نیپال طیارہ حادثہ : تمام 22 نعشیں اور بلیک باکس برآمد، مہلوکین میں ہندوستان کا ایک چار رکنی خاندان بھی شامل

نیپال طیارہ حادثہ: تمام 22 نعشیں اور بلیک باکس برآمد 
مہلوکین میں ہندوستان کا ایک چار رکنی خاندان بھی شامل

کھٹمنڈو: 31۔مئی(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

نیپال سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کل پیر کو بتایاتھا کہ حادثہ کا شکار تارا ایئر کے طیارہ کے ملبے سے 21 نعشیں برآمد کی گئی ہیں جو اتوار کو مستونگ ضلع میں گرکر تباہ ہواتھا۔آج مزید ایک نعش برآمد کرلی گئی۔اس طرح اس حادثہ کا شکار بدقسمت طیارہ میں سوار تمام 22 مسافرین کی نعشیں برآمد کرلی گئی ہیں۔اس حادثہ کے شکار طیارہ کا بلیک باکس بھی برآمد کرلیا گیا ہے جسے بیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا۔

حادثہ کا شکار تارا ایئر TaraAir# کے اس چھوٹے طیارہ نے جس میں 19 مسافرین اور تین عملہ کے ارکان سمیت 22 افراد سوار تھے اتوار کو پوکھرا جو کہ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو سے 200 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے سےصبح 9.55 بجے اڑان بھری تھی تاہم 12 منٹ کے بعد اس کا ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیاتھا۔

اس بدنصیب طیارہ میں سوار تھے 19 مسافرین میں سے 13 مسافرین کا تعلق نیپال سے،چارمسافرین کا تعلق ہندوستان(ممبئی) سےاور دومسافرین کا تعلق جرمنی سےتھا۔

اتوار کو اس طیارہ کے لاپتہ ہوجانے کے فوری بعد نیپالی فوج اور پولیس نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعہ اس کی تلاش کا آغاز کیا تھا۔ضلع مستونگ میں برفباری اور خراب موسم کے باعث تباہ ہونے والے طیارے کی تلاش کے لیے تعینات تمام ہیلی کاپٹروں کوواپس بلالیا گیا اور شام دیر گئے اس تلاشی مہم کو روک دیا گیا تھا۔کل پیر کی صبح سے موسم صاف ہونے کے بعد دوبارہ تلاشی مہم کا آغاز کیا گیا تھا۔میڈیا اطلاعات کے مطابق حادثہ کا شکار یہ طیارہ اڑان کے بعد 14،500 فیٹ گہرائی میں گرا تھا۔ 

مقامی لوگوں کی جانب سے نیپال آرمی کو دی گئی اطلاعات کے مطابق تارا ایئر کا طیارہ مناپتی ہمال کے چٹانی تودے کے نیچے موجود لمچے ندی کے کنارے پرگرکر تباہ ہوگیا۔فوج کے ترجمان نارائن سلوال نےکہا کہ نیپالی فوج زمینی اور فضائی راستے سے جائے وقوعہ تک پہنچی۔

نیپال کی خانگی ایرلائنس تاراایئر کی جانب سے اتوار کو طیارہ کے لاپتہ ہونے کے بعد جاری کی گئی مسافرین کی فہرست کے مطابق ہندوستان کے چار مسافرین کی شناخت اشوک کمار ترپاٹھی، وئیبھوی ترپاٹھی، دھنش ترپاٹھی، رتیکا ترپاٹھی کی حیثیت سے کی گئی تھی۔اور اس طیارہ کے پائلٹ کیپٹن پربھاکرپرساد گھیمیرے،معاون پائلٹ ایٹاسا پوکھاریل اور ایک ایر ہوسٹس قاسمی تھاپا شامل تھے۔

حادثہ کے شکاراس بدقسمت طیارے میں ایک ہی خاندان کے ویبھوی ترپاٹھی اورانکے سابق شوہر اشوک کمار ترپاٹھی اپنے دو بچوں کے ساتھ سوار تھے۔جن کا تعلق ممبئی سے تھا۔اس سابق جوڑے کوفیملی کورٹ نے طلاق کے بعد ہر سال چھٹی پر جانے کاحکم دیا تھا۔این ڈی ٹی وی کے مطابق بزنس مین اشوک کمار ترپاٹھی اور ان کی تھانے میں مقیم طلاق یافتہ بیوی ویبھاوی بنڈیکرترپاٹھی اپنے بیٹے دھنش ترپاٹھی(22سالہ)اور بیٹی ریتیکا ترپاٹھی (15 سالہ)کے ساتھ ہمالیائی ملک نیپال کے سفر پر تھے جب اتوار کو یہ سانحہ پیش آیا۔

این ڈی ٹی وی کو تھانے کے کپور باوڈی پولیس اسٹیشن کے ایک عہدیدارنے پیر کو بتایا کہ 54 سالہ اشوک ترپاٹھی جوکہ اڈیشہ میں ایک کمپنی چلاتے تھے اور  51 سالہ ویبھوی ترپاٹھی جو کہ ممبئی میں ایک مالیاتی فرم میں ملازمت کرتی تھیں اوران کا عہدہ اس فرم میں نمبر دو کی حیثیت کا حامل تھا عدالتی احکامات کےبعدالگ ہوگئے تھے۔عدالتی احکامات کےمطابق اس خاندان کو سال میں 10 دن ایک ساتھ گزارنا تھا اور اس سال انہوں نے نیپال کے دورے کا منصوبہ بنایا تھا۔اور بدقسمتی سے اس خاندان کے لیے یہ دورہ ان کی زندگیوں کے لیے آخری دؤرہ ثابت ہوا جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔

خبررساں ادارہ اے ایف پی کو نیپالی فوج کے ترجمان نارائن سلوال نے بتایا کہ حادثہ کا شکار اس طیارہ سے 21 نعشیں نکال لی گئی ہیں ٹیمیں مزید ایک کی تلاش میں مصروف ہیں۔ایک اور میڈیا اطلاع میں بتایا جارہا ہے کہ طیارہ میں سوار تمام 22 افراد کی نعشیں برآمد کرلی گئی ہیں۔!!

تارا ایئر کے ترجمان نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ نعشیں طیارہ کے ملبہ کے مقام سے 100 میٹر کےدائرے میں بکھری ہوئی تھیں۔انہوں نےکہا کہ طیارہ پہاڑ سے ٹکرا کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔جس کےباعث اس طیارہ میں سوارمسافرین کی نعشیں پورے پہاڑی علاقے میں بکھری پڑی تھیں۔

ہندوستان ٹائمزکے مطابق ایوی ایشن سیفٹی نیٹ ورک کی ویب سائٹ کے مطابق یہ طیارہ کینیڈا کے ڈی ہیولینڈ نے بنایا تھا اور اس نے 40 سال سے زیادہ عرصہ قبل اپنی پہلی پرواز کی تھی۔

  TaraAir #NepalPlaneCrash#