ملک میں کوروناوائرس کے بڑھتے معاملات پر سپریم کورٹ برہم،مرکزی حکومت کو نوٹس جاری
نئی دہلی:22۔اپریل(سحر نیوزڈاٹ کام)
ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے قہر کے دؤران اندرون 24 گھنٹے ملک میں 3 لاکھ 14 ہزار افراد کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا ساری دنیا میں افسوسناک طور پر ایک ریکارڈ بن گیا ہے۔

جس پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت پر سخت برہمی ظاہر کی ہے۔ایک ہی دن میں اتنی کثیر تعداد میں ملک بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد پر آج جمعرات کے دن ملک کی سب سے اعلیٰ عدالت پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس (Suo Moto) )لیتے ہوئے معزز چیف جسٹس ایس اے بوبڑے کی قیادت والی بنچ نے مرکزی حکومت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سارے ملک میں آکسیجن اورادویات کی فراہمی کیساتھ کوویڈ ویکسین دئیے جانے کے طریقہ کار پر ایک قومی منصوبہ تیار کرنے کا حکم دیتے ہوئے مرکزی حکومت کو ایک نوٹس جاری کی ہے۔
معزز چیف جسٹس سپریم کورٹ ایس اے بوبڑے نے کہا کہ ملک کی 6 ہائیکورٹس کورونا کے قہر اورمرکزی ، ریاستی حکومتوں کی ناکامی کی شکایتوں کی سماعت کررہی ہیں جس میں عدالتوں سے شکایت کی گئی ہے کہ آکسیجن کی قلت،ہسپتالوں میں بیڈس کی عدم موجودگی،اینٹی وائرل ڈرگ Remdesivir کی شدید قلت ہے اس لیے انہوں نے ان شکایتوں کی سماعت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کیلئے ایک قومی منصوبہ تیار کرنے کی ضرورت ہے اور مرکزی حکومت پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے سنگین حالات میں بھی مرکزی حکومت کی خاموشی درست نہیں ہے۔
معزز چیف جسٹس سپریم کورٹ ایس اے بوبڑے نے واضح کیا کہ لاک ڈاؤن کے نفاذ کا فیصلہ کا حق ریاستوں کوہے۔
یاد رہے کہ بالخصوص ممبئی ، دہلی ، مدھیہ پردیش ، کولکتہ،سکم اور الہ آباد کی ہائیکورٹس میں کوویڈ کے قہر اور طبی سہولتوں کی عدم دستیابی سے متعلق مقدمات زیر دؤراں ہیں۔جس پر معزز چیف جسٹس سپریم کورٹ ایس اے بوبڑے نے کہا کہ یہ عدالتیں انہیں حاصل اختیارات کیساتھ عوامی مفاد میں بہتر کام کررہی ہیں اور اس سلسلہ میں ججس کے مددگار کے طور پر ہریش سالوے ایڈوکیٹ کو مقرر کیا گیاہے۔
معزز چیف جسٹس سپریم کورٹ ایس اے بوبڑے نے کہا کہ اب کچھ چل رہا ہے اور انتہائی بدنظمی کیساتھ ہورہا ہےاور سہولتوں کا رخ دوسری طرف موڑا جارہا ہے۔
معزز چیف جسٹس سپریم کورٹ ایس اے بوبڑے نے اس سلسلہ میں اس معاملہ کو جمعہ تک ملتوی کردیاہے۔

