سابق وزیراعظم پی وی نرسمہا راؤ کا 16 فیٹ بلند مجسمہ حیدرآباد کی نیکلس روڈ پر 28 جون کو نقاب کشائی کے لیے تیار

سابق وزیراعظم پی وی نرسمہا راؤ کا 16 فیٹ بلند اور دو ٹن وزنی مجسمہ

حیدرآباد کی نیکلس روڈ پر 28 جون کو نقاب کشائی کے لیے تیار

حیدرآباد :24۔جون(سحرنیوزڈاٹ کام)

چیف منسٹرتلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ کی قیادت میں 30 مئی کو منعقدہ پانچ گھنٹے طویل ریاستی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ سابق وزیراعظم ہند پی وی نرسمہا راؤ کی صدسالہ تقاریب کے اختتام کے موقع پر نیکلس روڈ کے ساڑھے پانچ کلومیٹر رقبہ کو پی وی نرسمہاراؤ مارگ سے موسوم کیاجائے جس پر فوری طور پر عمل آوری ہوگئی اور سائن بورڈ بھی نصب کردئیے گئے۔

اب سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہاراؤ کا 16 فیٹ قامت والا دو ٹن وزنی مجسمہ نیکلس روڈ پر ایستادہ کردیا گیا ہے جس کی نقاب کشائی 28 جون کو پی وی نرسمہاراؤ کی سالگرہ کے موقع پر انجام دی جائے گی۔

ایگزیکٹیو انجینئر ٹینک بینڈ آدم نے اس سلسلہ میں میڈیا کو بتایا کہ اس مجسمہ کو منگل کی صبح 5 بجے مذکورہ مقام پر لایا گیا تھا اور اس کو نصب کرنے کا کام مکمل کرلیا گیا ہے اور اس مجسمہ کے اطراف گھاس اور پودے لگانے کے ساتھ ساتھ برقی آلات کی تنصیب کا کام جاری ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ اس مجسمہ کی تیاری کیلئے تین ہفتوں تک کاریگروں اور مزدوروں نے کام کیا جس کی مالیت 27 لاکھ روپئے ہے۔

پی وی نرسمہاراؤ صد سالہ تقاریب کمیٹی کے چیئرمین و رکن راجیہ سبھا کے۔کیشو راؤ نے بتایا کہ سابق وزیراعظم کی صد سالہ تقریبات کی اختتامی تقریب کے موقع پر منعقد ہونے والی تقریب کے موقع پر اس مجسمہ کی نقاب کشائی انجام دی جائے گی۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ گزشتہ سال حکومت تلنگانہ نے ریاست میں 28 جون 2020 تا 28 جون 2021 ء سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہاراؤ کی صد سالہ تقاریب کا آغاز کیا تھا جس کے تحت کئی ایک پروگرام منعقد کیے گئے اور اس صد سالہ تقاریب کیلئے حکومت کی جانب سے 10 کروڑ روپئےمنظور کرتے ہوئے باقاعدہ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔

جس کے صدرنشین رکن راجیہ سبھا و سینئر پارٹی قائد کے۔کیشو راؤ ہیں جبکہ اس صد سالہ کمیٹی کے ارکان میں سابق وزیر صحت ایٹالہ راجندر (جو حالیہ دنوں اسمبلی اور ٹی آرایس پارٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دیتے ہوئے بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں)،ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق و آئی ٹی کے ٹی آر، پی وی نرسمہا راؤ کے فرزند پی وی پربھاکر راؤ ، پی وی نرسمہا راؤ کی دختر سرابھی وانی دیوی (جنہوں نے تین ماہ قبل بحیثیت ٹی آرایس پارٹی امیدوار حلقہ گرائجویٹ ایم ایل سی محبوب نگر، حیدرآباد ، رنگاریڈی کی نشست پر کامیابی حاصل کی ہے)

جبکہ اس صد سالہ تقاریب کمیٹی کے دیگر ارکان میں ڈاکٹر راجیو شرما گورنمنٹ چیف ایڈوائزر،ڈاکٹر کے وی رمنا چاری آئی اے ایس (موظف) گورنمنٹ ایڈوائزر،دیولا پلی پربھاکر راؤ چیئر مین تلنگانہ آفیشل لینگویج کمیٹی اوروکاس راج گورنمنٹ پرنسپل سیکریٹری (کمیٹی کی تفصیلات اس کمیٹی کی ویب سائٹ سے لی گئی ہیں)۔

https://pvnr.telangana.gov.in/about/committee-members/

ساتھ ہی گزشتہ سال 8 ستمبر کو ریاستی اسمبلی میں حکومت نے قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ پی وی نرسمہا راؤ کو بھارت رتن ایوارڈ دیا جائے جس کی کانگریس نے تائید کی تھی اور کل ہند مجلس اتحادالمسلمین نے مخالفت کرتے ہوئے اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔

اس موقع پر چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے پی وی نرسمہاراؤ کو ایک مدبر سیاستداں قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ہندوستان کی معیشت کو سدھارتے ہوئے ملک کو ایک نئی پہچان دی تھی۔

 گزشتہ سال ہی چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے وزیراعظم نریندر مودی کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کا نام تبدیل کرتے ہوئے اسے پی وی نرسمہا راؤ سنٹرل یونیورسٹی کیا جائے۔

اسی دؤران گزشتہ دنوں تلگو کے ایک قدیم اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ حضور آباد ضلع کی تشکیل کے بعد اس ضلع کو پی وی نرسمہاراؤ سے منسوب کرنے کی حکومت نے تیاریاں مکمل کرلی ہیں! تاہم اس سلسلہ میں سرکاری طورپر کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔