گستاخ رسولﷺ نوپورشرما کو سپریم کورٹ کی سخت پھٹکار
ملک میں جذبات بھڑکانے کے لیے تنہا ذمہ دار قرار دیا
ٹی وی پر آکر پورے ملک سے معافی مانگے،ایک ایف آئی آر پر صحافی گرفتار!
اور نوپور کے لیے سرخ قالین؟ دہلی پولیس پر بھی شدید تنقید
نئی دہلی :01۔جولائی (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
ملک کی اعلیٰ عدالت نے آج گستاخ رسول ﷺ نوپورشرما کوسخت پھٹکار لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں گزشتہ چند دنوں سے جو کچھ ہورہا ہے بالخصوص ادے پور قتل واقعہ کے لیے نوپور شرما تنہا ذمہ دار ہے۔انہوں نے ملک بھر میں جذبات کو بھڑکایا ہے۔ساتھ ہی سپریم کورٹ کی جسٹس سوریہ کانت اور جے بی پاردی والا کی بنچ نے سخت تیور اپناتے ہوئے کہا کہ منہ پھٹ نوپورشرما پور پورے ہندوستان میں آگ بھڑکانے کے لیے اکیلی ذمہ دار ہیں اور انہیں ٹی وی پر آکر پوری قوم سے معافی مانگنی چاہئے۔
معزز جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ جس طرح انہوں نےملک بھر میں جذبات کو بھڑکا دیا ہے۔ہم نے اس بحث کو دیکھا کہ انہیں کس طرح اکسایا گیا۔لیکن انہوں نے یہ سب کچھ کہا اور بعد میں کہا کہ وہ دفاع کررہی تھیں۔یہ شرمناک حرکت ہے۔
اس دو رکنی معززبنچ نے اس ٹی وی ڈیبیٹ کی میزبانی کے لیے ٹیلی ویژن چینل کے بھی نقطہ نظر کا جائزہ لیا۔یہ ڈیبیٹ بحث گیان واپی مسجد معاملہ پر کی جارہی تھی جو فی الحال عدالت میں زیر التوا ہے۔
معزز جسٹس سوریہ کانت اور جے بی پاردی والا کی بنچ نے استفسار کیا کہ نیوز چینل پربحث کس مسئلہ پرتھی؟ صرف ایک پسندیدہ ایجنڈہ ؟انہوں نےعدالت میں زیر سماعت موضوع کا انتخاب کیوں کیا؟
سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر وہ کسی پارٹی کی ترجمان ہیں۔تو وہ سمجھتی ہیں کہ ان کے پاس طاقت ہے اور وہ ملک کے قانون کا احترام کیے بغیر کوئی بیان دیتی ہے؟۔جس پر نوپور شرما کے وکیل سنگھ نے کہا کہ ٹی وی اینکر کا ایک سوال تھا جس کا انہوں نے جواب دیا۔جس پر معزز سپریم کورٹ نے کہا کہ” تب میزبان کے خلاف مقدمہ ہونا چاہیے تھا”۔
سپریم کورٹ نے آج کی سماعت کے دؤران دہلی پولیس کو بھی شدید پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ خاص طور پر دہلی پولیس کی بے عملی پر تنقید کرتے ہوئے پوچھا کہ اس معاملہ میں دہلی پولیس نے کیا کیا؟ساتھ ہی سخت ریمارک کیا کہ”ہمیں اپنا منہ کھولنے پر مجبور نہ کریں”۔عدالت نے پوچھا کہ اس ایف آئی آر کا کیا ہوا جو نوپورشرما کے خلاف درج کی تھی؟جس پر وکیل سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ دہلی پولیس تحقیقات میں مصروف ہے۔جس پر معززبنچ نے ریمارک کیا کہ” پھر کیا ہوا آپ کے لیے سرخ قالین بچھا ہوا ہوگا۔ایک سرخ قالین! "
سپریم کورٹ میں آج جمعہ کو37 سالہ گستاخ رسولَ نوپورشرما کی ایک درخواست کی سماعت کے دؤران ان پر شدید نکتہ چینی کی۔جس میں نوپور شرما کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ملک کےمختلف شہروں میں نوپورشرما کےخلاف درج ایف آئی آرز کو دہلی منتقل کیا جائے
نوپورشرما کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل منیندرسنگھ نے کہا کہ یہ طئے شدہ قانون ہے کہ ایک ہی جرم کے لیے متعدد ایف آئی آر نہیں ہو سکتے۔انہوں نے ارنب گوسوامی کیس اور ٹی ٹی انٹونی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا۔
جس پر سپریم کورٹ خٰ معزز بنچ نے کہا کہ”ایک صحافی کی آزادی کو سیاسی ترجمان کے برابر نہیں کیا جاسکتا جو ٹیلی ویژن پر بیان دے رہا ہو اور ملک بھر میں جذبات کو بھڑکا رہا ہو "۔
سپریم کورٹ نے راجستھان کے ضلع میں ایک ٹیلر کا سر قلم کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ نوپور شرما کی حرکت کا غم و غصہ ادے پور میں پیش آنے والے بدقسمت واقعہ کے لیے ذمہ دار ہے جس نے کشیدگی کو جنم دیا۔
سپریم کورٹ نے مزید سخت تیور اپناتے ہوئے نوپورشرما کی اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ”جب آپ کسی کے خلاف شکایت درج کرواتے ہیں تو اس شخص کو فوری گرفتار کر لیا جاتا ہے۔لیکن کوئی آپ کو چھونے کی ہمت نہیں کرتا۔یہ آپ کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے”۔ بظاہر عدالت کا اشارہ فیاکٹ چیکر ویب سائٹ آلٹ نیوز کے معاون فاؤنڈر محمد زبیر کی جانب تھاجنہوں نے پیغمبر اسلام ؐکے خلاف نوپور شرما کی گستاخی والا ویڈیو ٹوئٹر کے ذریعہ منظرعام پر لایا تھا جنہیں دہلی پولیس نے پیر کو ایک 2018کے ایسے ٹوئٹ پر گرفتار کرتے ہوئے چار دنوں کی پولیس ریمانڈ حاصل کی ہے جو کہ 1983 میں بنی ایک ہندی فلم میں دکھایا گیا سائن بورڈ تھا۔
ملک کی اعلیٰ عدالت نے جب سخت تیور اپناتے ہوئے کہا کہ وہ اس درخواست پر غور نہیں کرے گی تو نوپور شرما کے وکیل نے بالآخر اپنی درخواست واپس لے لی۔
یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہو گا کہ نوپور شرما جو کہ بی جے پی کی قومی ترجمان کی حیثیت سے 26 مئی کو انگریزی نیوز چینل ٹائمز ناؤ کے لائیو ڈیبیٹ میں پیغمبر اسلام ﷺ،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورواقعہ معراج ؐ کے خلاف انتہائی گستاخانہ باتیں کہی تھیں۔جس کے بعد سارے ملک کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پیدا ہوگیا اور ملک بھر میں نوپور شرما کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا جس کے دؤران فائرنگ میں تین مسلم نوجوان شہید ہوئے۔وہیں سینکڑوں زخمی اور ہزاروں احتجاجی مسلمانوں کو گرفتار کرلیا گیا۔بعدازاں 5 جون کو بی جے پی نے اپنی قومی ترجمان نوپور شرما کو 6 سال کے لیے پارٹی سے معطل کردیا۔

نوپور شرما کے خلاف ملک کے مختلف شہروں بشمول دہلی میں کئی ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ نوپور شرما کو فوری گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔
ممبئی میں درج ایف آئی آر کے تحت ممبئی پولیس نوپورشرما کوگرفتار کرنے کے لیے دو مرتبہ دہلی کا دؤرہ کرچکی ہے لیکن نوپور شرما روپوش ہوگئی ہیں۔وہیں مرکزی حکومت کی جانب سے انہیں زائدسیکورٹی بھی فراہم کی گئی ہے۔
نوٹ: سپریم کورٹ کی اس سماعت کی تفصیلات "بار اینڈ بنچ” کے علاوہ دیگرمستند ذرائع سے لی گئی ہیں”
” نوپور شرما سے متعلق مکمل تفصیلی رپورٹ سحر نیوز ڈاٹ کام کی اس لنک پر پڑھی جاسکتی ہے”

