سپریم کورٹ سے راہول گاندھی کو ملی راحت، گجرات عدالت کی جانب سے صادر دو سال کی سزاء پر روک، لوک سبھا کی رکنیت ہوگی بحال

سپریم کورٹ سے راہول گاندھی کو ملی راحت، گجرات عدالت کی دو سال کی سزا پر روک
لوک سبھا کی رکنیت ہوگی بحال، تاخیر سے ہی سہی سچ کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے: راہول گاندھی

نئی دہلی : 04-اگست
(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

سابق صدر آل انڈیا کانگریس کمیٹی راہول گاندھی کو آج جمعہ کےدن سپریم کورٹ سے اس وقت بڑی راحت حاصل ہوئی ہےجب ملک کی اعلیٰ عدالت نے 23 مارچ کو گجرات کےسورت کی ایک عدالت کی جانب سےراہول گاندھی کو دو سال کی سزا کاحکم،بعدازاں اپیل کے بعد گجرات ہائی کورٹ کی جانب سے اس سزا کی برقراری پر روک لگا دی ہے۔جس کے بعد اب راہول گاندھی کی لوک سبھا کی رکنیت بحال ہوگی۔

فیصلہ سناتے ہوئے معزز جسٹس بی آر گاوائی نے کہا کہ راہول گاندھی کی سزا کے اثرات وسیع ہیں کیونکہ اس سے ان ووٹروں کے حق پر بھی اثر پڑے گا جنہوں نے انہیں منتخب کیا تھا۔

سپریم کورٹ کی سہء رکنی بنچ جس میں معزز جسٹس بھوشن آر گاوائی، جسٹس پی سی نرسمہا اور جسٹس سنجے کمار شامل تھے۔نے راہول گاندھی کی درخواست کی سماعت کرتےہوئےکہاکہ ٹرائل جج کی جانب سےزیادہ سے زیادہ سزا سنانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی، سزا کے حکم کو حتمی فیصلے تک روکے جانے کی ضرورت ہے۔

راہول گاندھی کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے استدلال پیش کیا کہ بی جے پی کے ایم ایل اے پرنیش مودی کی جانب سے دائر کیا گیا مقدمہ کانگریس لیڈر کے خلاف عجیب تھا کیونکہ انہوں نے اپنی تقریر کےدوران کسی ایک شخص کا بھی نام نہیں لیا تھا،اس پر مقدمہ نہیں چلایا۔انہوں نے کہاکہ مزے کی بات یہ ہے کہ 13 کروڑ کی اس چھوٹی کمیونٹی میں جو کوئی ناراض ہے صرف بی جے پی کےعہدیدار ہی مقدمہ کرنے والے ہیں۔ قانونی ویب سائٹ لائیو لا کے مطابق راہول گاندھی کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کہاکہ اس 13 کروڑ میں، کوئی یکسانیت، شناخت کوئی حد بندی نہیں ہے یہ پہلا نکتہ ہے۔ دوسرا یہ کہ پورنیش مودی نے خود کہاکہ ان کی اصل کنیت مودی نہیں تھی۔

پورنیش مودی کی جانب سے پیش ہوتے ہوئےسینئر ایڈوکیٹ مہیش جیٹھ ملانی نے کہا کہ درخواست گزار کے پاس ثبوت کا ازسرنو جائزہ لیے بغیر سزا کو مسترد کرنے کے لیے عدالت کے لیے بہت مضبوط نکتہ ہونا چاہیے کیونکہ اپیل سیشن کورٹ میں زیر التوا ہے۔

معزز جسٹس بی آر گاوائی نے اس بات پر غور کیاکہ آیا درخواست گزار کی سزا کی وجہ سے وائناڈ حلقہ کا غیر نمائندگی ہونا ایک متعلقہ عنصر تھا، یہ کہتےہوئےکہ رائے دہندگان کا حق متاثر ہورہا ہے۔معززجسٹس گاوائی نےکہاکہ ٹرائل جج کو یہ بتاناہوگاکہ انہوں نے زیادہ سےزیادہ سزا کیوں دی۔؟

قانونی ویب سائٹ بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق معزز جسٹس بی آر گاوائی نے کہا کہ عوامل میں سے ایک یہ ہے کہ اگر پارلیمنٹ میں کوئی حلقہ غیرنمائندگی کےبغیر چلا جائے تو کیا یہ گراؤنڈ نہیں ہے؟ زیادہ سے زیادہ سزا سنانے کی ضرورت کےلیے ٹرائل جج کی جانب سے کوئی سرگوشی نہیں ہے۔آپ نہ صرف ایک فرد بلکہ ایک حلقہ کے پورے ووٹرز کے حق کو متاثر کر رہے ہیں۔

کل سپریم کورٹ میں داخل کردہ ایک حلف نامہ میں راہول گاندھی نے ایک بار پھر اپنے مودی کنیت کے تبصرے کے لیے معافی مانگنے سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے انہیں ہتک عزت کے مقدمے میں سزا سنائی گئی تھی اور اس کے بعد پارلیمنٹ سے نااہل قرار دیا گیا۔تاہم انہوں نے سپریم کورٹ سے اپیل کی تھی کہ وہ بےقصور ہیں اوران کی اس سزا پر روک لگائی جائے۔عوامی نمائندگی ایکٹ کےتحت مجرمانہ عمل اور اس کے نتائج کا استعمال کرتے ہوئے درخواست گزار کو بغیر کسی قصور کے معافی مانگنے کے لیے مجبور کرنا عدالتی عمل کے ساتھ سراسر زیادتی ہے اور اس عدالت کو اس کا سامنا نہیں کرنا چاہئے۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد ایسے میں 8 اگست سے لوک سبھا میں وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد پر بحث شروع ہونے والی ہے۔امکان جتایا جارہا ہے کہ اس بحث میں راہول گاندھی بھی حصہ لے سکتے ہیں۔! اگر ایساہوا تو وزیر اعظم اور بی جے پی حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

کیونکہ وزیراعظم پر الزام عائد کیاجارہا ہےکہ تین ماہ سے منی پور جہاں بی جے پی کی حکومت ہے میں ہنوز جاری نسلی تشدد کے خلاف وزیراعظم مکمل طور پرخاموش ہیں۔جہاں اب تک 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئےہیں وہیں ہزاروں مکانات اور چرچس کو آگ کی نذر کیا گیا ہے ہزاروں افراد ریلیف کیمپوں میں مقیم ہیں۔

یاد رہے کہ گجرات کی عدالت کے اس سزاء کےفیصلہ کےفوری بعد دوسرے ہی دن یعنی 24 مارچ کو لوک سبھا سے ان کی رکنیت ختم کرتے ہوئے انہیں نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔جس کے بعدراہول گاندھی پارلیمانی حلقہ وایناڈ (کیرالا) کی لوک سبھا رکنیت سے محروم ہوگئے تھے۔

24 مارچ کو لوک سبھا سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیاتھاکہ کیرالہ کے وایناڈ پارلیمانی حلقہ کی نمائندگی کرنےوالے لوک سبھا کے رکن راہول گاندھی کو ان کی سزا سنائے جانے کی تاریخ یعنی 23 مارچ 2023 سے لوک سبھا کی رکنیت سے نااہل قرار دیا گیا ہے۔ لوک سبھا سکریٹریٹ نے اپنے اس نوٹیفکیشن میں کہا تھا کہ ہندوستان کے آئین عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کے سیکشن 8 کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

راہول گاندھی کو عزت ہتک معاملہ میں دو سال کی سزاء کے فیصلہ پر کئی سیاسی قائدین اور خود کئی سینئرقانونی ماہرین نے حیرت کا اظہارکرتے ہوئے کہا تھاکہ ملک کی عدالتی تاریخ میں یہ فیصلہ حیران کن اور پہلا فیصلہ ہے۔جبکہ اس معاملہ میں دو سال کی سخت سزا کا اطلاق نہیں ہوتا ۔

دو سال کی سزا اور لوک سبھا کی رکنیت ختم کردئیے جانے کےساتھ راہول گاندھی جملہ 6 سال تک کسی بھی الیکشن میں مقابلہ کرنےکے حق سے بھی محروم ہوگئے تھے۔اس طرح راہول گاندھی کی سیاسی زندگی کو اس سزا کے بعد لگنے والے 6 سالہ گہن کو آج سپریم کورٹ نےہٹا دیا ہے۔جس کے بعد کانگریسی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔وہیں اپوزیشن اتحاد انڈیا I.N.D.I.A# میں شامل ملک کی اپوزیشن جماعتوں نے بھی سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کو تاریخی قرار دیا ہے جو اس ملک کے عدالتی نظام اور ملک کی سیاست پر اثر انداز ہوگا۔

راہول گاندھی کے خلاف یہ مقدمہ بی جے پی کے ایم ایل اے اور گجرات کےسابق وزیر پرنیش مودی نے کرناٹک کے ایک جلسہ میں 2019ء میں راہل گاندھی کے یہ کہنے پر دائر کیا تھا کہ” تمام چوروں کی مشترکہ "کنیت” مودی ” کیسے ہے.؟”بظاہر ان کا اشارہ بینکوں کے کروڑہا روپئے لے کر بیرون ملک فرار ہونے والے للت مودی اور نیرو مودی کی جانب مانا گیا تھا۔جس پر 23 مارچ 2023 کو راہول گاندھی کو مجرمانہ ہتک عزت کے مقدمہ میں دو سال کی سزاء سنائی گئی تھی۔سزا سنائے جانے کے دوسرے ہی دن انہیں لوک سبھا سے نا اہل قرار دےدیا گیا تھا اور ان کا سرکاری بنگلہ بھی فوری طور پر خالی کر وادیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے آج اس فیصلہ کے بعد راہول گاندھی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ” آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں سچائی کی جیت ہوتی ہے۔مگر جو بھی ہو میرا راستہ توصاف ہے،مجھے کیا کرنا ہے،میرا کیاکام ہے وہ میرے دماغ میں صاف ہے۔راہول گاندھی سزاء کے بعد ان کا ساتھ دینے اور مدد کرنے والوں کے علاوہ عوام کے پیار اور تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا۔

https://www.facebook.com/IndianNationalCongress/videos/195465190187911

وہیں صدر کل ہند کانگریس کمیٹی ملک ارجن کھرگےنے کہاکہ راہول گاندھی کو ہٹانے اور نا اہل قرار دینےمیں صرف 24 گھنٹے میں سب کچھ ہوا۔اب دیکھنا ہے کہ کتنے گھنٹوں میں دوبارہ راہول گاندھی کو بحال کیا جاتا ہے۔

" یہ بھی پڑھیں "

راہل گاندھی کو لوک سبھا کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا گیا

 

سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد راہول گاندھی کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی "

https://www.facebook.com/IndianNationalCongress/videos/308748091526155

 

https://www.facebook.com/IndianNationalCongress/videos/1423034661604904