ہٹلر بھی چناؤ جیت کر آیا تھا، ملک کے تمام ادارے آرایس ایس کے کنٹرول میں، ہم جمہوریت کی موت کا مشاہدہ کررہے ہیں: راہول گاندھی کا الزام

ہٹلر بھی چناؤ جیت کر آیا تھا،ہم جمہوریت کی موت کا مشاہدہ کررہے ہیں
ملک کے تمام ادارے آرایس ایس کے کنٹرول میں،میں ڈروں گا نہیں
کانگریس لیڈر راہول گاندھی کی پریس کانفرنس،مختلف الزامات

نئی دہلی:05۔اگست(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

سابق صدر کل ہند کانگریس کمیٹی و رکن پارلیمان راہول گاندھی نے آج مرکزی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئےالزام عائد کیاہے کہ ملک کے اہم اداروں پر آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والوں کا تقرر کیا گیا ہے اور تمام اہم سرکاری ادارے آر ایس ایس کے قبضہ میں ہیں۔کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے جمعہ کو مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کے مسائل پر جتنا زیادہ بات کریں گے ان پر اتنا ہی حملہ کیا جائے گا۔

راہول گاندھی نے الزام عائد کیا کہ جو اس ملک نے 70 سال میں بنایا اس کو 8 سال میں ختم کردیا گیا۔آج ہندوستان میں جمہوریت نہیں ہے آج ہندوستان میں چار لوگوں کی ڈکٹیٹرشپ ہے۔

 

آج ملک بھرمہنگائی اور بےروزگاری کےخلاف کانگریس کے احتجاج سے قبل دہلی میں کانگریس کے ہیڈکوارٹر پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے یہ الزام عائد کیاکہ ملک کےتمام ادارے آر ایس ایس کے کنٹرول میں ہیں،راہول گاندھی نے ایک صحافی کے سوال پر ریمارک کیا کہ ہٹلر بھی الیکشن جیتتا تھا۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حکومت مہنگائی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے جیسے مسائل پر کوئی بحث و مباحثہ کرنے کو تیار نہیں۔

انہوں نے کہاکہ جمہوریت میں اپوزیشن جو بھی عوامی لڑائی لڑتی ہے وہ ان اداروں کے بل پر لڑتی ہےجس میں قانون،عدلیہ،انتخابی سسٹم اور میڈیا شامل ہیں۔راہول گاندھی نے الزام عائد کیا کہ یہ سب سرکار کی حمایت کررہے ہیں کیوں کہ سرکار نے ان تمام اداروں میں اپنے لوگ بٹھارکھے ہیں۔اس پریس کانفرنس میں چیف منسٹر راجستھان اشوک گہلوٹ اور جئے رام رمیش بھی موجود تھے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہندوستان کا کوئی بھی سرکاری ادارہ آزاد نہیں ہے اور یہ سب آر ایس ایس کے قبضے میں ہیں اور آرایس ایس کا ایک فرد ہر ادارہ میں بیٹھا ہواہے۔راہول گاندھی نے کہا کہ ہم کسی سیاسی جماعت سےنہیں لڑرہے ہیں ہم انفراسٹرکچر سے لڑرہے ہیں انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب ہماری حکومت ہوتی تھی تو انفراسٹرکچر غیر جانبدار رہتاتھا اور ہم اسے کنڑول نہیں کرتے تھے۔اس وقت صرف سیاسی جماعتوں کے درمیان لڑائی ہوتی تھی۔راہول گاندھی نے الزام عائد کیا کہ آج پورا انفراسٹرکچر ایک پارٹی کے ساتھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ فینانشیل انفراسٹرکچر پارٹی کے ساتھ ہے اگر کوئی دوسری سیاسی جماعت کی تائید کرنا چاہتا ہے تو اس پر ای ڈی،آئی ٹی لگائی جاتی ہے اسے دھمکایا جاتا ڈرایا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کو دبایا جارہا ہے۔انہوں نے مرکزی حکومت کی جانب سے مہنگائی کے مسئلہ کو مسترد کردئیے جانے کے سوال پر کہا کہ یہ سب جھوٹ ہے شاید وزیرفینانس اس سے واقف نہیں ہیں یا پھر انہیں ایسا بولنے کے لیے کہا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کسی بھی شہر یا قصبہ میں جاکر عوام سے مہنگائی کے متعلق پوچھ لیں۔انہوں نے کہا کہ حقائق کچھ اور ہیں اور دعوی ایک کیا جاتا ہے۔راہول گاندھی نے سوال کیا کہ اسٹاڑت اپ انڈیا ہے کہاں؟ لوگ سڑکوں پر آگئے ہیں۔

راہول گاندھی نے کہا کہ کوویڈ سے ہندوستان میں کوئی بھی نہیں مرا،وزیرصحت کہیں گے کہ کوویڈ کے دوران ہندوستان کی طبی خدمات دنیا میں سب سے بہتر تھیں جبکہ یو این(اقوام متحدہ) آپ سے کہہ رہا ہے کہ ہندوستان میں کوویڈ سے 5 ملین لوگ مرے ہیں۔لیکن یہ کہیں گے کہ یو این جھوٹ بول رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوویڈکے دوران گجرات میں نعشوں کے ڈھیر لگ گئے تھے،گنگا میں نعشیں تیررہی تھیں لاکھوں مرے ہیں لیکن ہندوستان کی حکومت کہتی ہے کہ یہ سچائی نہیں ہے۔راہول گاندھی نے اس پریس کانفرنس میں کہا کہ ملک میں بیروزگاری بڑھتی جارہی ہے لیکن حکومت کہتی ہے کہ یہ سچائی نہیں ہے۔مہنگائی بڑھتی جارہی ہے لیکن وزیر فینانس کہتی ہیں کہ یہ غلط ہے۔چین نہیں آیا۔انہوں نے طنز کیا کہ تمام کمیونیکیشن سنٹر ان کے ہاتھ میں ہے۔

راہول گاندھی نے کہا کہ میں سچائی بولنے سے نہیں ڈروں گا مہنگائی اور بیروزگاری کا مسئلہ وہ اٹھاتے رہیں گے اور یہ بھی سچ ہے کہ مجھے مزید ڈرایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جو ڈرتا ہے وہ دھمکاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ مہنگائی،بیروزگاری اور مذہبی منافرت پھیلائےجانے کے خلاف جتنی آواز اٹھائیں گے اتنا ہی انہیں دھمکایا جائے گا اور ڈرایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مجھے اچھا لگتا ہے اس سے میں مزید سیکھتا ہوں۔اور یہ جتنا مجھے ڈرائیں گے مجھے ہی فائدہ ہوگا۔انہوں نے کہا اس سے مجھے اور خوشی ہوتی ہے۔راہول گاندھی نے میڈیا سے کہا کہ وہ اس ای ڈی کے عہدیدار سے بات کریں جنہوں نے مجھ سے پوچھ تاچھ کی تھی تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اس کمرہ میں کیا ہوا!!

راہول گاندھی نے کہا کہ وہ اپنے وعدے پورا نہ کرنے سے ڈرتے ہیں،جو مہنگائی اور بیروزگاری ہے اس سے ڈرتے ہیں اور عوامی طاقت سے ڈرتے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ لوگ 24 گھنٹے جھوٹ بولتے ہیں۔

ساتھ ہی راہول گاندھی نے کہا کہ صرف کانگریس ہی نہیں دیگر اپوزیشن جماعتوں،سیاسی و غیر سیاسی،فلمی شخصیتوں کی جانب سے اگرسرکارکے خلاف کچھ بولا جاتا ہے تو ان کے پیچھے سارے سرکاری ادارے پڑجاتے ہیں۔یہ صرف کانگریس پارٹی کے ساتھ نہیں ہورہا ہے۔

راہول گاندھی نے کہا کہ عوام کو یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے یا آئے گی کہ ہندوستان میں آج جمہوریت نہیں ہے۔انہوں نے ریمارک کیا کہ اب ہندوستان میں جمہوریت صرف یادداشت میں ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام خاموش نہیں رہیں گے۔

راہول گاندھی نے کہا کہ گاندھی خاندان کو اس لیے نشانہ بنایا جاتا ہے کہ ہماری ایک مثبت سوچ ہے اور ایسے کروڑوں لوگ اس ملک میں موجود ہیں۔ہم جمہوریت کے لیے لڑتے ہیں، ہم مذہبی ہم آہنگی کے لیے لڑتے ہیں اور کئی سالوں سے یہ لڑائی جاری ہے۔ہمارے خاندان نے اپنی جانیں دی ہیں۔اور اس لیے ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اس کے لیے لڑیں۔

انہوں نے کہا کہ جب ہندوستان کو بانٹا جاتا ہے،ہندومسلم کو لڑایا جاتا ہے،دلتوں اور خواتین پرظلم ہوتا ہے تو ہمیں درد ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پارٹی نہیں ہے یہ ایک سوچ اور رائے ہے۔

راہول گاندھی نے کہا کہ مہنگائی،بےروزگاری،اگنی پتھ اسکیم اور چین کےقبضہ کےمتعلق ہم بحث چاہتے ہیں لیکن لوک سبھا میں بھی اس کی اجازت نہیں دی جاتی اور یہ رویہ صرف کانگریس ہی نہیں پوری اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ہے۔

جب ایک صحافی نے سوال کیا کہ آپ بےروزگاری اور مہنگائی کومسئلہ سمجھتے ہیں تو بی جے پی کو کیوں اقتدار حاصل ہورہا ہے۔جس پر راہول گاندھی نے ریمارک کیا کہ ہٹلر بھی چناؤ جیت کر آیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہٹلر چناؤ کیسے جیتتا تھا؟ جرمنی کے تمام ادارے ہٹلرکے ہاتھ میں ہوا کرتے تھے۔جرمنی کا پورا ڈھانچہ اس کا پاس تھا۔راہول گاندھی نے جارحانہ موڈ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے پورے کا پورا ڈھانچہ دے دو میں دکھاؤں گا کہ الیکشن کیسے جیتا جاتا ہے؟

راہول گاندھی نے کہا کہ لوگوں کے مسائل خواہ مہنگائی ہو،بے روزگاری ہو،سماج میں تشدد کو نہیں اٹھایا جانا چاہیے۔یہ حکومت کا واحد ایجنڈا ہے اورحکومت چار پانچ لوگوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے چلائی جا رہی ہے اور یہ آمریت دو تین بڑے کاروباری لوگوں کے مفاد میں دو لوگوں کے ذریعہ چلائی جا رہی ہے۔