دلیپ کمار کے چند غلط فیصلے
جس کا افسوس خود انہیں زندگی بھر رہا!

بڑے سے بڑا اداکار بعض اوقات کسی اچھی فلم کو فضول سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے ـجب وہ فلم تیار ہوکر سینما اسکرین پر دھوم مچاتی ہے تب اس کے پاس سوائے کفِ افسوس ملنے کے کچھ نہیں ہوتا ـ جیسے مدبر کی حیثیت سے معروف عامر خان نے ” ڈر” اور ” منا بھائی ایم بی بی ایس” جیسی کامیاب فلمیں فضول سمجھ کر مسترد کردیں۔ ـ
دلیپ کمار نے بھی اپنی فلمی زندگی میں متعدد دفعہ مختلف وجوہات کی بنا پر ایسی فلمیں مسترد کردیں جو بعد میں مشہورِ زمانہ ثابت ہوئیں ـ
ذیل میں دلیپ کمار کے ان غلط فیصلوں کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے جن کا افسوس انہیں عمر بھر رہا۔ ـ
1۔ فلم بیجو باورا

ہندی سینما کی اگر بڑی بڑی فلموں کی فہرست مرتب کی جائے تو شاید ہی کوئی سنجیدہ ناقد ” بیجو باورا” (1952) کو نظر انداز کرے ـنوشاد کی میوزک اور محمد رفیع کے گیت اس فلم کی اہم ترین شناخت ہیں۔ ـ
ہدایت کار وجے بھٹ نے اس فلم کے مرکزی کردار کے لیے دلیپ کمار کو چُنا ـ فلم کا بجٹ کم تھا بعض تاریخ دانوں کے مطابق کل بجٹ پانچ لاکھ روپے تھا جس میں سے پچاس ہزار فلم کی ہیروئن نرگس کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ ـ
دلیپ کمار نے اسکرین پلے کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد اپنی پسندیدگی ظاہر کی ـاس زمانے میں دلیپ کمار ایک ایسے سپر اسٹار بن چکے تھے جو فی فلم دیڑھ لاکھ روپے معاوضہ لیتے تھے ۔انہوں نے وجے بھٹ سے بھی اسی معاوضے کا مطالبہ کیا ہدایت کار نے بجٹ کی کمی کا عذر پیش کیا ـدلیپ کمار نے پچیس ہزار کم کر دیے۔ ـ

وجے بھٹ کے لیے یہ بھی زیادہ تھا ـ بات نہیں بنی ـوجے بھٹ دوڑے دوڑے موسیقار نوشاد کے پاس پہنچے اور ان سے دلیپ کمار کو قائل کرنے کی درخواست کی ـ نوشاد نے حتی الامکان کوشش کی لیکن وہ اپنا معاوضہ کم کرنے پر آمادہ نہ ہوئے۔
ـاسی دوران نرگس بھی بیمار پڑ گئیں ـ یک نہ شد دو شد والا معاملہ ہوگیا ـہیرو کا معاوضہ بجٹ سے باہر تھا جبکہ ہیروئن کی طبعیت ناساز تھی ـ ایسے میں وجے بھٹ کو مینا کماری کا خیال آیا ـمینا کماری کو بطورِ چائلڈ آرٹسٹ پہلا موقع انہوں نے ہی دیا تھا ـمیناکماری اس لحاظ سے وجے بھٹ کی بہت عزت کرتی تھیں۔ ـ
مینا کماری نے یہ کہہ کر فلم میں کام کرنے کی حامی بھر لی کہ "آپ مجھے ایک ڈھیلا نہ دیں تب بھی میں آپ کی فلم ضرور کروں گی” ـ
اسی دوران غالباً نوشاد کے مشورے پر وجے بھٹ نے ابھرتے ہوئے نوجوان اداکار بھرت بھوشن کو فلم کی آفر دی ـ وہ انتہائی قلیل معاوضے پر مان گئے۔ ـ
"بیجو باورا” ریلیز ہوتے ہی کھڑکی توڑ ثابت ہوئی ـاس کے گیتوں نے چہار جانب دھوم مچادی ناقدین نے بھی فلم کو خوب خوب سراہا ـ مینا کماری کو "فلم فیئر ایوارڈ” سے نوازا گیا جبکہ بھرت بھوشن راتوں رات اسٹار بن گئے۔ ـ
فلم کی پذیرائی دیکھنے کے بعد دلیپ کمار بہت پچھتائے ـوہ نجی محفلوں میں یہ کہتے پائے گئے کہ کاش کوئی مجھے اس غلط فیصلے سے بزور روک لیتا ـ تاہم تب تک چڑیا کھیت چُگ چکی تھی۔ ـ
2- فلم مدر انڈیا

ہدایت کار محبوب خان ہندی سینما کے عظیم ترین فن کاروں میں گنے جاتے ہیں اور ان کی عظیم ترین تخلیق بلاشبہ "مدر انڈیا” (1957) ہے ـمحبوب خان اس فلم میں نرگس کے "اینگری ینگ مین” بیٹے (برجو) کا کردار دلیپ کمار کو دینے کے خواہش مند تھے۔لیکن لیپ کمار نے اس کردار کو نبھانے سے معذرت کرلی۔ ـ
دلیپ کمار کی دلیل یہ تھی کہ نرگس متعدد فلموں میں میری ہیروئن رہی ہیں اب میں بھلا کیسے ان کو ماں کہوں ، یہ اخلاقی لحاظ سے درست نہ ہوگا ـ محبوب خان نے ان کو قائل کرنے کے لیے متعدد مثالیں دیں، دلائل دیے لیکن دلیپ کمار ٹس سے مس نہ ہوئےـ۔ محبوب خان مایوس لوٹ گئے ـ
دو دن بعد وہ پھر دلیپ کمار کے پاس پہنچے ـ انہوں نے دلیپ کو بتایا کہ انہوں نے اسکرپٹ کو تبدیل کردیاہے ـاب باپ اور بیٹے دونوں کا کردار آپ کریں گے یعنی آپ کا ڈبل رول ہوگا گویا نرگس کے شوہر اور بیٹے دونوں کا کردار دلیپ کمار نبھائیں گے لیکن دلیپ کمار نے یہ تجویز بھی مسترد کردی۔ ـ
ان کے مطابق مسئلہ اب بھی جوں کا توں ہے،میں کسی صورت نرگس کا بیٹا نہیں بنوں گا،یہ میرا آخری اور قطعی فیصلہ ہے۔ ـکوئی راستہ نہ پاکر محبوب خان نے بیٹے کے لیے سنیل دت کو چُنا اور شوہر بنے راج کمار ـ "مدر انڈیا” ہندی سینما کی تاریخ کی بہت بڑی فلم ثابت ہوئی اس نے نہ صرف سنیل دت کے فلمی کیریئر کو مستحکم کردیا بلکہ یہ تاحال بھارت کی واحد فلم ہے جسے آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ ـ
3- فلم پیاسا

ہندی سینما کے سنہری دور کے اہم ترین فن کاروں میں سے ایک ہدایت کار و اداکار گرودت ہیں گرودت کی عظیم ترین تخلیق یقینی طور پر "پیاسا” (1957) ہے۔ ـگرودت نے "پیاسا” کے مرکزی المیہ کردار کے لیے دلیپ کمار کا انتخاب کیا بلاشبہ یہ کردار دلیپ کمار کے لیے ہی تھا گرودت نے کہانی دلیپ کمار کو سنائی ـدلیپ کمار اس وقت بمل رائے کی فلم "دیوداس” کے کردار میں الجھے ہوئے تھے ـ دلیپ کمار "دیو” اور "وجے” کے کردار کو یکساں سمجھ بیٹھے۔ ـ
گرودت نے انہیں تفصیل سے دونوں کرداروں کے درمیان فرق سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ سمجھنے سے قاصر رہے ـ وہ یہی سمجھتے رہے کہ "پیاسا” پنڈت چٹرجی کے ناول کے کردار سے ہی متاثر ہے۔ ـ
دلیپ کمار نے قطعی طور پر اس فلم میں کام کرنے سے انکار کردیا گرودت نے انہیں قائل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ نہ مانے ـسالوں بعد دلیپ کمار نے اپنے اس فیصلے کو غلط قرار دے کر کہا کہ میں اس وقت گرودت کو درست طور پر سمجھ نہیں سکا۔ـ
"پیاسا” ایک سپرہٹ فلم ثابت ہوئی ـساحر لدھیانوی کے نغموں کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے ـ اسے نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر کے فلمی ناقدین نے ایک ماسٹر پیس قرار دیا ـآج بھی یہ عالمی سطح پر دنیا کی پچاس بہترین فلموں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔ ـ
4- فلم سنگم

ہدایت کار و اداکار راج کپور اور دلیپ کمار کی دوستی کی مثال دی جاتی ہے ـیہ دونوں انتہائی گہرے دوست رہے ہیں لیکن انہوں نے صرف ایک فلم "انداز” (1949) میں مشترکہ طور پر کام کیا ہے ـراج کپور، اپنے دوست کے مداح رہے ہیں ان کی خواہش تھی وہ اپنے دوست کے ساتھ ایک دفعہ پھر اسکرین شیئر کریں ۔ـ
راج کپور نے "انداز” کی تھیم پر ٹرائنگل لو اسٹوری "سنگم” (1964) کا منصوبہ بنا کر اسے دلیپ کمار کے سامنے رکھا دلیپ کمار نے اسکرپٹ سننے کے بعد فلم میں کام کرنے سے انکار کر دیا ـیہ راج کپور کے لیے غیر متوقع تھا دلیپ کمار اس بات سے خائف تھے کہ چوں کہ ہدایت کار راج کپور ہیں اس لیے ممکن ہے وہ میرے کردار کو غیر اہم اور اپنے کردار کو مضبوط بنا کر پیش کریں گے۔ ـ
انہوں نے ڈھکے چھپے لفظوں میں راج کپور کو اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا راج نے وعدہ کیا کہ وہ ایسا کچھ نہیں کریں گے فلم میں دونوں کرداروں کا اسکرین ٹائم مساوی رہے گا ـ خاصی بحث و تمحیص کے بعد دلیپ کمار اس شرط کے ساتھ مان گئے کہ فلم کی آخری ایڈیٹنگ راج کپور کے بجائے وہ کریں گے راج اپنے کام میں دخل اندازی برداشت نہیں کرتے تھے سو وہ نہ مانے ـ یوں بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ ـ
راج کپور نے دیو آنند سے بات کی دیو آنند نے بھی معذرت کا راستہ اختیار کیا ـ بالآخر قرعہِ فال راجندر کمار کے نام نکلا ـفلم "سنگم” بھی ایک سدا بہار فلم بن گئی اگر دلیپ کمار اس کا حصہ بنتے تو شاید اس کا اعتبار مزید بڑھ جاتا۔ـ
5- فلم زنجیر

اسکرین رائٹرز سلیم جاوید "مدر انڈیا” والے قضیے سے واقف تھے انہوں نے "مدر انڈیا” کے "اینگری ینگ مین” کردار کو دوبارہ کسی اور کہانی کا حصہ بنایا ـاس کردار کو انہوں نے دلیپ کمار کو سامنے رکھ کر تراشا ـتھا لیکن اس وقت ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب دلیپ کمار نے "اینگری ینگ مین” بننے سے انکار کر دیا۔ ـ
یہ کردار فلم "زنجیر” (1973) کے انسپکٹر وجے کھنہ کا تھا ـجاوید اختر نے ایک دفعہ پھر زیادہ تفصیل کے ساتھ کردار کو مکمل جُزئیات کے ساتھ بیان کیا ـ دلیپ کمار سکون سے سنتے رہے ـ جاوید اختر کی خاموشی کے بعد دلیپ کمار نے انہیں کہا کہ یہ کردار سیدھا اور تیز ہے،اس میں ایسی کوئی جگہ ہی نہیں ہے جس میں رنگ بھرا جاسکے لہذا میں اس کردار کو نہیں کرسکتا۔ ـ
ہدایت کار پرکاش مہرہ ،سلیم خان اور جاوید اختر ان کو قائل کرنے کی کوشش میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے لیکن وہ نہ مانے ـوہ اس نکتہ پر قائم رہے کہ یہ کردار بےجان اور بہت زیادہ تیز ہے ـتھک ہار کر یہ تینوں لوٹ گئے۔ ـ
دلیپ کمار کے بعد دیو آنند کو آفر کی گئی لیکن انہوں نے ذاتی مصروفیات کا عذر پیش کیا ان کے بعد یہ راج کمار کے در پر پہنچے راج کمار کو پسِ منظر کا علم تھا اس لیے انہوں نے اسے اپنی توہین سے تعبیر کیا کہ جب کچھ نہ ملا تب یہ میرے پاس آئے ہیں ـسو وہاں سے بھی انکار ملا۔
ـبالآخر نظرِ انتخاب نوآموز امیتابھ بچن پر ٹھہر گئی ـفلم "زنجیر” ایک رجحان ساز فلم ثابت ہوئی ـاس فلم نے ہندی سینما کی ہیئت ہی بدل دی اسی فلم سے "اینگری ینگ مین” کا کردار 70 کی پوری دہائی پر چھایا رہا یہ تو سب ہی جانتے ہیں "زنجیر” نے امیتابھ بچن کو سپراسٹار کے منصب پر سرفراز کر دیا ـ
"زنجیر” کی روایت شکنی نے دلیپ کمار کو ایک دفعہ پھر احساس دلایا کہ وہ دوبارہ غلط فیصلہ کر بیٹھے ہیں ـ تاہم ٹرین چھوٹ چکی تھا۔
مضمون نگار: ذوالفقار علی زلفی
کراچی۔ پاکستان
All Film Posters Credit : Youtube

