برصغیر کی عظیم دینی،تحریکی، ملی و علمی شخصیت حضرت مولانا سید جلال الدین عمری کا سانحہ ارتحال،تحریک اسلامی وملت اسلامیہ کا عظیم خسارہ

برصغیر کی عظیم دینی،تحریکی،ملی و علمی شخصیت حضرت مولانا سید جلال الدین عمری
سابق امیر جماعت اسلامی ہند و نائب صدرمسلم پرسنل لاء بورڈ کا سانحہ ارتحال
تحریک اسلامی وملت اسلامیہ کا عظیم خسارہ
امیرحلقہ تلنگانہ مولانا حامدمحمدخان،سکریٹریز حلقہ،ریاستی ناظمہ شعبہ خواتین،ناظم شہر و دیگر کا اظہار تعزیت

حیدرآباد: 26۔اگست(سحرنیوزڈاٹ کام/پریس نوٹ)

سابق امیر جماعت اسلامی ہند و نائب صدرمسلم پرسنل لاء بورڈ و صدر شرعیہ کونسل دہلی حضرت مولاناسید جلال الدین عمری آج 26 اگست، بروز جمعہ شام 45-8 بجے بعمر 87 برس اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔مولاناسید جلال الدین عمری کچھ عرصہ سےعلیل تھے اورالشفاء ہاسپٹل دہلی میں دوران علاج انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا۔

مولانا سید جلال الدین عمری کا شمار برصغیرکے ممتاز اور صف اوّل کے علماء میں ہوتا ہے۔سال 2007ء تاسال2019ء تک آپ نے جماعت اسلامی ہند کی بحیثیت امیر جماعت قیادت کی۔

مولانا عمری 1935ء میں تمل ناڈو میں پیدا ہوئے۔آپ جامعہ دارالسلام عمرآباد سے فارغ التحصیل ہوئے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں بیچلر کی ڈگری بھی حاصل کی۔طالب علمی کے زمانہ سے ہی وہ جماعت اسلامی سے وابستہ ہوئے اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد خود کو تحقیق وتصنیف کے لیے وقف کردیا۔

سابق امیرجماعت اسلامی ہند و نائب صدرمسلم پرسنل لاء بورڈ و صدر شرعیہ کونسل دہلی حضرت مولاناسید جلال الدین عمری کے سانحہ ارتحال پر رنج وافسوس کا اظہار کرتے ہوئے امیرحلقہ جماعت اسلامی ہند حلقہ تلنگانہ مولانا حامدمحمدخان نے اسے تحریک اسلامی اور ملت اسلامیہ کے عظیم نقصان سے تعبیر کیا۔

امیرحلقہ مولانا حامدمحمد خان نے کہا کہ مولانا عمری سے ان کے شخصی تعلقات تھے اور علی گڑھ میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران انہوں نے مولانا سے خوب استفادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ مولانا عمری کی شخصیت کوبرصغیر ہندوپاک کی عظیم شخصیتوں میں شمار کرنا مبالغہ آرائی نہ ہوگی۔ مولانامحترم کی ساری زندگی جہدوعمل سےعبارت رہی اور انسانوں کو اپنی ذات سےوہ فیض یاب کرتےرہے۔تحریکی زندگی کی گوناگوں مصروفیات کے باوجود آپ نے بھر پورتحقیقی وتصنیفی کام بھی انجام دیا۔مختلف موضوعات پرآپ کی چھوٹی بڑی 60 سےزائدتصانیف منظرعام پر آچکی ہیں۔بالخصوص اسلام کی دعوت،عورت اور اسلام،عورت اور اسلامی معاشرہ،عائلی زندگی،جماعت اسلامی ہند کی خدمات،آپ کی اہم تصنیفات ہیں۔اس کے علاوہ دعوت،عقائد،عبادات،معاشرت،معاملات اور سیاست پر آپ کی تصانیف سند کا درجہ رکھتی ہیں۔

سکریٹریز حلقہ تلنگانہ جناب سیدعبدالباسط انور،جناب محمداظہرالدین،جناب محمدنصیرالدین،جناب ایم.این.بیگ زاہد،ریاستی ناظمہ شعبہ خواتین محترمہ آسیہ تسنیم،اراکین شوریٰ حلقہ تلنگانہ،ناظم شہر حافظ محمدرشادالدین و دیگر ذمہ داران جماعت اسلامی ہندتلنگانہ نےمولانا کےسانحہ ارتحال پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہاکہ آپ کی رحلت سے دینی وتحریکی حلقوں میں ایک عظیم خلاء پیدا ہوا ہے اور آپ کی خدمات کو ملت اسلامیہ تادیر یاد رکھے گی۔

اللہ تعالیٰ،مولانا سیدجلال الدین عمری کی خدمات کو شرف قبولیت عطا فرمائے،جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے،لواحقین کوصبرجمیل عطا کرے اور تحریک اسلامی کو ان کا بہترین نعم البدل عطا فرمائے۔

مولانا سید جلال الدین عمریؒ کی نمازِجنازہ ان شاء اللہ مسجد اِشاعت اسلام،مرکز جماعت اسلامی ہند،نئی دہلی میں27 اگست بروز ہفتہ صبح 10بجے ادا کی جائے گی اور تدفین شاہین باغ قبرستان دہلی میں عمل میں آئے گی۔

لواحقین میں دو فرزندان جناب سیدصفی اطہر اور جناب سیدعلی اشرف اور دو دُختران محترمہ نصرت نگار اور محترمہ طلعت نگارشامل ہیں۔مزید تفصیلات کےلیے مرحوم کے داماد جناب ڈاکٹرمحمدخالد مبشرالظفر(سکریٹری شعبہ ایچ.آر.ڈی حلقہ تلنگانہ)سے موبائل نمبر9866685248 پرربط قائم کیا جاسکتا ہے۔