آلٹ نیوز کے محمد زبیر کو فوری رہا کیا جائے
سپریم کورٹ کا حکم،اتر پردیش میں درج 6 ایف آئی آرز میں راحت
نئی دہلی: 20۔جولائی(سحرنیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)
فیاکٹ چیکرآلٹ نیوزکے معاون فاؤنڈر وصحافی محمد زبیر کو فوری رہا کرنے کا حکم دیا ہے اور ساتھ ہی کہا ہے کہ انہیں آج 20 جولائی کی شام 6 بجے سے قبل جیل سے رہا کیا جائے۔
محمد زبیر کے خلاف دہلی،اترپردیش اور مہاراشٹرا کے چنڈولی میں مذہبی اشتعال پھیلانے کی کوشش اور دو فرقوں میں تناؤسمیت کئی الزامات کے ساتھ 8 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔جن میں سے انہیں تین عدالتوں سے ضمانت مل چکی تھی۔تاہم ضمانت ملنے کے فوری بعد اترپردیش پولیس کی جانب سے انہیں دوبارہ ایک اور کیس میں ماخوذ کیا جارہا تھا۔سپریم کورٹ نے ساتھ ہی محمد زبیر کو یہ راحت بھی فراہم کی ہے کہ آئندہ درج ہونے والی ایف آئی آرز پر بھی اس فیصلہ کا اطلاق ہوگا۔سپریم کورٹ میں محمدزبیر کی جانب سے محترمہ بریندرا گروور نے پیروی کی
سپریم کورٹ نے محمد زبیر کو ایک اور راحت فراہم کرتے ہوئے ہدایت دی کہ محمد زبیر کے خلاف اترپردیش کے مختلف مقامات پر درج 6 ایف آئی آرز دہلی پولیس کی اسپیشل کو منتقل کی جائیں۔سپریم کورٹ نے محمدزبیر کے معاملہ میں اترپردیش حکومت کی جانب سے اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تشکیل کو بھی روک دیا ہے۔
اترپردیش پولیس کے پاس درج نصف درجن ایف آئی آرز کے خلاف محمد زبیر کی عرضی کی آج سپریم کورٹ میں سماعت کی گئی معزز جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ کی قیادت میں معز ز جسٹس اے ایس بوپنا کی دو رکنی بنچ نے حکم جاری کیا ہے کہ اترپردیش میں درج تمام مقدمات کےسلسلہ میں محمد زبیر کو 20 ہزار روپئے کی عبوری ضمانت دی جاتی ہے اور انہیں رہا کیا جائے۔
اس سماعت کے دؤران سپریم کورٹ نے اترپردیش پولیس کی اس درخواست کو مسترد کردیا کہ ضمانت کی شرط عائد کی جائے کہ محمد زبیر ٹوئٹس نہیں کریں گے۔جس پر معزز جسٹس چندر چوڑ نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ”ہم ایک صحافی کو کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ نہیں لکھے گا”۔جسٹس چندر چوڑنے کہا کہ”قانون کے خلاف کوئی ٹوئٹ ہوا تو جوابدہ ہوں گے”۔” کوئی پیشگی حکم کیسےدیا جاسکتا ہے کہ کوئی نہ بولے”۔
جس پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل اترپردیش نے یہ مطالبہ بھی کیاکہ ایک شرط عائد کی جائے کہ وہ ثبوت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کریں گےجس پر معزز جسٹس چندر چوڑنے کہا وہ تمام شواہد پبلک ڈومین میں موجود ہیں۔
معزز جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے عدالتی عملے سے کہا کہ محمد زبیر کے سلسلہ میں آرڈر ٹائپ کریں تاکہ ہم گھر جانے سے پہلے اس پر دستخط کر سکیں۔محمد زبیر کی اس اپیل پر کہ ان کے خلاف درج تمام ایف آئی آر کو منسوخ کیا جائے پر معزز سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ وہ اس سلسلہ میں دہلی ہائی کورٹ سے رجوع ہوں۔

ا یڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل اترپردیش حکومت نے عدالت کو بتایا کہ اس عدالت نے پہلے ہدایت دی تھی کہ درخواست گزار ٹوئٹس/پوسٹ نہ کرے۔ جس پرمعزز جسٹس چندر چوڑنے ریمارک کیا کہ”یہ کسی وکیل کو بتانے کے مترادف ہے کہ آپ بحث نہ کریں۔ہم ایک صحافی کو کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ نہیں لکھے گا؟ "
” سپریم کورٹ کی جانب سے محمد زبیر کی ضمانت پر رہائی کے حکم کے فوری بعد نامور صحافی ابھیسر شرما کی خصوصی پیشکش "
یاد رہے کہ 27 جون کو دہلی پولیس نے ایک کیس کے سلسلہ میں محمد زبیر کو طلب کیا تھا۔لیکن ٹوئٹر پر بے نامی اور غیر شناخت یافتہ آئی ڈی سے کی گئی ایک شکایت پر ایف آئی آر درج کرتے ہوئے محمد زبیر کو گرفتار کیا تھا۔بعد ازاں چار دن کے لیے پولیس تحویل کے بعد انہیں عدالت نے 14 دنوں کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔یہ گرفتاری محمد زبیر کے ایک ٹوئٹر پوسٹ پر ہوئی تھی جس میں انہوں نے 1983 میں بنی ہندی فلم "کسی سے نہ کہنا” میں دکھائے گئے لاج کے سائن بورڈ کی تصویر پوسٹ کی تھی۔بعدازاں اترپردیش کے مختلف مقامات پر مختلف الزامات کے تحت نصف درجن ایف آئی آر پر انہیں گرفتار کیا جاتا رہا!!
” محمد زبیر کی گرفتاری سے متعلق مکمل تفصیلات/ویڈیوز اس لنک پر پڑھی اور دیکھی جاسکتی ہیں”

