سونیا گاندھی نے دیا سرگرم سیاست سے سبکدوشی کا اشارہ! چھتیس گڑھ میں کانگریس کے پلینری سیشن سے خطاب

سونیا گاندھی نے دیا سرگرم سیاست سے سبکدوشی کا اشارہ!
بی جے پی اور آر ایس ایس پر ملک کے تمام اداروں پر قبضہ کا الزام
چھتیس گڑھ میں کانگریس کے پلینری سیشن سے خطاب

نئی دہلی : 25۔فروری
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)

سابق صدر آل انڈیا کانگریس کمیٹی و رکن پارلیمان شریمتی سونیا گاندھی نے آج اشارہ دیا ہے کہ ان کی سرگرم سیاست کا اختتام بھارت جوڑو یاترا کے اختتام کے ساتھ ممکن ہے۔وہ آج چھتیس گڑھ کے رائے پور میں کانگریس پارٹی کے 85 ویں پلینری سیشن سے خطاب کررہی تھیں۔

76 سالہ بزرگ کانگریس پارٹی رہنما و صدرنشین یو پی اے شریمتی سونیا گاندھی جو کانگریس کی طویل مدت کی صدارت کا ریکارڈ اپنے پاس رکھتی ہیں نے اس پلینری سیشن سے اپنے خطاب میں الزام عائد کیا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس نے ملک کے ہر ایک ادارہ پر قبضہ کر لیا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمان شریمتی سونیا گاندھی نے کہا کہ پارٹی اور ملک مجموعی طور پر ایک مشکل وقت سے گزر رہے ہیں اور الزام عائد کیا کہ بی جے پی۔آر ایس ایس نے ہندوستان کے ہر ایک ادارہ پر قبضہ کرلیا ہے۔

رائے پور میں کانگریس پارٹی کے تین روزہ 85 ویں پلینری سیشن کا کل جمعہ کو آغاز ہواجس میں ملک کی مختلف ریاستوں سے شریک 1,500 پارٹی مندوبین سے اپنےخطاب میں شریمتی سونیا گاندھی نے کہاکہ یہ کانگریس پارٹی اور پورے ملک کےلیے ایک مشکل وقت ہے۔بی جے پی-آر ایس ایس نے ملک کے ایک ایک ادارہ پر قبضہ کرلیا ہے اور اسے تباہ کردیا ہے،اور اس نے چند تاجروں کی حمایت کرکے معاشی تباہی مچائی ہے۔

شریمتی سونیا گاندھی نے اپنے خطاب میں الزام عائد کیا کہ بی جے پی اس ملک کی اقلیتوں،خواتین،دلتوں اور آدیواسیوں کے خلاف کام کررہی ہے۔اور دستور کی دھجیاں ارائی جارہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ کانگریس صرف ایک پارٹی نہیں ہےبلکہ وہ ملک کے عوام کے لیے انصاف، قومی یکجہتی،مساوات اور امن کے لیے جدوجہد کرتی رہے گی۔اپنے خطاب میں انہوں نے کن حالات میں ان کا سیاست میں داخلہ ہوا اس کو بھی یاد کیا۔

صدرنشین یوپی اے شریمتی گاندھی نےاپنے خطاب میں کہاکہ 2004ء اور 2009ء میں ڈاکٹرمنموہن سنگھ کی قابل قیادت کےساتھ ہماری فتوحات نے مجھے ذاتی طور پر اطمینان بخشا لیکن جو چیز مجھے سب سے زیادہ خوش کرتی ہے وہ یہ ہے کہ میری اننگز کا اختتام کانگریس کے لیے ایک اہم موڑ بھارت جوڑو یاترا کے ساتھ ہوا۔

یاد رہے کہ سابق صدر کانگریس و رکن پارلیمان راہل گاندھی کی قیادت میں بھارت جوڑو یاترا کا گزشتہ سال 7 ستمبر کوتمل ناڈو/کنیاکماری سےآغاز ہواتھا اور اس پیدل یاترانے 145 دنوں میں 12 ریاستوں اور دو مرکزی زیر انتظام علاقوں کا 4,080 کلومیٹر پرمشتمل فاصلہ طئے کیا۔جس کا اختتام 30 جنوری کو سری نگر میں ایک میگا ریالی کے ساتھ ہوا۔

اپنےخطاب میں سابق صدر کانگریس شریمتی سونیا گاندھی نے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا پارٹی کے لیے اہم موڑ ثابت ہوئی ہے۔اور اس یاترا نے ملک کےعوام کو قومی یکجہتی،مساوات اور امن کا پیغام دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو اس بھارت جوڑو یاترا نے کانگریس سے قریب کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس یاترا نے عوام اور ہمارے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے۔

شریمتی سونیا گاندھی نے یہ بھی کہا کہ اس بھارت جوڑو یاترا نےیہ بھی پیغام دیاہے کہ ہم عوام کےساتھ کھڑے ہوکر ان کے حقوق کی لڑائی کے لیے تیار ہیں۔شریمتی سونیا گاندھی نےبھارت جوڑو یاترا کےدؤران مختلف دشواریوں کا سامنا کرنے والے کانگریسی کارکنوں بالخصوص اپنے فرزند راہل گاندھی کو مبارکباد بھی دی۔

سابق صدر کانگریس،صدرنشین یوپی اے و رکن پارلیمان شریمتی سونیا گاندھی نےسیشن میں موجود پارٹی قائدین کومشورہ دیاکہ وہ 2024کے پارلیمانی انتخابات میں صدر آل انڈیا کانگریس کمیٹی ملک ارجن کھرگے کی قیادت میں بی جے پی کو شکست سے دوچار کرنے کے لیے کمربستہ ہوجائیں۔