احمق بشر مثال بھی کتے کی لائے گا
ہوگا جہاں جہاں بھی جہاں میں وفا کا ذکر
روسی فوج کی جانب سے چھوڑ دیا گیا تربیت یافتہ کتا
علاج اور دیکھ بھال کے بعد یوکرین کی فوج کا وفادار بن گیا
نئی دہلی:27۔مئی(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)
چند انسانوں کےمتعلق ان کے دوست و احباب کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ انہیں جتنا بھی پیار،محبت اور اپنا پن دو ان کی جتنی بھی مدد کرو وہ ہرحال میں چالباز اور دھوکہ باز ہی نکل جاتے ہیں!کیونکہ عادت بدلی جاسکتی ہےلیکن خصلت نہیں!وہیں جانوروں کےمتعلق خود انسان کہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ انہیں پیار اور اپناپن دینے والے اپنے مالک کے وفادار بن کر رہتے ہیں۔
وفاداری کی جب بھی کوئی مثال دی جاتی ہے تو زیادہ ترانسان خود ہی کتوں کی مثال دیتے ہیں۔کہ اس سے زیادہ وفادارجانور کوئی اورنہیں! شاید یہی وجہ ہے کہ انسانوں میں مہنگی قیمتوں پر خریدکر کتے اور بلیوں کو پالنے اور ان کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کا رواج بڑھتا جارہا ہے؟
لیکن روسی فوج کے ایک کتے کی تصاویر اور تفصیلات ان دنوں سوشل میڈیا پروائرل ہیں۔جسے روسی فوج بیمار اور بھوک کی حالت میں لاوارث چھوڑکر چلی گئی تھی۔تاہم یوکرین کی فوج نے اس کتے کو انسانی ہمدردی کامظاہرہ کرتے ہوئے اپنی تحویل میں لےکر اس کا بہتر علاج کروایا اور اس کی ایسی دیکھ بھال کی کہ وہ مکمل صحتمند اور تندرست ہوگیا۔اب یہی روسی کتا یوکرینی فوج کی ہمدردی اور اپنائیت سے اتنا متاثر ہوگیا کہ وہ اپنے پرانے مالکین روسی افواج کے خلاف یوکرینی فوج کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے ان سے وفاداری میں مصروف ہے۔
اطلاعات کے مطابق 24 فروری کو یوکرین پر روس نےحملہ کیا تھا اور تین ماہ سے ان دونوں ممالک کے درمیان جنگ جاری ہے۔یوکرینی فوج نے اپنے علاقہ مائکولیو کو روس کی فوج کے قبضہ سے جب آزاد کروالیا تو انہیں وہاں ایک بیمار،لاغر اور بھوک سے پریشان کتا جس کا نام "ماکس” بتایاگیا ہے دستیاب ہوا۔جسے روسی فوج اسی حالت میں چھوڑکر چلی گئی تھی۔روسی فوج کو ان کا یہ کتا ماکس یوکرینی فوج کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں اور دیگر زیرزمین دھماکو مادہ سونگھ کر واقف کروادیا کرتا تھا۔
بیلجین ملی نوئس کی نسل سے تعلق رکھنے والے اس کتے کی عمر تین سال بتائی جارہی ہے۔یوکرینی فوج نے اس کتے کو ہسپتال منتقل کیا،اس کی اچھی دیکھ بھال کی اور اپنے حساب سے اس کتے کو فوجی تربیت بھی دی اب یہ روسی کتا یوکرین کی فوج کا ایک حصہ بن گیا ہے اور یہ یوکرین کی فوج کے ساتھ روس کی فوج سے لڑائی میں مصروف ہے۔

یہ کتا اب وہی کام یوکرینی فوج کے لیے کررہا ہے جو کبھی روس کی فوج کے لیے کیا کرتا تھا یعنی اب وہ روسی فوج کی جانب سے بچھائی گئیں بارودی سرنگوں اور دھماکو مادوں کا پتہ سونگھ کر یوکرین کی فوج کو آگاہ کردیتا ہے۔یوکرین نیشنل گارڈ سے تعلق رکھنے والے ڈی میتری نے میڈیا کو بتایا کہ یہ کتا ماکس اب تمام فوجیوں کا پسندیدہ کتا بن گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب یہ کتا یوکرین کی فوج کو دستیاب ہوا تھا تب بہت بیمار،بھوکا اور لاغر تھا جس کی یوکرین کے فوجیوں نے دیکھ بھال کی اب وی یوکرینی فوج کا دوست بن گیا ہے۔

