وسیم رضوی کی حیاتی قبر توڑ دی گئی ،نہ نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور نہ قبرستان میں دفن کرنے دیا جائے گا

وسیم رضوی کی حیاتی قبر توڑ دی گئی ،نہ نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور نہ قبرستان میں دفن کرنے دیا جائے گا

لکھنو میں تمام مسالک کے علماء کرام کا متفقہ فیصلہ، جمعہ 19 مارچ کو جامع مسجد دہلی پر احتجاج کا اعلان

لکھنو۔ 15۔مارچ (ایجنسیز/سحر نیوز ڈیسک)
سابق صدر شیعہ وقف بورڈ اتر پردیش ملعون وسیم رضوی کے قرآن پاک کے خلاف گستاخانہ عمل کے خلاف لکھنو تال کٹورہ کے کربلا میں وسیم رضوی کی "حیاتی قبر” کوحسینی ٹائیگرس اور انجمن حیدری جور باغ کے ارکان نوجوانوں نے توڑدیا۔(ویڈیو دیکھا جاسکتا ہے)

واضح رہے کہ’حیاتی قبر‘ اس قبر کو کہاجاتا ہے جسے لوگ اپنی زندگی میں ہی اپنی پسند کے مطابق کربلا یا قبرستان میں پہلے سے ہی رقم کے عوض خرید کر محفوظ کروالیتے ہیں اور اس جگہ پر اپنے نام کا کتبہ اور قبر بنانے کےلیے سنگ مرمر وغیرہ لگواکررکھتےہیں۔ ملعون وسیم رضوی نے لکھنو کے مشہور تال کٹورہ کربلا میں اپنے لیے ایک قبر مختص کروا رکھی تھی جسے کل توڑ دیاگیا ہے۔

دوسری جانب کل لکھنو میں منعقدہ تمام مذاہب و مسالک کے علماء و دانشوران کے جلسہ میں فیصلہ کیا گیا کہ وسیم رضوی کے مرنے کے بعد اسے ملک کے کسی بھی قبرستان میں دفن ہونے کےلیے زمین نہیں دی جائے گی اور نہ ہی کوئی اس کی نماز جنازہ پڑھے گا۔

حضرت مولانا سید سلمان حسنی ندوی اور اس جلسہ کے کنوینر و جنرل سیکریٹری مجلس علمائے ہند مولانا کلب جواد نقوی لکھنو میں منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے۔

اس جلسہ میں کہا گیا کہ ملعون وسیم رضوی کی جانب سے قرآن پاک کے تعلق سے ایسی عرضی دائر کرنے کا مقصد ہندو سماج کی نظروں میں مسلمانوں کے تئیں نفرت پیدا کرنا ہے تاکہ سماج میں ہندو مسلم نفرت مزید سنگین رخ اختیار کرے۔ اس جلسہ میں وسیم رضوی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ اس کے ذریعہ اپنے سیاسی آقاؤں کو انتخابات میں فائدہ پہنچاناچاہتا ہے۔

تمام مذاہب ومسالک کے علماء نے حکومت سے وسیم رضوی کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے عدالت سے ملعون وسیم رضوی کی اس گستاخی پر مبنی عرضی کو خارج کرنے اور اسے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے کیوں کہ اس کے ذریعہ پورے ملک میں نفرت پھیلانے اور فساد برپا کروانے کی کوشش کی گئی ہے۔

مولانا سید کلب جواد نقوی اور سپریم کورٹ کے وکیل محمود پراچہ نے اعلان کیا کہ 19 ؍مارچ بروز جمعہ جامع مسجد دہلی پر بعدنماز جمعہ سنی اور شیعہ متحدہ احتجاجی ریلی منعقد کریں گے ہندوستانی حکومت اور سپریم کورٹ سے وسیم رضوی کے خلاف دہشت پھیلانے، ملک میں مخالف طاقتوں کے اشارے پر دہشت گردی کو بڑھا وا دینے اور نفرت پھیلانے کے جرم میں معاملہ درج کرنے کا مطالبہ کیاجائے گا۔

ملعون وسیم رضوی کے اس اقدام سے نہ صرف ہندوستانی مسلمان مضطرب ہیں بلکہ ساری دنیا کے مسلمانوں میں غم وغصہ پیدا ہوگیا ہے۔ آج پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کی قیادت میں ملعون وسیم رضوی کے خلاف ہزاروں مسلمانوں نے زبردست احتجاج ریالی منظم کی اور وہاں کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ حکومت ہند پر اس معاملہ میں دباؤ ڈالکر وسیم رضوی کی فوری گرفتاری اور اس ملعون کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنائے۔