شان رسالتﷺ میں گستاخی کی مرتکب بی جے پی کی قومی ترجمان نوپور شرما پارٹی سے معطل، قطر اور کویت کا احتجاج،نوپور شرما اپنے بیان سے دستبردار

شان رسالتﷺ میں گستاخی کی مرتکب
بی جے پی کی قومی ترجمان نوپور شرما پارٹی سے معطل
قطر اور کویت کا احتجاج، نوپور شرما اپنے بیان سے دستبردار

نئی دہلی:05۔جون(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ کی شان اقدس میں نیشنل انگریزی نیوز چینل”ٹائمز ناؤ” پرگستاخی کی مرتکب بی جے پی کی قومی ترجمان نوپور شرما کو آج بی جے پی نے پارٹی سے معطل کردیا ہے۔

گستاخ رسولﷺ نے 26 مئی کی رات اس نیوز چینل پر گیان واپی مسجد میں دستیاب شئے جسے ہندوشیولنگ اورمسلمان فوارہ قرار دے رہے ہیں پر بحث و مباحثہ کے دؤران پیغمبراسلام حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ،حضرت عائشہ رض اللہ تعالیٰ عنہ کےخلاف اور واقعہ معراج النبی ﷺ کے خلاف انتہائی گستاخانہ،ناقابل برداشت اور نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔

جس کے بعد ملک و بیرون ملک شدید احتجاج اور مذمت کا آغاز ہواتھا۔ممبئی سمیت کئی شہروں میں نوپورشرما کے خلاف ایف آئی درج کروائی گئی۔اس کے بعد خلیجی ممالک میں بھی بی جے پی ترجمان نوپور شرما کے اہانت رسولﷺ ریمارکس کے بعداحتجاج کیا جارہا ہے۔

قطر کی حکومت کے بعد کویت نے نوپورشرما کی جانب سے اہانت رسولﷺ اورگستاخانہ تبصرہ پر ہندوستانی سفیر کوطلب کیا۔وہیں کویت نے ہندوستانی حکومت کو احتجاجی نوٹ بھی پیش کیا۔

اس سلسلہ میں آج 5 جون کو بی جے پی کی قومی قیادت نے نوپورشرما کے اس بیان سے خود کو الگ کرتے ہوئے انہیں 6 سال کے لیےپارٹی کی ابتدائی رکنیت اور تمام سرگرمیوں سے فوری اثر کے ساتھ ہٹادیا ہے۔بی جے پی کےقومی جنرل سیکریٹری ارون سنگھ کی جانب سے جاری کیے گئے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ” نوپورشرما کو پارٹی سے اور پارٹی کی ذمہ داریوں سے فوری طور پرمعطل کر دیا گیا ہے”۔

پارٹی نے کہا ہے کہ وہ تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے اورکسی بھی مذہب کے قابل احترام لوگوں کی توہین قبول نہیں کرتی ہے۔اور نہ ہی اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔تاہم بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری کی جانب سے سرکاری طور پرجاری کردہ اس بیان میں نوپورشرما کی گستاخی کا ذکر نہیں کیا گیا ہے!!

وہیں پارٹی نے دہلی بی جے پی کے میڈیا انچارج نوین کمار جندال کو بھی پارٹی کی بنیادی رکنیت سے خارج کردیا ہے۔معطلی کےمکتوب میں پارٹی کی مرکزی ڈسپلنری کمیٹی نے لکھا ہے کہ”آپ نے مختلف معاملات پر پارٹی کے موقف کے برعکس خیالات کا اظہار کیا ہے”۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ ٹائمز ناؤ چینل پر ڈیبیٹ کے دؤران نوپور شرما کی جانب سے پیغمبراسلامﷺ،حضرت عائشہ(رض) اور واقعہ معراجﷺ پر کی گئی گستاخی پرمشتمل ویڈیو کا وہ حصہ آلٹ نیوز کے معاون ایڈیٹر محمدزبیر نے اسی رات ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ”ہندوستان میں پرائم ٹائم کے ڈیبیٹ دوسرے مذہب کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کے ایک پلیٹ فارم بن گئے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ ٹائمز ناؤ اور اس کی ایڈیٹر اور اس پروگرام کی اینکر نویکا کمار نفرت پھیلانے والوں کو موقع فراہم کررہی ہیں،انہوں نے ٹائمز ناؤ کے مالک ونیت جین کو بھی اپنے ٹوئٹ میں ٹیاگ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ شرم آنی چاہئے آپ کو”۔

جب نوپورشرما کے اس گستاخانہ ریمارکس پرمشتمل ویڈیو سوشل میڈیا بالخصوص ٹوئٹر پر وائرل ہوا تو ہر طرف سے اس کی شدید مذمت کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔جس کے بعد نوپور شرما نے دہلی پولیس کو ٹیاگ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انہیں سیکورٹی فراہم کی جائے انہیں قتل کی دھمکیاں موصول ہورہی ہیں اور انہوں نے اس کے لیے محمدزبیر کو ذمہ دار قرار دیا کہ ویڈیو کے ساتھ چھیڑچھاڑ کی گئی ہے۔باقاعدہ بشمول نوپورشرما اور چند زعفرانی تنظیموں نے اس کے لیے محمد زبیر کو ذمہ دار قرار دیا۔جبکہ انہوں نے صرف ڈیبیٹ کا ویڈیو ٹوئٹ کیا تھا۔

بعدازاں ٹائمز ناؤ نے ٹوئٹر پر پوسٹ کیے گئے اس متنازعہ ڈیبیٹ کے سارے ویڈیوز ڈیلیٹ کرتے ہوئے وضاحت کی کہ”نیوز ڈیبیٹ میں حصہ لینے والوں کے خیالات ان کے اپنے ہوتے ہیں اس سلسلہ میں چینل ذمہ دار نہیں ہے”۔

بعدازاں ٹائمز ناؤ کی جانب سے اس 33 منٹ طویل ڈیبیٹ کے ویڈیو کو یوٹیوب پر بھی ڈیلیٹ یا پرائیوٹ کردیا گیا۔بعدازاں آلٹ نیوز کے ایڈیٹر پرتیک سنہا نے متواتر ٹوئٹس کرتے ہوئے لکھا کہ”محمد زبیر نے نوپور شرما کے اس ویڈیو کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی ہے۔اور ٹائمز ناؤ کی جانب سے اس ویڈیو کو یوٹیوب کےعلاوہ سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز سے ہٹالیا گیاہے تاہم”یہ مکمل ویڈیو آلٹ نیوز کے پاس موجود ہے”۔ 

اب جبکہ نوپور شرما کو بی جے پی کی ابتدائی رکنیت سے 6 سال کے لیے معطل کردیا گیا ہے تو ایسے میں مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ٹائمز ناؤ کی ایڈیٹر و اینکر نویکا کمار کو بھی ان کے عہدہ سے ہٹایا جائے اور انہیں گرفتار کیا جائے۔ 

اسی دؤران نوپورشرمانے اپنے مصدقہ ٹوئٹر ہینڈل پر ہندی اور انگریزی میں دو علحدہ علحدہ ٹوئٹ کرتے ہوئےلکھا ہےکہ ان کی جانب سے ٹی وی ڈیبیٹ میں کیے گئے ریمارکس سے جنہیں تکلیف پہنچی ہے اس پر وہ غیرمشروط طور پر اپنے الفاظ واپس لیتی ہیں۔اور ان کا منشا ہرگز کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا۔

اس سےقبل ٹوئٹر پر نوپورشرما نےایک اور ٹوئٹ کرتے ہوئے اپیل کی تھی کہ”میں تمام میڈیا ہاؤسز اور باقی تمام لوگوں سےدرخواست کرتی ہوں کہ وہ میرا پتہ عام نہ کریں۔میرے خاندان کے لیے سیکورٹی کا خطرہ ہے”۔