اسلامی دہشت گردی اسلام کا ہی ایک حصہ ہے، راجستھان میں طلبہ کو دی جارہی ہے زہریلی تعلیم

اسلامی دہشت گردی اسلام کا ہی ایک حصہ ہے، راجستھان میں طلبہ کو دی جارہی ہے زہریلی تعلیم

جئے پور: 19۔مارچ (سحرنیوزڈیسک)
طلبہ کو قوم اور ملک کا مستقبل کہا جاتا ہے یہی وجہ رہی تھی کہ ماضی میں سرکاری اور خانگی اسکولس میں طلبہ کو تمام مذاہب کی اچھائیوں، قومی یکجہتی ، ملک کی آزادی میں ہر مذہب کے مجاہدین آزادی کی قربانیوں اورسماجیات کا درس دیا جاتا تھا۔

لیکن گزشتہ چند سال سے محکمہ تعلیمات کے عہدوں پر ایسی زہریلی سوچ کے عہدیداروں کو بٹھادیا گیا ہے جن کا نشانہ اسلام ہی ہے۔ایک طرف چند سیاسی جماعتیں تو دوسری جانب کئی تنظیمیں ایسی ابھر آئی ہیں جن کا ایک ہی مقصد بن گیا ہے کہ دن رات اسلام اور مسلمانوں کے خلاف غلط پروپگنڈہ کرتے ہوئے برادران وطن کے دماغوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اتنا زہر بھر دیا جائے کہ وہ مسلمانوں کو دیکھ کر ہی نفرت کا اظہار کریں ۔اور بدقسمتی سے ایسا ہوبھی رہا ہے!

ایسے میں راجستھان کی بارہویں جماعت کے طلبہ کو پڑھائی جانے والی پولیٹیکل سائنس کی سنجیو پرکاش نامی پبلشر کی جانب سے شائع کردہ نصابی کتاب میں واضح طورپرسوال پوچھا گیا ہے کہ "اسلامی دہشت گردی کو آپ کیا سمجھتے ہیں؟ بطور جواب یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ
"اسلامی دہشت گردی ،اسلام کا ہی حصہ ہے”

اس پولیٹیکل سائنس کی نصابی کتاب میں اسلام اور مسلمانوں کیخلاف انتہائی گستاخانہ اور مسلمانوں کی دِلآزاری والے مزید الفاظ بھی بلاء خوف لکھے گئے ہیں جنہیں طلبہ کو پڑھایا جائے گا!
اس کتاب کا یہ اور دیگر حصہ سوشیل میڈیا پر آنے کے بعد چاروں طرف سے محکمہ تعلیمات ، راجستھان کی مذمت کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے
ملک کے مسلمان اورکھلے ذہن کے برادران وطن اس پر سخت احتجاج کرتے ہوئے سوال اٹھارہے ہیں کہ نئی نسل کے ذہنوں میں اسلام اور مسلمانوں کیخلاف اس طرح کا زہر بھرکر کیا حاصل کرنے کا ارادہ ہے اور ملک کو کس جانب لے جانا چاہتے ہیں؟

قابل مذمت بات یہ ہے کہ یہ کسی بی جے پی برسراقتدار ریاست میں پیش کیا گیا نصاب نہیں ہے بلکہ آزادی کے بعد سے خود کو مسلمانوں کا ہمدرد اور انکے حقوق کی چمپئن ہونے کا دعویٰ کرنے کانگریس پارٹی کی ناک کے نیچے ہورہا ہے جہاں راجستھان میں کانگریس اور اشوک گہلوٹ کی حکومت ہے۔

 یاد رہے کہ اسکولوں سے ایسی نسل تیار کی جاتی ہے جو آگے چل کر اس ملک کی قیادت کرسکے اور مختلف اہم عہدوں پر براجمان ہوکر ملک کے تمام مذاہب کے لوگوں کے ساتھ مساوی انصاف کرسکیں۔ جب ایسے طلبہ کے ذہن میں ایک مخصوص مذہب کے خلاف اس طرح زہر بھردیا جائے گا تو ان طلبہ اور ملک کا مستقبل کیا ہوگا!!
راحت اندوری نے کبھی کہا تھا کہ :
بارود بویا ہے ہم نے زمینوں میں ** پھل نہیں آئیں گے شاخوں پر بم آئیں گے !!

چاروں جانب سے اس نصابی کتاب کی مذمت کے دوران کانگریس اقلیتی سیل اسٹیٹ یونٹ اورراجستھان مسلم فورم کے نمائندہ محسن رشید کی جانب سے پولیس میں درج کی گئی شکایت پر اس کتاب کے ناشر سنجیو اور انکے پبلشنگ ہاؤس کے خلاف ایک ایف آئی آر درج رجسٹر کرلی گئی ہے۔محسن رشید کی پولیس میں درج کروائی گئی شکایت میں کہا گیا کہ بارہویں جماعت کی اس پولیٹیکل سائنس کتاب میں اسلام کو بدنام کرنے کے ساتھ مسلمانوں ، مسلم طلبہ اور اساتذہ کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا گیا ہے۔

اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہےکہ یہ کتاب ماضی میں بی جے پی اور وسندھرا راجے کے دؤرحکومت میں شائع کی گئی تھی ۔وہیں کل مشتعل ہجوم کے ایک گروپ نے اس پبلشنگ ہاؤس کے خالف احتجاج بھی کیا اور توڑ پھوڑ بھی کی گئی اس سلسلہ میں مسلم پریشد سنستھان کے صدر یونس چوبدار اور دیگر دو افراد کوپولیس نے گرفتار کرلیا ہے ۔دوسری جانب پبلشنگ ہاؤس کا کہنا ہے ان تمام نصابی کتابوں کو ضائع کردیا گیا ہے۔اور معافی نامہ بھی جاری کیا گیا ہے لیکن پھر بھی انکے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے!

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ تین دن قبل ہی ایم بی بی ایس کی نصابی کتاب ایسینشیل آف میڈیکل مائکروبیولوجی میں ایسا نصاب شامل کیا گیا تھا جس میں لکھا گیا تھا کہ ملک میں تبلیغی جماعت کے اجتماع نے کوویڈ کے پھیلاؤ میں ایک اہم کردار نبھایا تھا۔ جسکے خلاف ایس آئی او کی پر زور مخالفت اور کامیاب نمائندگی کے بعدپبلشرز اور مصنفین نے اعلان کیا کہ ایم بی بی ایس کی اس نصابی کتاب سے متنازعہ مواد ہٹایا جائے گا۔