وقارآباد ضلع کے ایک ریسارٹ میں اڈوینچر گیم ، حیدرآباد کے سافٹ وئیر انجینئر کی موت

وقارآباد ضلع کے ایک ریسارٹ میں اڈوینچر گیم
سکندرآباد کے ایک سافٹ وئیر انجینئر کی موت

حیدرآباد/وقارآباد: 30۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

تلنگانہ ریاست کے وقارآبادضلع میں موجود ایک ریسارٹ میں حیدرآباد سے آئے ہوئے چند افراد کی ٹیم میں شامل ایک نوجوان کی اڈوینچر گیم کھیلنے کے دؤران باؤلی میں غرق ہوجانے سے موت واقع ہوگئی۔

دھارور منڈل کے گودماگوڑہ میں موجود ایک اڈوینچر کلب میں کل ہفتہ کی شام دیر گئےیہ واردات پیش آئی ہے۔

اطلاعات کےمطابق سکندرآباد سے کل ایک ٹیم کیمپ کی غرض سے ریسارٹ پہنچی تھی۔اس ٹیم نے کسی شئے کو چھپانے کے بعد تلاش کرنے  والے اور دیگر اڈوینچر گیمز میں حصہ لیا۔اس ٹیم کا ساتھی سائی جو کہ سافٹ وئیر انجینئر بتایا گیا ہے چھپائی ہوئی چیز کو تلاش کرنے کی غرض سے ریسارٹ میں موجود باؤلی میں کود گیا۔جب زیادہ وقت تک یہ نوجوان باؤلی سے باہر نہیں آیا تو وہاں موجود اس کے ساتھیوں اور ریسارٹ کے ملازمین نے باؤلی سے ان نوجوان کو نکال کرایک خانگی ہسپتال منتقل کیا جہاں بعد معائنہ ڈاکٹرز نے اس نوجوان سائی کو مردہ قرار دیا۔

اس سلسلہ میں سرکل انسپکٹر پولیس دھارور تروپتی راجونے بتایا کہ حیدرآباد اڈوینچر کلب کی جانب سے ان کی ملکیت اس گودما گوڑہ کے ریسارٹ میں اڈوینچر کھیلوں میں حصہ لینے کی غرض سے کل ایک ٹیم حیدرآباد سےپہنچی تھی اور سائی نامی نوجوان باؤلی میں غرق ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کی تحقیقات کی جاری ہیں اور یہ واضح نہیں ہوپایا ہےکہ اس نوجوان نے اڈوینچر گیم کے دوران خود باؤلی میں چھلانگ لگائی تھی یا اتفاقی طورپر یہ حادثہ پیش آیاہے۔ساتھ ہی سرکل انسپکٹر پولیس دھارور تروپتی راجو نے کہا کہ متوفی کے افراد خاندان کی شکایت پر کیس درج کرتے ہوئے کارروائی کی جائے گی۔

 

اطلاعات کےمطابق حیدرآباد اڈوینچرکلب کی جانب سےایسے خوفناک کھیلوں کے لیے اس ریسارٹ کو نوجوانوں کی ٹیموں کو لایا جاتا ہے۔اور گودما گوڑہ کے اس اڈوینچر کلب میں کئی خوفناک اور جان لیوا کھیلوں کا انعقاد عمل میں لایا جاتا ہے۔

دوسری جانب اس علاقہ میں ایسی شکایات عام ہیں کہ اس اڈوینچر ریسارٹ میں مختلف خوفناک کھیلوں کےذریعہ تفریح کی غرض سےآنے والوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے! یاد رہے کہ وقارآباد اور اننت گیری ہلز کےسیاحتی علاقہ میں کئی ریسارٹس موجود ہیں۔پولیس سےمطالبہ کیاجارہا ہے کہ ایسے ریسارٹس اور فارم ہاؤز کی تلاشی لیتے ہوئے ان اڈوینچر کھیلوں پر پابندی عائد کی جائے۔اور ان ریسارٹس کوصرف تعطیلات یا عام دنوں میں حیدرآباد اور دیگر مقامات سے تفریح کی غرض سے آنے والے خاندانوں یا گروپس کو ہی اجازت دی جائے۔

یاد رہے کہ حیدرآباد سے 70کلومیٹر کے فاصلہ پر موجودپرفضا سیاحتی مقام اننت گیری ہلز کی سیاحت اور وہاں موجود مندر کے درشن کے علاوہ وقارآباد ضلع میں ہی موجود کوٹ پلی اور سرپن پلی پراجکٹس میں کشتی رانی کی غرض سے بالخصوص اتوار اور دیگر تعطیلات کے موقع پر سینکڑوں عوام افراد خاندان کے ساتھ آتے ہیں۔جبکہ کیمپ کی غرض سے بھی کئی لوگ ضلع وقارآباد میں موجود ریسارٹس کا رخ کرتے ہیں۔