
ہمیں ہنسانے اور غمناک لمحات سے مقابلہ کرنے کی ہمت دلانے کے لیے عمر شریف صاحب آپ کا عمر بھر احسان مند رہوں گا۔
آپ چلے گئے! صرف 66 سال کی عمر میں!!
حساس اور جذباتی انسان کا دل سانس لینے کے معاملہ میں سست ہو جاتا ہے۔ کیا کیجئے گا” شریف “ آدمی کی ”عمر“ کم ہی ہوتی ہے۔
لوگ کہیں گے آپ شریف کہاں سے ہوئے بھلا۔؟ عورتیں آپ کو بازارمیں دؤڑاتی،بزرگ آپ کو بددعائیں دیتے، ارباب اقتدار آپ پر مقدمہ درج کرنے کے بہانے تلاش کرتے،سماجی خدمت گار آپ کو سماج کا مجرم گردانتے اور علما کرام تو آپ کو جہنمی ثابت کرنے کی تگ و دود میں رہتے۔ایسے بدمعاش آدمی کو کوئی شریف کیسے کہے۔
لیکن میں اب بھی کہتا ہوں کہ آپ بے حد شریف انسان تھے، کیوں کہ سماج ، سیاست، اخلاقیات، اقدار، تہذیب و ثقافت میں مسلسل آرہی گراوٹ پر ظریفانہ تبصرہ کرنے والا شریف ہی ہوتا ہے۔
وہ سماج کےبکھرتے اقدار کے خلاف کچھ نہیں کر پاتا ہے تو اس کا مذاق اڑاتا ہے،اس کا مذاق بناتا ہے اور دوسروں کا مذاق بناتے بناتے خود کو بھی مسخرہ بننے سے نہیں روک پاتا۔خود پر ہنسنے والا انسان مضبوط بھی ہوتا ہے اور شریف بھی۔
” بکرا قسطوں پر ” کے پانچ سیزن،دلہن میں لے کر جاؤں گا،سلام کراچی،میری بھی تو عید کرا دے،بڈھا گھر پر ہے کے علاوہ بے شمار اسٹیج پر فارمینس نے عمر شریف کو پاکستان ہی نہیں بلکہ برصغیر کا سب سے بڑا کامیڈین بنا دیا۔
ان کے منہ سے نکلے الفاظ سامعین کو گدگداتے تو ذہن کی شہ رگ میں کلبلاتے رہے۔وہ ہنسی ہنسی میں،مذاق مذاق میں سماجی و سیاسی بدمعاشیوں کو اس طرح اجاگر کرتے کہ ہنسنے کے بعد حساس دل رونے پر مجبور ہو جاتا۔
انہوں نے طنز و ظرافت کے ذریعہ اصلاح کا وہ بگل پھونکا کہ ان سے متاثر ہو کر بھارت میں بھی کامیڈی شو کا رجحان بھرا۔شیکھر سمن اور دیگر اداکار اس میدان میں اترے، کامیڈی شو نے پروفیشنل شکل اختیار کی اور سب لوگوں نے کہیں نہ کہیں عمر شریف کی نقل کی۔
آج جب کامیڈی وتھ کپل شرما کا کوئی ایپی سوڈ دیکھتا ہوں تو پریزنٹیشن پر نہیں بلکہ پھوہڑپن پر ہنسی آتی ہے۔
عمر شریف بننے کی چاہت میں کوا کیا کبھی ہنس بن سکتا ہے۔عمر شریف کا ایک شاگرد شکیل ہی تمام کامیڈین پرحاوی ہو جاتا ہے۔عمر شریف تک پہنچنا کسی بھی مسخرے کا خواب ہی رہے گا۔
طنز و مزاح کے میدان میں یوسفی کتابوں میں اور عمر شریف اسٹیجوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
آج کی دنیا میں جب ہنسی کاروبار میں پھنسی ہوئی ہے۔ایک ہنسنے ہنسانے والے آدمی کا ہمیشہ کے لیے دنیا چھوڑ دینا واقعی ایک رُلا دینے والا سانحہ ہے۔

پروفیسر زین شمسی
https://www.facebook.com/shamsiamu#

