تلنگانہ میں ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق کل سے اسکولس کا آغاز
طلبہ کی حاضری لازمی نہیں:وزیرتعلیم سبیتا اندرا ریڈی کا صحافتی بیان
حیدرآباد:31۔اگست(سحرنیوزڈاٹ کام؍پریس نوٹ)
ریاستی وزیرتعلیم مسز پی۔سبیتا اندرا ریڈی نے کہا ہے کہ ریاستی ہائی کورٹ کی ہدایت کے عین مطابق ریاست تلنگانہ میں سرکاری گروکل اسکولس اور ہاسٹلوں کو چھوڑ کر تمام سرکاری اور خانگی اسکولوں کا حسب اعلان کل یکم؍ستمبر سے آغاز عمل میں لایا جارہا ہے۔
وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندرا ریڈی نے اپنے صحافتی بیان میں کہا ہے کہ اسکولوں کے آغاز کے بعد طلبہ کی حاضری لازمی نہیں ہوگی اور انہوں نے اسکول انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ طلبہ کے سرپرستوں اور والدین پر ان کے بچوں کو اسکول روانہ کرنے کے لیے دباؤ نہ ڈالیں۔
وزیرتعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے کہا ہے کہ خصوصی کلاسیس کا انعقاد یا آن لائن کلاسیس کا نظم کیا جائے اس کا فیصلہ اسکول انتظامیہ خود کرسکتا ہے۔

ساتھ ہی وزیرتعلیم نے ہدایت دی ہے کہ اسکول انتظامیہ طلبہ سے کوئی حلف نامہ طلب نہ کرے۔
ریاستی وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندرا ریڈی نے ہدایت دی ہے کہ قبل ازیں طئے کردہ کوویڈ قواعد کے مطابق تمام محکمہ جات کے عہدیدار آپسی تال میل کے ذریعہ اسکولس میں تمام ممکنہ اقدامات کے ذریعہ بہتر تعلیمی نظم کو یقینی بنائیں۔
یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ ماہرین کی جانب سے کوویڈ وباء کی تیسری لہر کے انتباہ اور اندیشوں کے دؤران یکم ستمبر سے اسکولس کے آغاز کے خلاف ایک خانگی ٹیچر بالا کرشنا نے مفاد عامہ کے تحت ایک درخواست ریاستی ہائی کورٹ میں داخل کی تھی اور اسکولس کے آغاز کو روکنے کے لیے حکومت کو ہدایت دینے کی اپیل کی تھی۔
اس درخواست پر آج ریاستی ہائی کورٹ میں سماعت کے دؤران کارگزار چیف جسٹس ایم۔ایس رام چندرا راؤ کی قیادت میں جسٹس ٹی۔ونودکمار پر مشتمل بینچ نے ایک ہفتہ کے لیے حکومت کے جی او پر روک لگاتے ہوئے ہدایت دی تھی کہ اسکولس کی کشادگی کے بعد طلبہ کی حاضری کو لازمی قرار نہ دیا جائے۔

ساتھ ہی ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت جاری کی تھی کہ جو خانگی اسکولس خصوصی کلاسیس کا نظم نہ کریں ان کے خلاف اور جو طلبہ اسکولس نہ آئیں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے اور نہ ہی طلبہ پر اسکولس آنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔
اسی طرح معزز ہائی کورٹ نے یہ ہدایت بھی جاری کی تھی کہ ریاست میں موجود ہاسٹلس اور گروکل اسکولس بند ہی رکھے جائیں۔

