پولیوشن کے خاتمہ کیلئے تانڈور سے 700 پتھر کی صنعتوں کی منتقلی،ناولگا میں انڈسٹریل پارک کا قیام
212 ایکڑ اراضی کا حصول،مزید 88 ایکڑ اراضی حاصل کرنے کا عمل جاری،فروری 2022ء تک تکمیل
سٹیزنس ویلفیئر سوسائٹی کی شکایت پر”نیشنل گرین ٹریبونل” میں ” تلنگانہ پولیوشن کنٹرول بورڈ ” کا حلف نامہ،سمنٹ کمپنیوں کو کلین چٹ!!
وقارآباد/تانڈور :5۔جولائی (سحرنیوزڈاٹ کام/خصوصی رپورٹ)

تانڈور میں موجودخطرناک فضائی آلودگی کے باعث انسانی صحت پر پڑنے والے مضراثرات کے خلاف صدرسٹیزنس ویلفیئرسوسائٹی تانڈور راج گوپال سارڈا ریاستی ہائی کورٹ کی ہدایت کے بعد نیشنل گرین ٹریبونل چنئی اور دہلی سے رجوع ہوئے تھے جہاں یہ معاملہ ہنوز زیر سماعت ہے۔
دراصل تلنگانہ اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ کیجانب سے یہاں فضائی آلودگی ناپنے والے آلہ کیساتھ 17 ڈسمبر 2015ء کو حیدرآباد روڈ پرلاری پارکنگ کے علاقہ میں 8 گھنٹوں تک آلودگی کو ریکارڈ کیا گیا تھا جسکے بعد یہ انکشاف ہوا تھا کہ تانڈور میں تمام اقسام کی دھول ، مٹی اور دیگر عوامل پر مشتمل فضائی آلودگی کی شرح 622 ملی گرام ریکارڈ کی گئی تھی.
جبکہ مرکزی پولیوشن کنٹرول بورڈ کے طئے کردہ قواعد و ضوابط کے تحت کسی بھی شہر/ٹاؤن کی فضائی آلودگی فی کیوبک میٹر 100 ملی گرام ہونی چاہئے!
بعد ازاں راج گوپال سارڈ ا نے اس فضائی آلودگی کی رپورٹ کو بنیاد بناتے ہوئے 2016ء میں نیشنل گرین ٹریبیونل پرنسپل بنچ چنئی سے بعد ازاں 2018ء میں نیشنل گرین ٹریبیونل پرنسپل بنچ دہلی میں 8 سرکاری محکمہ جات اور یہاں کی پانچ سمنٹ فیکٹریز کے انتظامیہ کو فریق بناتے ہوئے کیس دائر کیا تھا۔

اس سلسلہ میں نیشنل گرین ٹریبونل دہلی نے تلنگانہ اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ ، ریاستی حکومت، چیف سیکریٹری ، ضلع کلکٹر وقارآباد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس سلسلہ میں جواب داخل کرنے کی ہدایت دی تھی۔
بعد ازاں 22 ستمبر 2019ء کو مرکزی پولیوشن کنٹرول بورڈ اور ریاستی پولیوشن کنٹرول بورڈ کے بنگلورو اور حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کی ٹیم نے تانڈور کے مختلف مقامات پر آلات نصب کرکے یہاں کی فضائی آلودگی کے تناسب کی پیمائش کی تھی۔
جاریہ سال اپریل میں تلنگانہ اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈکی جانب سے نیشنل گرین ٹریبونل دہلی کی سدرن بنچ میں داخل کی گئی رپورٹ میں تانڈور میں موجود سمنٹ فیکٹریز کو کلین چٹ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ تانڈور کی فضائی آلودگی کیلئے سمنٹ فیکٹریز براہ راست ذمہ دار نہیں بلکہ سڑکوں کی ابتر حالت، سڑکیں بچھانے اور دیگر سرکاری تعمیراتی کاموں کی وجہ سے تانڈور میں فضائی آلودگی پیدا ہورہی ہے !اور ساتھ ہی بھاری گاڑیوں کے ذریعہ مختلف اشیاء کی منتقلی بھی فضائی آلودگی کی وجوہات میں شامل ہیں۔
اس سلسلہ میں جمعرات یکم جولائی کو تلنگانہ اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ نے نیشنل گرین ٹریبونل کے معزز جسٹس کے۔راما کرشنن ،جوڈیشل ممبر اور ڈاکٹر کے۔ستیہ گوپال ایکسپرٹ ممبر کی بنچ پر حلف نامہ داخل کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تانڈور میں موجود 700 پتھر کٹنگ اور پالشنگ یونٹس کو بشیر آباد منڈل کے ناولگا میں قائم کیے جارہے انڈسٹریل پارک میں منتقل کیا جانے والا ہے۔
ماہرین پر مشتمل جوائنٹ کمیٹی نے نیشنل گرین ٹریبونل کو بتایا ہے کہ ان پتھر کی صنعتوں سے ہی تانڈور میں فضائی آلودگی پیدا ہورہی ہے۔
تلنگانہ اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ نے اپنے حلف نامہ میں کہا ہے کہ تلنگانہ اسٹیٹ انڈسٹریل انفرااسٹرکچر کارپوریشن نے ان پتھر کی صنعتوں کی منتقلی کیلئے ناولگا موضع میں 300 ایکڑ اراضی کی نشاندہی کرلی گئی ہے اور اس میں سے 212 ایکڑ اراضی حاصل بھی کرلی گئی ہے ماباقی 88 ایکڑ اراضی ایل اے آر آر ایکٹ 2013ء کے تحت حاصل کی جانی ہے۔!!

تلنگانہ اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ نے اپنے حلف نامہ میں کہا ہے کہ تانڈور سے 700 پتھر کی صنعتوں کو مزید 88 ایکڑ راضی کے حصول،اراضیات کے لے اؤٹ ، تمام ضروری سہولتوں کی فراہمی، بجٹ میں منظوری اور محکمہ ماحولیات کی اجازت کے بعد بشیر آباد منڈل کے ناولگا میں قائم کیے جارہے انڈسٹریل پارک میں منتقل کرنے کے عمل کو فروری 2022ء تک مکمل کرلیا جائے گا۔
نیشنل گرین ٹریبونل میں داخل کردہ اپنے حلف نامہ میں تلنگانہ اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ نے بتایا ہے کہ تانڈور میں فضائی آلودگی اور ٹریفک مسئلہ کے حل کیلئے 12.92 کلومیٹر طویل بائی پاس روڈ تعمیر کی جاری ہے جو کہ تانڈور سے وقارآباد اور حیدرآباد کو جوڑے گی جسے لاریوں اور سمنٹ کی منتقلی کیلئے استعمال کیا جائے گاکیونکہ موجودہ طورپر تانڈور سے گزرنے والی لاریاں بھی فضائی آلودگی کا سبب بن رہی ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ اس سلسلہ میں کلکٹر ضلع وقارآباد نے بھی نیشنل گرین ٹریبونل میں اپنی جانب سے حلف نامہ پیش کیا ہے۔
یاد رہے کہ 2010ء میں تانڈور منڈل کے موضع جنگورتی میں 300 ایکڑ اراضی پر انڈسٹریل پارک کا قیام اور پتھر صنعتوں کو وہاں منتقل کرنے کا منصوبہ بناتے ہوئے اراضی کی شناخت اور سروے بھی مکمل کرلیا گیا تھا تاہم آج تک بھی اس سلسلہ میں کوئی پہل نہیں ہوئی ہے!!
تلنگانہ اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ کی جانب سے دو مرتبہ نیشنل گرین ٹریبونل دہلی اور چنئی میں داخل کردہ حلف ناموں کے بعد یہاں گزشتہ 6 سال سے فضائی آلودگی سے شدید پریشان عوام کی جانب سے الزام عائد کیا جارہا ہے کے اس معاملہ میں سرکاری طور پر یہاں موجودسمنٹ فیکٹریز کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے ساری ذمہ داری پتھر کی صںعتوں کے گلے باندھنے کی کوشش کی جارہی ہے؟
ملک بھر میں مشہور تانڈور کی پتھر صنعت سے زائد از 25 ہزار مزدوروں کیساتھ ساتھ ہزاروں چھوٹے اور بڑے تاجرین کے علاوہ اس سے منسلک دیگر شعبہ جات کے بھی ہزاروں لوگوں کا ذریعہء معاش وابستہ ہے!
تانڈور میں موجود پتھر کی صنعتوں اور معدنیات سے ریاستی اور مرکزی حکومتوں کو جی ایس ٹی اور رائلٹی کی شکل میں سالانہ لاکھوں روپیوں کی ادائیگی عمل میں لائی جاتی ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ شہر کے باہر موجود پتھر کی صنعتوں میں پتھر کی کٹنگ اور پالشنگ بناء پانی کے ناممکن ہے پانی کی مدد سے جب پتھر کی کٹنگ اور پالشنگ ہوتی ہے تو اب ریاستی پولیوشن کنٹرول بورڈ کے قابل عہدیدار ہی یہ بات واضح کرسکتے ہیں کہ پتھر کی صنعت سے کس طرح پولیوشن پیدا ہورہا ہے؟ اور یہ پولیوشن تانڈور شہر کی فضاؤں میں کیسے داخل ہورہا ہے؟

یاد رہے کہ تانڈور سے 15 کلومیٹڑ کے فاصلے پر موجود سمنٹ فیکٹریز میں پیدا ہونے والی سمنٹ کا ذخیرہ روزآنہ سینکڑوں بھاری ٹرکس اور ٹینکرس کے ذریعہ براہ تانڈور ہی ملک کے مختلف مقامات تک روانہ کیا جاتا ہے۔ ان سمنٹ فیکٹریز کی جانب سے سالانہ کروڑوں روپیوں کے ٹیکس مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو ادا کیے جاتے ہیں!
اسی طرح ان سمنٹ فیکٹریز تک مختلف مقامات سے لال مٹی ، کوئلہ ، جپسم اور دیگر اشیاء سے لدے سینکڑوں ٹرکس براہ تانڈور ہی ان سمنٹ فیکٹریز تک پہنچتے ہیں!! کیا ان ٹرکس اور ٹینکرس سے اُڑنے اور گرنے والا مواد فضائی آلودگی کا باعث نہیں بنتا؟ ان سمنٹ فیکٹریز کے قریب موجود کئی مواضعات کے کسان بارہا مرتبہ احتجاج کرچکے ہیں کہ ان فیکٹریوں سے خارج ہونے والی دھول سے ان کی فصلیں خراب ہورہی ہیں۔

اور یہ سوال بھی قابل غور ہے کہ ازروئے قواعد ان سمنٹ فیکٹریز کے ذریعہ تانڈور کی ترقی اور صاف صفائی کیلئے ماہانہ یا سالانہ محکمہ آراینڈ بی یا پھر بلدیہ تانڈور کو کتنا فنڈ دیا جاتا تھا؟ یا پھر خود یہ سمنٹ فیکٹریز یہاں اپنے طور پر کوئی خدمات انجام دیتی ہیں؟

