سدرامیا کا کرناٹک کے وزیراعلیٰ اور نائب وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ڈی کے شیو کمار کا انتخاب، 20 مئی کولیں گے حلف

سدرامیا کا کرناٹک کے وزیراعلیٰ اور نائب وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ڈی کے شیو کمار کا انتخاب
20 مئی کوتقریب حلف برداری، جنرل سیکریٹری کانگریس کے سی وینو گوپال کا پریس کانفرنس میں اعلان 

بنگلورو : 18/مئی
(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

13 مئی کو ہونے والی رائے شماری کے بعد کرناٹک میں برسر اقتدار بی جے پی کو شکست سے دوچار کرتے ہوئے کانگریس نے زبردست اکثریت کے ساتھ تاریخی کامیابی درج کروائی تھی۔تاہم گذشتہ پانچ دنوں سے یہ تجسس برقرارتھاکہ کانگریس وزیراعلیٰ کرناٹک کی حیثیت سے کس کا انتخاب کرتی ہے۔؟ سابق وزیراعلیٰ سدرامیا کا یا صدر کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی ڈی کے شیوکمار کا یا کسی تیسرے کا؟

آج یہ تجسس اس وقت ختم ہوا جب پی سی وینو گوپال،قومی جنرل سیکریٹری کانگریس نے پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 20 مئی کو 30-12 بجے دوپہر وزیراعلیٰ کرناٹک کی حیثیت سے سدرامیا اور نائب وزیراعلیٰ کےطور پر ڈی کے شیوکمار اپنے عہدوں کا حلف لیں گے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ڈی کے شیو کمار پارلیمانی انتخابات تک صدر کرناٹک پردیش کانگریس کے عہدہ پر بھی قائم رہیں گے۔اس طرح کانگریس نے وزیراعلیٰ کرناٹک کے طور پر سدرامیا کے نام پر اپنی مہر ثبت کردی اورساتھ ہی ڈی کے شیو کمار کا نائب وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے انتخاب عمل میں لایا گیا۔

یاد رہے کہ 224 رکنی کرناٹک اسمبلی کے لیے 10 مئی کو رائے دہی ہوئی تھی اور 13 مئی کو رائےشماری کے بعد کانگریس نے حکومت بنانے کے لیے درکار 113 کے جادوئی ہندسے کوعبور کرتے ہوئے 136 اسمبلی حلقوں میں کامیابی حاصل کی تھی جبکہ بی جے پی 65 اسمبلی نشستوں پر کامیابی تک سمٹ کر رہ گئی تھی۔جنتادل سیکولر 19 اسمبلی حلقوں میں اپنی کامیابی درج کروا پائی۔

کرناٹک کے 24 ویں وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے اپنے عہدہ کا حلف لینے والے سدرامیا میسور ضلع میں 3 اگست 1947ء کو پیدا ہوئے۔75 سالہ سدرامیا نے کرناٹک کے وزیراعلیٰ کے طور پر دوسری مرتبہ عہدہ سنبھالاہے۔انہوں نے قبل ازیں 13 مئی 2013ء تا 17 مئی 2018ء کرناٹک کے 22 ویں وزیراعلیٰ کےطور پر سدرامیا کرناٹک کے ایسے دوسرے وزیراعلیٰ بن گئے تھے جنہوں نے اپنے اس عہدہ کی پانچ سالہ معیادمکمل کی تھی۔

وزیراعلیٰ کرناٹک سدرامیا اب تک بطور آزاد امیدوار ایک مرتبہ،ایک مرتبہ جنتا پارٹی امیدوار،چارمرتبہ جنتادل امیدوار کے طور پر اور 6 مرتبہ کانگریس امیدوار کی حیثیت سےجملہ 12 مرتبہ کرناٹک اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔حالیہ اسمبلی انتخابات میں وہ ورونا اسمبلی حلقہ سے 46 ہزار سے زائد ووٹوں کی اکثریت سےمنتخب ہوئے ہیں۔اس سےقبل وہ چامنڈیشوری حلقہ اسمبلی سے 8 مرتبہ بادامی سے ایک مرتبہ اور حلقہ اسمبلی ورونا سے تین مرتبہ بلاءشکست انتخابات جیت چکے ہیں۔وہ جنتادل اور جنتادل سیکولر کی حکومت میں دو مرتبہ نائب وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں۔کسان گھرانے میں پیدا ہونے والے وزیر اعلیٰ کرناٹک سدرامیا نے میسور یونیورسٹی سے بی ایس سی اور ایل ایل بی کی تکمیل کی ہے۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق اتوار کی شام بنگلورو کی شنگریلا ہوٹل میں کانگریس کے مشاہدین نے ارکان اسمبلی سے انفرادی بات چیت کی اور ان سے تحریری طور پر یہ بیا ن لیاکہ وہ کس کے حق میں ہیں۔بتایاجاتا ہےکہ 80 سے زائد ارکان اسمبلی نے سدرامیا کو وزیر اعلیٰ بنانے کی خواہش کا اظہار کیا اور اسی بنیاد پر کانگریس ہائی کمان نے بھی سدرامیا کو وزیر اعلیٰ بنانے پر رضامندی ظاہر کر دی۔!!

کانگریس کی شاندار کامیابی کے بعد جہاں جوڑ توڑ اور خرید و فروخت ناممکن تھی تو کانگریس کےخلاف سوشل میڈیا اور گودی میڈیا کے ایک گوشہ میں ایک منظم مہم شروع کردی گئی تھی۔یہ من گھڑت خبریں چلنے لگی تھیں کہ ڈی کے شیو کمار وزیراعلیٰ کی کرسی کے دعویدار ہیں اور ان کی جانب سے بغاوت یا پارٹی چھوڑنے کا امکان ہے۔

جس کے بعد ڈی کے شیو کمار نے کل اعلان کیاتھاکہ وہ پارٹی کے لیے ہمیشہ سے وفادار ہیں گے۔انہوں نےخود کو کانگریس کےلیے وقف کر دیا ہے پارٹی ان کو جیساچاہے استعمال کرے وہ تیار ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے انتباہ دیاتھاکہ اگر ان کےتعلق سے کوئی غلط خبریں چلائی گئیں تو وہ ان کے خلاف عزت ہتک کا دعویٰ کریں گے۔

 

دوسری جانب موجودہ صدر کرناٹک وقف بورڈ مولانا شفیع سعدی کی جانب سے کیے گئے مطالبہ کو سوشل میڈیا پر وائرل کردیا گیا کہ کانگریس ٹکٹ پر جو 9 مسلم ارکان اسمبلی کامیاب ہوئے ہیں ان میں سے ایک کو ڈپٹی چیف منسٹر بنایا جائے اور ساتھ ہی وزارت داخلہ، فینانس اور صحت کے بشمول جملہ پانچ اہم وزارتیں دی جائیں۔

سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے اس بات کا انکشاف کرتےہوئے اس پروپگنڈہ کا مضحکہ اڑایا کہ مولانا شفیع سعدی کا تعلق خود بی جے پی سے ہے جو کہ حجاب معاملہ کے وقت مکمل خاموش رہے تھے تو اب ان کی جانب سے کانگریس سے یہ مطالبہ کیا معنی رکھتا ہے؟

اس کے بعد پاکستان کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے نام سے ایک فیک اور فوٹو شاپڈ ٹوئٹ کو وائرل کرتے ہوئے اکثریتی طبقہ کو ورغلانے کی کوشش کی گئی جس میں اردو اور انگریزی میں لکھا تھا کہ "میں کانگریس کو منتخب کرنے کے لیے کرناٹک کے عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں مجھے امید ہے کہ کانگریس ہماری ایس ڈی پی آئی کےساتھ مل کر ہندوستان میں اسلام کی مضبوطی اور کرناٹک کی خودمختاری کے لیے کام کرے۔” اس نقلی پوسٹر کو خود بی جے پی کے سابق رکن راجیہ سبھا سبرامنین سوامی نےبھی ٹوئٹ کرتےہوئے پوچھا کہ آیا یہ سچ ہے؟مجھے واٹس ایپ پر موصول ہواہے۔” جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کرناٹک میں کانگریس کی کامیابی کے بعد کس طرح کا جھوٹ پھیلایا گیا؟

WARNING FOR COPY PASTE EXPERT SO CALLED JOURNALISTS 

اسی طرح ٹوئٹر سمیت سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ خوفناک اور ملک دشمن پروپگنڈہ یہ کیا گیا کہ کرناٹک میں کانگریس کی کامیابی کے بعد بھٹکل جو کہ مسلم آبادی والا علاقہ ہے میں پاکستانی پرچم لہرائے گئے۔جبکہ وہاں قومی یکجہتی کے فروغ کے طورپر اسلامی، عیسائی اور زعفرانی جھنڈے ایک ساتھ لہرائےگئےتھے۔ فیاکٹ چیکر محمد زبیر نے اس تمام جھوٹ اور بدنیتی پرمبنی پروپگنڈہ کی ہوا نکال دی کہ وہ پرچم پاکستانی نہیں تھا بلکہ اسلامی پرچم تھا۔اسی طرح کانگریس کی کامیابی کے بعد بیلگام میں موافق پاکستان نعروں کا نقلی ویڈیو بھی وائرل کیا گیا۔