منے گوڑہ کے سرپنچ کو 13 لاکھ روپئے کی رشوت لیتے ہوئے اے سی بی نے رنگے ہاتھوں دبوچ لیا
تلنگانہ/وقارآباد 5۔مارچ (سحرنیوزڈاٹ کام) ‘
آج تک سرکاری ملازمین کے رشوت طلب اور قبول کرتے ہوئے ہی محکمہ اینٹی کرپشن بیوروکے جال میں پھنسنے کے واقعات عام تھے لیکن آج وقارآباد ضلع میں ایک عوامی منتخبہ نمائندہ سرپنچ 13 لاکھ روپئے کی رقم بطور رشوت طلب اور قبول کرتے ہوئے محکمہ اینٹی کرپشن بیورو کے جال میں پھنس گیا۔

آج شام حیدرآباد کے مضافاتی آریا میسماں مندر، راجندرنگر کے قریب محکمہ اینٹی کرپشن بیورو کے عہدیداروں نے دھاوہ منظم کرتے ہوئے ضلع وقارآباد کے پوڈور منڈل کے منے گوڑہ کے سرپنچ چیلاپورم ونود گوڑ کو اس وقت دبوچ لیا جب وہ اپنی کار میں بیٹھ کر بطور رشوت طلب کیے گئے 20 لاکھ روپئے میں سے 13 لاکھ روپئے کی نقد رقم حاصل کررہا تھا۔
بعد ازاں سرپنچ چیلاپورم ونود گوڑ کو قریب ہی موجود شاداں میڈیکل کالج و ہسپتال میں طبی معائنہ کے بعد باقاعدہ گرفتار کرلیا۔اور اس سلسلہ میں ایک کیس درج رجسٹر کرکے محکمہ اینٹی کرپشن بیورو مزید تحقیقات میں مصروف ہے۔
ڈی ایس پی اینٹی کرپشن بیوروضلع رنگاریڈی سوریہ نارائن کی قیادت میں کی گئی اس کارروائی کی تفصیلات کے بموجب منے گوڑہ میں مجاہد عالم خان نے اپنے خانگی ملازم محمد ساجد باشاہ ساکن ملے پلی حیدرآباد کو منے گوڑہ میں 20 ملگیات پرمشتمل کامپلیکس کے تعمیراتی کاموں کے آغاز کی ہدایت دی تھی جسکی تعمیر کیلئے انہوں نے پہلے ہی گرام پنچایت اور ڈی ٹی سی پی سے اجازت نامہ حاصل کرلیا تھا۔
تاہم سرپنچ منے گوڑہ ونود گوڑ اراضی مالک سے بطور رشوت 20 لاکھ روپئے بطور رشوت طلب کیا تھا یا پھر اس کامپلیکس میں سے ایک شاپ اسکے نام کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے عہدہ کا ناجائز فائدہ اٹھارہا تھا۔
اس کی شکایت ساجد باشاہ نے محکمہ اینٹی کرپشن بیورو سے کی تھی جس پر آج 13 لاکھ روپئے حیدرآباد کے مضافات میں ادا کیے جارہے تھے کہ اینٹی کرپشن بیورو کی ٹیم نے جو پہلے ہی جال بچھا رکھا تھا نے دھاوہ منظم کرتے ہوئے رشوت کی رقم 13 لاکھ روپئے ضبط کرتے ہوئے سرپنچ نوین گوڑ کو رنگے ہاتھوں پکڑلیا۔
اس سلسلہ میں ڈائرکٹر جنرل آف پولیس اینٹی کرپشن بیورو حیدرآباد۔تلنگانہ نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم یا منتخبہ عوامی نمائندہ کی جانب سے اگر کسی کام کے لیے رشوت طلب کی جاتی ہے تو فوری طورپر اینٹی کرپشن بیورو کے ٹول فری نمبر ” 1064 ” پر اطلاع دیں تو ان رشوت خور عہدیداروں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ آج رشوت کی رقم لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے منے گوڑہ کے سرپنچ ونود گوڑ کو گزشتہ سال اس وقت کی ضلع کلکٹر محترمہ مسرت عائشہ خانم کے ہاتھوں ” بہترین سرپنچ ” کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔

