وقارآباد کے ایک موبائل شاپ مالک کے بینک اکاؤنٹ میں
18.52 کروڑ روپئے جمع،بینک عہدیدار اور تاجر دونوں پریشان
وقارآباد: 30۔مئی (سحرنیوزڈاٹ کام)
آئے دن ملک کے مختلف مقامات سے ایسی خبریں آتی رہتی ہیں کہ کسی کسان یا کسی شخص کے بینک اکاؤنٹ میں اچانک کروڑوں یا لاکھوں روپیوں پرمشتمل رقم جمع ہوگئی ہے۔بعدازاں تحقیقات کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ بینک عہدیداروں کی غلطی سے اکاؤنٹ نمبر غلط ٹائپ کرنے کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔
گزشتہ سال ستمبر میں بہارکے کھگاریاضلع کے ایک گرامین بینک کے ذریعہ غلطی سے اسی ضلع کے منسی پولیس اسٹیشن کے حدود میں موجود بختیار پور دیہات کے ساکن رنجیت داس کے بینک اکاؤنٹ میں 5 لاکھ 50 ہزار روپئے منتقل ہوگئے تھے۔اس شخص نےبینک اکاؤنٹ میں غلطی سے منتقل ہونے والی رقم واپس لوٹانے سے انکار کردیا تھا۔
اس شخص کا ایک ہی جواب تھا کہ یہ رقم حسب وعدہ وزیراعظم نریندری مودی نے سیدھے اس کے بینک کھاتے میں روانہ کی ہے۔جس کا انہوں نے 2014 کے انتخابات میں وعدہ کیا تھا کہ ہر ہندوستانی کے بینک اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپئے آئیں گے۔اس شخص کا کہنا تھا کہ یہ رقم اسی رقم کی پہلی قسط ہے۔اس طرح اس شخص نے بینک عہدیداروں اور پولیس کو یہ کہہ کر مزید پریشانی میں ڈال دیا تھا کہ اس نے یہ ساری رقم خرچ بھی کردی ہے۔
آج ریاست تلنگانہ کے وقارآباد ضلع مستقر کے ساکن ایک تاجر اس وقت چونک گئے جب انہیں ان کے ایچ ڈی ایف سی HDFC# بینک سے میسیج موصول ہوا کہ ان کے بینک اکاؤنٹ میں پورے 18 کروڑ 52 لاکھ روپئے جمع ہوئے ہیں۔جسے دیکھ کر وہ چونک گئے اور بینک پہنچ کر عہدیداروں سے تفصیلات طلب کیں تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ایسی کوئی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وقارآباد کے پوڈور منڈل موضع کنکل کے ساکن پی۔وینکٹ ریڈی وقارآباد میں سیون ہلز نامی موبائل شاپ کے مالک ہیں۔انہیں اپنے بینک سے ایک ایس ایم ایس موصول ہوا کہ ان کے بینک اکاؤنٹ میں 18 کروڑ 52 لاکھ روپئے کی رقم جمع ہوئی ہے۔حیرت اور تجسس کا شکار وینکٹ ریڈی فوری وقارآباد میں موجود HDFC BANK# پہنچے اور بینک کے مینجئر پروین کمار کو وہ ایس ایم ایس دکھایا۔
جس پر بینک مینجئرنے ان کےبینک اکاؤنٹ کی تفصیلات دیکھیں تو ان کا بینک اکاؤنٹ منجمد بناتا رہاتھا۔اور ان کے اکاؤنٹ میں رقم جمع کرنے یا نکالنے پر پابندی عائد ہے۔
بینک مینجئر پروین کمار نے وینکٹ ریڈی کو بتایا کہ وہ اس معاملہ میں کچھ بھی نہیں کرسکتے اور نہ ہی کوئی تفصیلات فراہم کی جاسکتی ہیں۔اور اس معاملہ سے متعلق تفصیلات بینک کے سنٹرل آفس کے اعلیٰ عہدیدار ہی کوئی تفصیلات بتاسکتے ہیں۔

