وی آراے اور سرپنچ کے شوہر نے معصوم کسان کی پانچ کروڑ مالیتی پانچ ایکڑ اراضی دھوکہ دہی کے ذریعہ فروخت کردی
متاثرہ کسان اورموضع کے عوام کا دفترتحصیل پرجراثیم کش دوا کے ساتھ احتجاج،اجتماعی خودکشی کا انتباہ،کارروائی کا مطالبہ
وقارآباد :24۔جولائی (سحرنیوزڈاٹ کام)
اس ملک میں سب سے بدنصیب طبقہ اگر کوئی ہے تو وہ کسان ہی ہوسکتا ہے اس معصوم اور ناخواندہ کسان طبقہ کو قدم قدم پر لوٹنا عام ہے۔ ایرکنڈیشنڈ کمروں میں رہنے والے چند سیٹھوں اور ساہوکاروں کی جانب سے کاشت کاری کے لیے بیج، کھاد اور جراثیم کش ادویات کی خریدی اور اس کے لیے بھاری سود پر رقم کے حصول سے لیکر فصل کی تیاری ، مارکیٹ کو منتقلی اور اس کی فروخت تک کے معاملہ تک اس بدنصیب طبقہ کو لوٹا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کا پیٹ بھرنے والے اس کسان طبقہ کا مقدر آج بھی بھوک ، افلاس ،قرض میں مبتلاء پھر ہمت ہار کر خودکشی جیسا اقدام بن کر رہ گیاہے!!
بھلے ہی حکومتیں کسانوں کو راجہ بنانے کے لاکھ دعوے اور وعدے کرلیں لیکن زمینی حقائق یہی ہیں کہ زمین کا سینہ چیر کر ہمارے حصہ کا اناج نکالنے والا کسان آج بھی وہیں ہے جہاں پہلے تھا! ہاں اس کو اور اس کی فصلوں کو لوٹنے والے البتہ کار اور بنگلہ نشین ضرور ہوگئے ہیں!!
ضلع وقارآباد میں آج ایک ایسا حیران کن واقعہ منظر عام پر آیا ہے کہ کس طرح ایک بھولے بھالے کسان کو اراضی کی جدید پٹہ پاس بک دینے کے نام پر اس کی پوری پانچ ایکڑ 12 گنٹے اراضی ہی کسی کو فروخت کردی گئی! جس کی مالیت پورے پانچ کروڑ روپئے بتائی جاتی ہے۔

اس متاثرہ پریشان حال کسان کے مطابق یہ کام ولیج ریونیواسسٹنٹ (و ی آر اے) اور موضع کی سرپنچ کے شوہر نے کیا ہے۔
اس مسئلہ پر آج گاؤں والوں نے اس بے بس اور پریشان حال کسان کا ساتھ دیتے ہوئے نواب پیٹ منڈل کے دفتر تحصیل پر احتجاج منظم کیا اس کسان جوڑے کے ہاتھ میں جراثیم کش دواء کے ڈبے بھی تھے اس مایوس کسان جوڑے نے کہا کہ اگر انہیں ان کی اراضی واپس نہیں دلائی جاتی تو وہ اجتماعی خودکشی کرلیں گے جس کے ذمہ دار وی آراو اور سرپنچ کا شوہرہوگا۔
اس سارے واقعہ کی تفصیلات متاثرہ کسان ، اس کی بیوی اور گاؤں کے ذمہ داران کے مطابق ضلع وقارآباد کے نواب پیٹ منڈل کے موضع گنگویاڑ کے ساکن دو کسان بھائی آلوری ملیا اورآلوری پرمیا کی خاندانی ملکیت پانچ ایکڑ 12 گنٹے اراضی تھی چونکہ بڑے بھائی آلوری ملیا کے کوئی وارث نہیں تھے تو اس کے انتقال کے بعد مکمل اراضی آلوری پرمیا کے نام پر ہوگئی۔
2020ء میں سروے نمبرات 140,141, اور 123 کے تحت موضع گنگیاڑ میں موجود مکمل پانچ ایکڑ 12گنٹے اراضی چھوٹے بھائی آلوری ملیا کے نام منتقل کرکے آرڈر کاپی حوالے کی گئی تھی۔اس آرڈر کاپی کی بنیاد پر کسان آلوری پرمیا نے نارے گوڑہ کے کینارا بینک سے زرعی قرض حاصل کیا تھا۔
متاثرہ کسان اور گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ موضع کی سرپنچ کے شوہر چندم ملیشم اور موضع کے وی آر او کاوالی مہیش کمار اس کسان سے رجوع ہوئے کہ وہ اپنی اراضی کیلئے جدید پٹہ پاس بک حاصل کرلے اور اس کے لیے سرپنچ کے شوہر نے 11,000 روپئے کا خرچ بتایا تو موضع کے کولو مولا انجیا کو درمیان کو رکھتے ہوئے سرپنچ کے شوہر کو کسان نے 11,000 روپئے ادا کیے۔
متاثرہ کسان کے بموجب ماہ اپریل میں وی آر اے مہیش کمار نے اس سے کہا کہ وہ دفتر تحصیل آکر جدید پٹہ پاس بک حاصل کرلے تو کسان آلوری پرمیا اس پر بھروسہ کرتے ہوئے نواب پیٹ منڈل کے دفتر تحصیل پہنچ گیا جہاں وی آراے مہیش کمار نے اس کسان سے چند کاغذات پر دستخط حاصل کیے اور اس کی فوٹوز بھی حاصل کی اور شام تک نواب پیٹ میں ہی کسان کو بٹھاکر شام کو اس کے گھر پر چھوڑکر چلاگیا۔
چند دنوں بعد کسان آلوری پرمیا کے اس وقت ہوش اڑگئے جب عثمان نگر میں موجود اسکے رشتہ داروں نے اسے بتایا کہ اس کی اراضی ان کے گاؤں عثمان نگر کے ہی ساکن چند لوگوں نے خریدی ہے!
پریشان کسان پرمیا جب نواب پیٹ دفتر تحصیل پہنچ کر اپنی اراضی کی انکمبریس سرٹیفکیٹ EC نکالی تو اسکے پیروں تلے زمین کھسک گئی اس ای سی کے مطابق اس کی ملکیت پانچ ایکڑ 12 گنٹے اراضی کسان آلوری پرمیا کے نام سے بھانور موضع کے ساکن کمہاری شیویا کے نام سیل ڈیڈ کرنے اور پھر یہی اراضی کمہاری شیویا کی جانب سے عثمان نگر موضع کے ساکن بھوپال ریڈی کے نام پر منتقل کردینے کا ریکارڈ موجود ہے۔
پریشان حال کسان آلوری پرمیا نارے گوڑہ کے کینارا بینک پہنچا جہاں سے اس نے اپنی اراضی کے دستاویز کی ضمانت پر زرعی قرض حاصل کیا تھاتو بینک مینجئر نے اسے بتایا کہ اس کا قرض ایک لاکھ 60 ہزار روپئے بینک کو ادا کردیا گیا ہے۔
متاثرہ کسان آلوری پرمیا کا کہنا ہے کہ کسی نے بینک میں قرض ادا کرکے وہاں سے اراضی کا دستاویز بھی حاصل کرلیے۔
ہر طرف سے پریشان کسان سرپنچ کے شوہر ملیشم کے پاس پہنچا اور اسے بتایا کہ اس کی اراضی کسی اور کے نام پر منتقل کی گئی ہے جس پر سرپنچ کے شوہر نے کسان کو ڈرا دھمکاکر وہاں سے روانہ کردیا۔
اس سلسلہ میں آج اراضی مالک کسان آلوری پرمیا نے موضع کے لوگوں کے ساتھ نواب پیٹ پولیس اسٹیشن پہنچ کر سارے معاملہ کی شکایت درج کروائی۔بعد ازاں دفتر تحصیل کے باہر جراثیم کش ادویہ کے ڈبوں کے ساتھ طویل احتجاج کیا۔

کسان آلوری پرمیا کا مطالبہ ہے کہ اس کی ملکیت پانچ ایکڑ 12 گنٹے اراضی اس کو واپس دلوائی جائے ،اس پوری دھاندلی میں ملوث عہدیداروں اور اراضی خریدنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
اس موقع پر کسان اور اس کی بیوی کے علاوہ موضع کے لوگوں نے انتباہ دیا کہ اگر اس کسان جوڑے جانوں کو کچھ ہوجاتا ہے تو اس کے ذمہ دار اراضی معاملہ میں دھاندلی میں ملوث عہدیدار اور افراد ہی ہونگے۔
اس سلسلہ میں بتایا جاتا ہے کہ تحصیلدار نواب پیٹ منڈل جے۔بچیا نے ایک تفصیلی رپورٹ کلکٹر ضلع وقارآباد پوسومی باسو کو روانہ کرتے ہوئے اس کسان کی جانب سے عائد کردہ الزامات کی تفصیلات سے واقف کروایا ہے۔
دیکھنا ہوگا کہ سرکاری سطح پر اس معصوم کسان کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے اس کی خاندانی جائداد پانچ ایکڑ 12 گنٹے ارا ضی اس کو واپس دلوائی جاتی ہے یا نہیں؟

