اقتصادی بدحالی کے شکار سری لنکا میں جاری احتجاج کے 50 دن مکمل، صدر کے استعفیٰ تک مظاہرے جاری رکھنے کا اعلان

اقتصادی بدحالی کے شکار سری لنکا میں جاری احتجاج کے 50 دن مکمل
صدر کے استعفیٰ تک مظاہرے جاری رکھنے آرگنائزرس اعلان

کولمبو/نئی دہلی:30۔مئی(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

جزیرہ نما سری لنکا جو کہ شدید معاشی و اقتصادی بدحالی کاشکار ہوگیاہے،جہاں تمام اشیائے ضروریہ کی شدید قلت پائی جاتی ہے۔سری لنکا کے عوام کو کھانے پینے کی غذائی اشیا،ایندھن،ادویات،پکوان گیس حتیٰ کہ ماچس باکس اور ٹوائلٹ پیپرس کی تک شدیدقلت کا سامنا ہے۔ان تمام ضروری اشیا کے حصول کے لیے لوگوں کو قطاروں میں کھڑا ہونا پڑرہا ہے۔

سری لنکا میں اس شدید معاشی اور اقتصادی بحران کے خلاف 9 اپریل کو اس وقت احتجاج شروع ہوا جب مظاہرین وسطی کولمبو میں گال فیس پرمنیڈ میں داخل ہوئے اور راجا پاکشے کے صدارتی دفتر کے داخلی دروازے کو مسدود کرتے ہوئے وہاں ڈیرے ڈال دئیے۔انہوں نے اس جگہ کو GGG ‘گوٹا گو گاما (گاؤں) کا نام دے کر اپنی احتجاجی سرگرمیوں میں شدت پیدا کی۔جس نے سری لنکا کی سیاست کوبھی الٹ پلٹ کر رکھ دیا۔

اس عوامی احتجاج نے اب اپنے 50 دن مکمل کرلیے ہیں،پھربھی عوام کا احتجاج جاری ہے اور ان احتجاجیوں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اس احتجاج میں مزید شدت پیدا کی جائے گی،ان کامطالبہ ہے کہ صدر سری لنکا گوٹابایا راجاپکشے بھی اپنے عہدہ سے مستعفی ہوجائیں۔

یاد رہے کہ اس احتجاج کو دیکھتے ہوئے 9 مئی کو سری لنکا کے وزیراعظم مہنداراجا پکشے (76سالہ) جوکہ صدر سری لنکا گوٹابایا راجا پکشے کے بھائی ہیں نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔اور ان کی جگہ اپوزیشن جماعت کے سیاست دان رانیل وکرما سنگھے نے لے لی۔

وہیں اس عوامی احتجاج کے دؤران صدر سری لنکا گوٹابایا راجا پکشے نے یکم اپریل سے 7 مئی تک پانچ مرتبہ ملک میں ایمرجنسی نافذ کی تھی اور کرفیو بھی نافذ کیا گیا پھر بھی احتجاج میں کمی نہیں ہوئی۔اس احتجاج کے دؤران زائد از ایک درجن احتجاجی ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔

سری لنکا میں برہم احتجاجیوں نے بشمول راجا پکشے کے افراد خاندان کے بشمول حکمران جماعت کے زائداز 78 سیاستدانوں کی املاک پر حملے کیے یا انہیں نذر آتش کیا گیا۔اس وقت سے ہی صدر اور وزیراعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جارہاتھا لیکن صدر سری لنکا گوٹابایا راجا پکشے نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ نہیں دیا اور وہ ہنوز انکار ہی کررہے ہیں۔جبکہ اس احتجاج کے دؤران برسراقتدار جماعت کے ایک رکن پارلیمان بھی ہلاک ہوگئے۔

معاشی بحران کا شکار سری لنکائی عوام کی انسانی بنیادوں پر مدد کی غرض سے ہندوستان وقفہ وقفہ سے اس کی مدد کررہا ہے۔ہندوستان نے جمعہ کو سات لاکھ امریکی ڈالر سے زیادہ مالیتی 25 ٹن طبی اشیا سری لنکا کے حوالے کیں۔جو اس جزیرے کی قوم کو اس کے بدترین معاشی بحران اور ادویات کی قلت سے نمٹنے میں مدد کرنے کے لیے جاری کوششوں کے حصے کے طور پر ہے۔

جبکہ گزشتہ ماہ ہندوستان نے سری لنکا کو ایندھن کی درآمد میں مدد کے لیے 500 ملین ڈالر کی اضافی کریڈٹ لائن میں توسیع کی کیونکہ حالیہ دنوں میں اس کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی کے بعد ملک درآمدات کی ادائیگی کے لیے جدوجہد کر رہا ہے،جس سے اس کی کرنسی کی قدر میں کمی اور افراط زر میں اضافہ ہوا۔

وہیں گزشتہ ہفتہ ہندوستان نے سری لنکا کو 45 کروڑ روپئے کی مشترکہ قیمت کے ساتھ 9,000 میٹرک ٹن چاول،200 میٹرک ٹن دودھ کا پاؤڈر اور 24 میٹرک ٹن زندگی بچانے والی ادویات پرمشتمل فوری امدادی سامان بھیجا تھا۔اس کے علاوہ بھی ہندوستان لگاتار سری لنکا کی مدد میں مصروف ہے۔وزارت خارجہ نے 10 مئی کو کہا تھا کہ ہندوستان کی پڑوسی کی پہلی مدد پالیسی کے تحت ہندوستان نےصرف جاریہ سال کے دؤران سری لنکا کے عوام کو ان کی موجودہ مشکلات پر قابو پانے میں مدد کرنے کے لیے 3.5 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کی امداد فراہم کی ہے۔

سری لنکا میں کل اتوار کو بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان اس وقت جھڑپ ہوئی جب وہ صدر کے دفتر کے باہر احتجاج کررہے تھے پولیس نےمظاہرین کےخلاف آنسو گیس کااستعمال کیا اور چندمقامات پر تیزدھار پانی کا بھی استعمال کیا۔

جرنلسٹ اشوک راج نے کل اتوار کو ایک ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”سری لنکا آج بھی میدان جنگ کی مانند ہے،یہاں رہنے والے مظاہرین صدر اور ان کے خاندان کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔کہیں نہ کہیں ایک دن جان لیوا ثابت ہوگا۔ان میں سے بہت سے احتجاجیوں نے کہا کہ وہ سیاست میں مکمل تبدیلی چاہتے ہیں”۔

مخالف صدر احتجاجی بارش کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اسی دؤران ٹوئٹر پر ایسی تصاویر ٹوئٹ کی گئی ہیں کہ سری لنکا کےمختلف مقامات سے سینکڑوں میڈیکل کے اسٹوڈنٹس ریالیوں کی شکل میں کولمبو پہنچ رہے ہیں۔