وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے یوٹیوب چینل کو
سبسکرائب کرنے اور گھنٹی دبانے کی اپیل کی، ویڈیو وائرل
حیدرآباد : 28۔ستمبر
(سحرنیوز ڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)
قبل ازیں وزیراعظم نریندر مودی نے کل یوٹیوب فین فیسٹ انڈیا 2023 سےخطاب کیا اورتقریباً 5000موادتخلیق کاروں کو بتایا کہ وہ”کوئی مختلف نہیں ہیں اور بالکل ان کی طرح ہیں۔اپنے یوٹیوب خطاب میں نریندرمودی نے کہا کہ وہ ایک ساتھی یوٹیوبر کے طور پر ان میں شامل ہونے پر انتہائی خوش ہیں۔انہوں نے اپنے”یوٹیوبر دوستوں” کویہ بھی بتایاکہ وہ دیکھ رہےہیں کہ ان کا موادہمارے ملک کےلوگوں پرکیسے اثر اندازہوتاہے۔
وزیراعظم نےکہاکہ 15 سال سےمیں بھی یوٹیوب چینل کے ذریعہ ملک اور دنیا سے جڑا ہواہوں۔میرےپاس بھی معقول تعدادمیں سبسکرائبرزہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے اس یوٹیوب چینل کے 17.9 ملین افراد سبسکرائبرز ہیں۔جبکہ اب تک اس مصدقہ یوٹیوب چینل پر اب تک مختلف تقاریب کی 21 ہزار ویڈیوز اپ لوڈ کی گئی ہیں۔ان ویڈیوز کو 3,981,687,779 صارفین نے دیکھا ہے۔
سوشل میڈیا کے چند صارفین کی جانب سے اس ویڈیو کو وائرل کرتے ہوئے لکھا جا رہا ہے کہ اب وزیراعظم خود یوٹیوب چینل پر آگئے ہیں تو یوٹیوب پر موجود آزاد صحافیوں کا مذاق اڑانے والے گودی میڈیا کے اینکرز اب کیا کہیں گے؟جو انہیں یوٹیوبر ہونے،سبسکرائب، لائیک اور شیئر کی بھیک مانگنے والے کا طعنہ دیا کرتے تھے۔؟
وہیں سوشل میڈیا پر یہ بھی کہا جارہا ہے کہ منی پور میں 147 دنوں سے نسلی تشدد اب بھی جاری ہے لیکن اس پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی معنی خیز ہے اور وہ اپنے یوٹوب چینل کو سبسکرائب کرنے اور گھنٹی دبانے کی اپیل کررہے ہیں۔اس کے بجائے وہ منی پور میں امن کی اپیل کرتے تو بہتر ہوتا۔
اسی طرح چند سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ 70 سال میں نریندر مودی اس ملک کے ایسے پہلے وزیراعظم بن گئے ہیں جن کا اپنا یوٹیوب چینل ہے! اب یہ سارے یوٹیوبرز کے لیے یہ فخر کی بات ہے۔!!
یاد رہےکہ سابق صدر کل ہند کانگریس کمیٹی و رکن پارلیمان راہول گاندھی Rahul Gandhi@ کا یوٹیوب چینل بھی چند ماہ سےمتحرک ہوگیاہے ۔یہ چینل17 اگست 2017 کو بنایا گیاتھا۔جس پر اب تک 1,600 ویڈیوز اپ لوڈ کیےگئے ہیں۔چینل کو 3 ملین سے زائد افراد نے سبسکرائب کیا ہے اور ان ویڈیوز کو 482,429,755 افراد نے دیکھا ہے۔
" یہ بھی پڑھیں "


