جیل میں مجھےمیری قرآن شریف نہیں دی جارہی ہے،روسی جیل میں قید اپوزیشن لیڈر کی شکایت
ماسکو:21۔اپریل(ایجنسیز/سحرنیوزڈیسک)
روسی صدر ولاد یمیر پوٹن کے سخت ناقد اور اپوزیشن لیڈر الیکسی ناوالنی نے کہا ہے کہ وہ جیل حکام کے خلاف مقدمہ دائر کر رہے ہیں کیوں کہ انہیں ان جیل حکام کی جانب سے مطالعہ کے لیے ان کی قرآن شریف نہیں دی جارہی ہے۔ روس کے اپوزیشن لیڈر الیکسی ناوالنی کے مطابق جب وہ ماسکو سے باہر تھے، تو انہوں نے قرآن شریف کا تفصیلی مطالعہ کرنے کا ارادہ کیا تھا۔

خبررساں ایجنسی اسوسی ایٹیڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق جیل میں قید ناوالنی بھوک ہڑتال پر ہیں کیوں کہ جیل حکام نے انہیں طبی معائنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ وہ شدید کمر درد اور پیر درد کا شکار ہیں۔
وہیں سوشیل میڈیا کی مقبول عام سائٹ "انسٹا گرام”کے اپنے اکاؤنٹ پر الیکسی ناوالنی لکھا ہے کہ "وہ جیل حکام کے خلاف جو سب سے پہلا مقدمہ کرنے جا رہے ہیں اس کا تعلق مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن سے ہے”۔
ناوالنی کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ میرا قرآن نہیں دے رہے اور میں اس سے عاجز آ چکا ہوں۔ان کا مزید کہنا تھا، ” قید کے دؤران قرآن کا تفصیلی مطالعہ میرے کئی مقاصد میں سے ایک مقصد ہے تاکہ میں خود میں بہتری لا سکوں”
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ناوالنی کو ابھی تک اْن میں سے کسی ایک کتاب تک رسائی نہیں دی گئی، جو وہ اپنے ساتھ جیل میں لائے تھے یا جو انہوں نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران خریدی ہیں۔
دوسری جانب روسی حکام کا کہنا ہے کہ ہر کتاب کا پہلے جائزہ لیا جانا ضروری ہے کہ آیا وہ ‘شدت پسندی‘ کو ہوا تو نہیں دیتی؟ جیل حکام کے مطابق اس عمل کے لیے تین ماہ درکار ہوتے ہیں۔ دوسری جانب ناوالنی کا کہنا ہے کہ میں نے جیل کے سربراہ کے خلاف مقدمہ دائر کرنےکے لیے ایک مزید درخواست دے دی ہے۔
روسی صدر ولاد یمیر پوٹن کے سخت ناقد اور روس کے اپوزیشن لیڈر الیکسی ناوالنی کا کہنا ہے کہ کتابیں ہی ہمارا سب کچھ ہیں اور اگر مجھے اپنے پڑھنے کے حق کے لیے مقدمہ بھی کرنا پڑا تو میں یہ کروں گا۔
ان کا مزید کہنا تھا،مجھے اندازہ ہوا ہے کہ ایک مسیحی کے طور پر پلنے بڑھنے کی وجہ سے قرآن کا مطالعہ ضروری ہے۔ ان کا عزم ہے کہ میں روس کے غیر مسلم سیاستدانوں میں سے سب سے زیادہ قرآن کو جاننے والا سیاستدان بننا چاہتا ہوں۔
یاد رہے کہ 44 سالہ ناوالنی روسی صدر ولاد یمیر پوٹن کے سب سے سخت ناقد کے طورپر اپنی شناخت رکھتے ہیں۔انہیں اعصابی زہر دیا گیا تھا ناوالنی کا الزام ہے کہ انہیں یہ زہر روسی صدر پوٹن کی ایماء پر دیا گیا تھا جبکہ روسی حکام اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔
ماہ فروری میں ایک عدالت نے ناوالنی کو ملکی قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں ڈھائی سال قید کی سزا سنائی تھی۔ جبکہ دوسری جانب ناوالنی ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں کہ انہوں نے ملکی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ان کا الزام ہے کہ یہ ساری کارروائیاں ان کو خاموش کروانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
تقریبا پانچ ماہ جرمنی میں علاج کے بعد صحتیاب ہوکر روس پہنچنے پر اپوزیشن لیڈر الیکسی ناوالنی کو ماہ جنوری میں ماسکو میں گرفتار کرلیا گیاتھا ان کی رہائی کیلئے روس میں انکے حامی احتجاجی مظاہروں کیساتھ سوشیل میڈیا پر ہیاش ٹیاگ مہم بھی چلارہے ہیں۔

