طور پر ان سیاحوں کو تاج محل سے باہر نکالتے ہوئےبم اسکواڈ کے ذریعہ سارے علاقے کی تلاشی لی گئی تاہم کوئی بھی دھماکو اشیاء برآمد نہیں ہوئی۔
نامعلوم شخص نے ہیلپ لائن نمبر 112 پر صبح 9بجے کال کرکے دھمکی دی کہ تاج محل میں بم رکھا گیا ہے جسکے فوری بعد تاج محل کے احاطہ میں موجود سیاح خوفزدہ ہوگئے تمام سیکورٹی ایجنسیز ، بشمول اتر پردیش پولیس اور سنٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس نے فوری تلاشی مہم کا آغاز کردیا۔
ڈائرکٹر جنرل آف پولیس آگرہ ستیش گنیش نے تصدیق کی کہ تاج محل سے ایسی کوئی بھی دھماکو شئے برآمد نہیں ہوئی ہے اورانہوں نے کہا کہ یہ فون کال 99 فیصد جھوٹا تھا۔بعد ازاں15-11 بجے تمام سیاحوں کو تاج محل میں داخلہ کی اجازت دی گئی ۔
اتر پردیش پولیس نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ آج 4 مارچ کوموبائل نمبر 8318881301 سے یہ اطلاع ملی تھی کہ تاج محل میں بم رکھا گیا ہے جو کچھ دیر بعد پھٹ جائے گا جسکے فوری بعد بم تلاشی مہم کا آغاز کیا گیا ۔
ایس ایس پی آگرہ مسٹر ببول کمارآئی پی ایس کے حوالے سے اتر پردیش پولیس نے اپنے ٹوئٹ میں تصدیق کی کہ بم رکھے جانے کی اطلاع پر تاج محل کیمپس کی مکمل طورپر تلاشی لی گئی جسکے بعد یہ اطلاع جھوٹی ثابت ہوئی بعدازاں حسب معمول تاج محل سیاحوں کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

