حیدرآباد میں 6 سالہ لڑکی کی عصمت ریزی اور قتل
عوام کا زبردست احتجاج،پولیس پر پتھراؤ،خاطی کے انکاؤنٹر کا مطالبہ
حیدرآباد :10۔ستمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
حیدرآباد کے سعید آباد علاقہ میں واقع سنگارینی کالونی میں ایک نابالغ معصوم لڑکی کی عصمت ریزی اور قتل کا واقعہ پیش آیا ہے جس کے خلاف بڑی تعداد میں اس علاقہ کے عوام نے رات دیر گئے سے آج دوپہر تک زبردست احتجاج منظم کرتے ہوئے اس درندگی میں ملوث خاطی کے انکاؤنٹر کا مطالبہ کیا۔نصف شب کے بعد مظاہرین اور پولیس میں تصادم بھی ہوا برہم احتجاجیوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔
حیدرآباد میں سنسنی پیدا کرنے والے اس واقعہ کی تفصیلات کے مطابق چندم پیٹ منڈل ضلع نلگنڈہ کا ساکن راجو نائیک تلاش روزگار کے سلسلہ میں حیدرآباد منتقل ہوکر آٹو چلاتے ہوئے اپنے خاندان کی کفالت کررہا ہے اس جوڑے کو تین بچے ہیں۔
کل شام مکان کے باہر کھیلتے ہوئے اچانک اس کی بڑی لڑکی 6 سالہ لاپتہ ہوگئی جسے تمام مقامات پر تلاش کرلیا گیااور مسجد، مندر چرچ کے مائیک سے لڑکی کے لاپتہ ہونے کا اعلان بھی کروایا گیا۔
جب لڑکی کا کوئی پتہ نہیں چلا تو پولیس میں شکایت کی گئی۔پولیس نے پوری کالونی کی تلاشی لی تاہم لاپتہ لڑکی کا کوئی سراغ نہیں ملا تو پولیس نے اس علاقہ میں موجود تمام سی سی کیمروں کے فوٹیج کا مشاہدہ کیا اس کے بعد بھی لڑکی کا سراغ لگانے میں مایوسی ہی ہوئی۔
دوسری جانب لاپتہ لڑکی کے پڑوس میں رہنے والا راجو 30 سالہ چند دنوں سے شراب نوشی کا عادی ہوکر سرقہ کی وارداتوں میں ملوث ہے
آوارہ گردی کرتے ہوئے راجو روز شراب کے نشہ میں اپنی ماں ،بیوی اور بچوں کو زدوکوب کرتا اور انہیں اذیتیں دیا کرتا جس سے تنگ آکر اس کی بیوی بچوں سمیت مائیکہ چلی گئی اور اس کی نفسیاتی حرکتیں دیکھ کر اس ماں بھی کہیں چلی گئی اس کے بعد سے وہ مکان میں تنہا رہتا ہے اور مزدوری سے ملنے والی رقم سے شراب نوشی اور دیگر شوق پورے کرتا۔

راجو اپنے پڑوس کی اس لڑکی کو بہلا پھسلاکر اپنے مکان میں لے گیاعصمت ریزی کے بعد اس لڑکی کا قتل کرکے نعش کو بوریا میں باندھ کر اپنے مکان کو مقفل کرکے فرار ہوگیا۔
جب کالونی میں اور اطراف کے علاقوں میں تلاش کے بعد بھی لڑکی کا کوئی پتہ نہیں چلا تو لاپتہ لڑکی کی دادی نے اپنے پڑوسی راجو پر شبہ کا اظہار کیا جس پر مقامی افراد نے رات دس بجے راجو کے مکان کا قفل توڑنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے روک دیا بعدازاں جب شک پختہ ہوگیا تو راجو کے مکان کا قفل توڑا گیا تو اندر بوریا میں معصوم لڑکی کی نعش موجود تھی۔
جس کے بعد مقامی عوام نے پولیس کو بعد پنچنامہ نعش کو پوسٹ مارٹم کی غرض سے اسپتال منتقل کرنے سے روکتے ہوئے احتجاج کا آغاز کردیا ان کا مطالبہ تھا کہ پہلے خاطی راجو کو گرفتار کرکے ان کے حوالے کیا جائے اس کے بعد ہی نعش کو اسپتال منتقل کیا جائے
ان احتجاجیوں کا مطالبہ تھا کہ دِشا انکاؤنٹر کی طرز پر راجو کا بھی انکاؤنٹر کیا جائے۔اس موقع پر احتجاجیوں نے پولیس کے خلاف نعرے بھی لگائے۔
پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں نے جائے مقام پر پہنچ کر تیقن دیا کہ خاطی کو گرفتار کرتے ہوئے اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا تاہم احتجاجیوں پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا اور حالات بے قابو ہونے لگے اور احتجاجی اپنے مطالبہ پر ڈٹے رہے۔
حالات کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ عہدیداروں نے 300 پولیس ملازمین کو جائے احتجاج پر طلب کرلیا اور آخر میں پولیس نے زبردستی لڑکی کی نعش کو وہاں سے اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی جس پر مقامی احتجاجیوں نے پولیس پر پتھروں،مٹی کے تودوں اور لکڑیوں سے حملہ کردیا
اس دؤران پولیس اور احتجاجیوں میں دھکم پیل بھی ہوئی جس میں کئی افراد زخمی ہوگئے جن میں احتجاجی خواتین اور پولیس ملازمین شامل ہیں۔
احتجاجی چمپاپیٹ۔ناگرجنا ساگر روڈ پر راستہ روکو احتجاج منظم کرتے ہوئے سڑک پر بیٹھے رہے۔
آج صبح ضلع کلکٹر حیدرآباد ایل۔شرمن ،ڈی سی پی ایسٹ زون رمیش ریڈی سنگارینی کالونی پہنچ گئے اور متاثرہ لڑکی کے والدین اورمقامی احتجاجی عوام سے بات کرتے ہوئے اعلان کیا کہ فوری طور پر متاثرہ لڑکی کے والدین کو 50 ہزار روپئے کی ابتدائی امداد دی جائے گی اور اس واقعہ میں ملوث راجو کو جلد گرفتار کرتے ہوئے سزاء کو یقینی بنایا جائے گا عہدیداروں اور احتجاجیوں کے درمیان بات چیت جاری ہے۔

