سابق وزیر و کانگریس کے سینئر قائدسلمان خورشید کی کتاب کے خلاف احتجاج
نینی تال میں موجود ان کے مکان میں ہندو توا حامیوں نے آگ لگادی
نینی تال :15۔نومبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
سابق مرکزی وزیر و کانگریس پارٹی کے سینئر قائد سلمان خورشید کے مکان واقع نینی تال،اتراکھنڈ میں ہندوتوا حامیوں کے ایک گروپ نے آج حملہ کرتے ہوئے ان کے مکان پر پتھر برسائے، توڑ پھوڑ کی اور آگ لگادی۔
سلمان خورشید نے اس حملے کے ویڈیوس اور تصاویر ٹوئٹر اور فیس بک پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ” یقیناً میرے دوست اس اقدام کے بعد سمجھ گئے ہوں گے کہ میرا یہ کہنا غلط نہیں تھا کہ کیا یہ ہندوازم نہیں ہے!!
https://www.facebook.com/100044470298070/videos/pcb.429559578536382/194200482887085
یاد رہے کہ سلمان خورشید نے دو دن قبل ” سن رائز اوور ایودھیا،نیشن ہوڈ ایٹ اور ٹائمس” نامی اپنی کتاب منظر عام پرلائی ہے۔جس کے بعد سے اس کتاب پر ملک بھر میں تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔اس کتاب میں سلمان خورشید جوکہ ایک سینئر وکیل بھی ہیں نے لکھا ہے کہ پہلے کے ہندوتوا اور موجودہ ہندوتوا میں بہت فرق ہے۔
ساتھ ہی سلمان خورشید نے اپنی اس کتاب میں موجودہ ہندوتوا کا موازنہ دہشت گرد تنظیموں داعش اور بوکو حرام کے ساتھ کیا ہے۔
سلمان خورشید کی اس کتاب کے منظر عام پر آنے کے بعد آر ایس ایس،بی جے پی قائدین،ہندو تنظیموں اور ہندوتوا حامی اس کتاب کے خلاف شدید احتجاج کررہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس کتاب سے ہندووں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔کانگریس پارٹی سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ سلمان خورشید کو کانگریس سے خارج کیا جائے۔
وہیں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ سابق مرکزی وزیر و کانگریس پارٹی کے سینئر قائد سلمان خورشید کی کتاب سن رائز اوور ایودھیا پر پابندی عائد کی جائے۔
جبکہ دہلی اور جئے پور ہائی کورٹ میں بھی اس کتاب پر پابندی عائد کرنے کے مطالبہ پرمشتمل درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔
دوسری جانب اس ملک کے دانشور طبقہ کی جانب سے سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ اب جبکہ ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں تو ایسے وقت میں کانگریس کے سینئر قائد و سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید کی جانب سے اس متنازعہ کتاب کو منظر عام پر لانے اور ہندوتوا کے داعش اور بوکو حرام جیسی تنظیموں سے موازنہ کی ضرورت کیوں پڑگئی تھی؟ اور اس سے کس پارٹی کو فائدہ ہوگا اور کونسی پارٹی نقصان سے دوچار ہوگی؟؟

