مذہبی منافرت امن و امان اور ملک کی ترقی کے لیے خطرہ، وزیراعظم نریندر مودی جھوٹ بولنے میں مصروف : تانڈور میں پرینکا گاندھی کا خطاب

مذہبی منافرت امن و امان اور ملک کی ترقی کے لیے خطرہ، وزیراعظم جھوٹ بولنے میں مصروف
ملک کے 140 کروڑ عوام دستور ہند کو تبدیل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے
تانڈور میں کانگریس کے جنا جاترا جلسہ عام سے پرینکا گاندھی اور وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کا خطاب

وقارآباد/تانڈور: 11۔مئی
(سحر نیوز ڈاٹ کام)

جنرل سیکریٹری آل انڈیا کانگریس کمیٹی پرینکا گاندھی واڈرا نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت حملہ کرتے ہوئے انہیں کائر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کا عہدہ سب بڑا عہدہ ہوتا ہے جب وزیراعظم میں خود ہمت نہیں ہے کہ ان کے دس سالہ دور اقتدار میں ملک اور عوام کی کیا ترقی ہوئی وہ جلسوں میں بتا سکیں،اس کے بجائے وہ رو رو کریہ بتاتے ہیں کہ انہیں کتنی گالیاں دی گئیں،عوام کے سامنے فضول کا جھوٹ بولتے ہیں کہ ان کے زیوراور بھینس چھین کر دیگر لوگوں میں تقسیم کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم صبح سے شام تک کانگریس کے انتخابی منشور پر جھوٹ بولتے ہیں۔ پہلے وہ بتائیں کہ ان کے انتخابی منشور میں کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ کانگریس دور حکومت کی اسکیمات پر اپنی تصویر چسپاں کرکے اور نام بدل کر عوام کو دھوکہ دیا گیا۔

پرینکا گاندھی واڈرا تلنگانہ میں لوک سبھا انتخابات 2024  کی انتخابی مہم کے آخری دن 11 مئی کی سہء پہروقارآباد ضلع کے تانڈور ٹاون کے ولیم مون اسکول گراونڈ میں حلقہ پارلیمان چیوڑلہ کے رکن پارلیمان و کانگریسی امیدوار ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی کی انتخابی مہم کے سلسلہ میں کانگریس کی جانب سے منعقدہ جنا جاترا جلسہ عام سے خطاب کررہی تھیں۔جس میں ریاستی وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی،اے آئی سی انچارج دیپا داس منشی، اسپیکر تلنگانہ اسمبلی جی۔پرساد کمار، رام موہن ریڈی صدر وقارآباد ضلع کانگریس و رکن اسمبلی پرگی، رکن اسمبلی تانڈور بویانی منوہر ریڈی کے علاوہ دیگر قائدین شریک تھے۔

پرینکا گاندھی نے اس جلسہ سے اپنا خطاب جاری رکھتےہوئے کہاکہ اب وزیراعظم مودی کا جھوٹ پوری دنیا نے دیکھ لیاہے۔انہوں نے کہا کہ رشوت کے خاتمہ کا ناٹک رچا گیا اور الیکٹورل بانڈس کے ذریعہ رشوت حاصل کی گئی۔ملک میں مہنگائی اوربھوک عام ہے اور ترقی ٹھپ ہوگئی ہے۔ملک میں خواتین پر جہاں جہاں مظالم ہوئے انہوں نے ظالموں کا ہی ساتھ دیا مظلوموں کا ساتھ نہیں دیا۔

پرینکا گاندھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مہنگائی سے نمٹنے کے لیے مرکزکی بی جے پی حکومت کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے صرف کھرب پتیوں کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے۔گزشتہ دس سال میں اس ملک کے غریب، کسان، مزدور، خواتین اور مڈل کلاس کو راحت دینے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔عوام پر بار بار ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جاتا ہے،بڑے بڑے کھرب پتیوں کے 16 لاکھ کروڑ روپئے معاف کیے گئے لیکن کسانوں کا 50 ہزار یا ایک لاکھ روپئے کا قرض معاف نہیں کیا گیا۔قرض کے بوجھ سے پریشان کسان خودکشی پر مجبور ہیں۔چھوٹے بیوپاریوں کے لیے دس سال کے دوران مشکلات پیدا کی گئیں۔نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے ذریعہ بیوپاریوں اور عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی گئی۔ کسانوں ، مزدوروں اور آئی ٹی سیکٹر میں کمائی کم ہوگئی اور شعبہ تعلیم کا تباہ کر دیا گیا۔

اپنے خطاب میں پرینکا گاندھی واڈرا نے کہاکہ 45 سال میں آج ملک میں سے سب سے زیادہ بیروزگاری ہے۔70 کروڑ لوگ بیروزگار ہیں۔مرکزی حکومت کے شعبہ جات میں 30 لاکھ ملازمتوں پر بھرتی نہیں کی گئی، عوام کی 9 لاکھ کروڑ کی بچت کم ہوگئی ہے، کھرب پتیوں کے ٹیکس معاف کیے گئے،اس ملک کے ایئر پورٹس،بندرگاہیں،کوئلہ، بجلی،بڑے بڑے کمپنیوں کی سبسڈی اور سڑکوں کے ٹھیکے سب بڑے بڑے کھرب پتیوں کے حوالے کر دئیے گئے۔بڑے گھرانوں کا قرض اور ٹیکس معاف کیا جاتا ہے لیکن عوام سے ہر قسم کا ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔

پرینکا گاندھی نے کہاکہ ملک اور عوامی املاک کھرب پتیوں کےحوالے کی جارہی ہیں۔ملک کا سارا میڈیا اور بڑی بڑی کمپنیاں انہی دو چار کھرب پتیوں کی جائیداد بن گئی ہیں۔عوام کو سچائی دکھائی نہیں جاتی۔انہوں نے کہا کہ نریندر مودی اور ان کے وزراء میں اتنی بھی ہمت نہیں ہے کہ اپنے کام کی بنیاد پر عوام سے ووٹ مانگیں۔انہوں نے دس سال قبل کہا تھا کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس اور اب وکشٹ بھارت 2047ء کا خواب دکھایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں کہتی ہوں کہ عوام کن پریشانیوں سے گزر رہے ہیں وہ آج دیکھ لیں لیکن گزشتہ دس سال میں ایک منٹ کے لیے بھی عوام کی پرمشکلات پر نہیں سوچا گیا۔اور وزیراعظم انتخابات کے وقت ہی عوام کے سامنے آتے ہیں اور مذہب کی بنیاد پرعوام میں نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔کیونکہ ان کی سیاست کا آغاز اوراختتام اسی پر ہے، ان کی ایک ہی سوچ ہے کہ اقتدار ہمیشہ ان کے قبضہ میں رہے۔پرینکا گاندھی نے کہا کہ مذہبی منافرت اس ملک کے امن و امان اور ترقی کے لیے شدید خطرہ ہیں۔

پرینکا گاندھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جھوٹ کے ذریعہ کانگریس پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ مذہب کے خلاف ہے۔ کہتے ہیں کہ عوام کی ساری جائیداد کانگریس لے لے گی اور ایک مذہب کے ماننے والوں کو دے دے گی۔انہوں نے کہا کہ ہندو مذہب اور اس کے دھرم گرووں نے ایک ہی تعلیم دی ہےکہ سچ کے راستے پر چلو۔سچ اور اہنسا کے راستے پر چلتے ہوئے مہاتما گاندھی جیسی عظیم شخصیت نےجنگ آزادی کی بنیاد ڈالی اور اس ملک کے لیے شہید بھی ہوئے۔ مجاہدین آزادی کی قربانیوں اور خون نے ہمیں آزادی دی۔تمام مذاہب کی تعلیمات میں سچ پر چلنے کی تلقین کی گئی ہے۔مذہب کے نام پر بھائی بھائی کو تقسیم کرنا اور ان کو گمراہ کرنا گناہ ہے۔مذہب کے نام پر مخصوص طبقہ کو خوفزدہ کرنا اور دستور تبدیل کرنے کے عزائم بھی گناہ ہیں۔

پرینکا گاندھی نے کہاکہ دستور ہند ہمارے مجاہدین کے خون اور پسینے سے لکھا گیا ہے۔دستور ہند نےتمام شہریوں کو مساوی حقوق اور تحفظات دئیے ہیں۔جبکہ نریندرمودی کے نمائندے ان کی ہی مدد سےپورے ملک میں گھوم کر کہہ رہےہیں کہ ہمیں 400 سیٹ دو ہم دستور کو بدل ڈالیں گے۔انہوں نے زور دے کرکہا کہ اس ملک کے 140 کروڑ عوام اپنی جانوں کی قربانی دیں گے مگر دستور بدلنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں نےتلنگانہ کےعوام کو مشورہ دیاکہ اس لیے بی جے پی والوں سے کہہ دیں کہ ہم جاگ رہے ہیں ہمیں نفرت کی سیاست کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور انہیں پیغام دیں کہ نفرت اور سماج میں پھوٹ پڑنے سے صرف عوام کا نقصان ہوتا ہے کسی بھی لیڈر کا کچھ نہیں جاتا۔جب ریاست میں نفرت پھیلے گی تو ترقی اور بیرونی سرمایہ کاری ٹھپ ہوگی۔پرینکا گاندھی نے اپنے خطاب میں کہاکہ کانگریس پارٹی کی بنیاد مہاتما گاندھی نے ڈالی تھی جنہوں نے ہمیں اصول سکھائے،وہی اصول تھے جس نےملک کو آزاد کروایا،دستور بنایا اور جمہوریت کی بنیاد ڈالی۔جمہوریت میں عوام سب سے اوپر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ تلنگانہ کے پراجکٹس کے لیے مرکزی حکومت سے فنڈطلب کیے گئے لیکن بی جے پی حکومت نے فنڈس جاری نہیں کئے اور نہ ہی انہیں قومی عہدہ دیا گیا۔ریاست میں ایمس، آئی آئی ایم،میڈیکل کالج اور نوودیا سکولوں کے قیام کے مطالبہ کو بھی نظر انداز کیا گیا۔ریاست میں سیلاب اور فصلوں کی خرابی کے وقت بھی مدد نہیں کی گئی۔اسکیمات پر عمل آوری کے لیے بھی فنڈس جاری نہیں کیے گئے۔ تلنگانہ کے قاضی پیٹ میں کوچ فیکٹری اور ٹرائبل یونیورسٹی کے قیام کےلیے کانگریس دور حکومت میں آغاز کیا گیا تھا لیکن بی جے پی حکومت نے اس کو مکمل نہیں کیا۔

پرینکا گاندھی نے ہزاروں افراد کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے ساتھ،ان کے جذبات کےساتھ اب تک بہت کھیل کھیل لیا گیا لیکن عوام اب مزید برداشت نہیں کریں گے۔عوام سوال کریں کہ دس سال کے دوران وزیراعظم اور بی جے پی حکومت نے عوام کے لیے کیا کیاہے؟ریاست تلنگانہ یہاں کے عوام کے خون اور پسینہ سے وجود میں آئی ہے اور ترقی کے لیے بھی خون پسینہ ایک کیا گیا ہے اور ریاست ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔انہوں نے کانگریس کے انتخابی منشورکی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا مقصد عوام کی آمدنی ان کے جیبوں تک پہنچانا ہے۔جس کے ذریعہ اس ملک کے تمام طبقات میں خوشحالی پیدا ہوگی۔

اس جلسہ عام سے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ریاست کے کسانوں کا قرض معاف کرنے کی ذمہ داری انہی کی ہے۔اور کسانوں کا دو لاکھ روپئے تک کا قرض معاف کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں وقارآباد ضلع کے چاروں اسمبلی حلقہ جات وقارآباد، تانڈور، پرگی اور کوڑنگل سے عوام نے کانگریس کے امیدواروں کو ووٹ دے کر منتخب کیا۔جس کے بعد ضلع وقارآباد کو وزیراعلیٰ اور اسمبلی اسپیکر کے عہدہ حاصل ہوئے۔

وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے کہاکہ کانگریس دور حکومت میں وائی ایس آر نے چیوڑلہ پرانہیتا پراجکٹ کا آغاز کرتےہوئے اس کےلیے کروڑہا روپئے مختص کیے تھے لیکن ٹی آر ایس دور حکومت میں اس علاقہ کو حاصل ہونے والے گوداوری کے پانی کو روکتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ کے سی آر نے اس علاقہ کے عوام کو اس پراجکٹ سے محروم کرتے ہوئے اس علاقے کو بنجر بنا دیا گیا۔

اسی طرح پالمور۔رنگاریڈی لفٹ ایریگیشن سے آبی سربراہی سے محروم کیا۔مرکز کی بی جے پی حکومت نے بھی اس پراجکٹ کو قومی عہدہ نہیں دیا۔ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس کے باعث ضلع میں تور اور دیگر فصلوں کی کاشت کرنے والے کسانوں کو امدادی قیمت حاصل نہیں ہوپائی۔ریونت ریڈی نے کہا وقارآبادضلع کے لیےمنظورہ سیٹلائٹ سٹی کے کام روک دئیےگئے اور حیدرآباد سے وقارآباد تک ایم ایم ٹی ایس سرویس میں توسیع نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ 7 مئی کو رعیتو بندھو اسکیم کی رقم کسانوں کے بینک کھاتوں میں جمع کروادی گئی۔

وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے اعلان کیا کہ 15 اگست تک کسانوں کا دو لاکھ تک کا قرض معاف کیا جائے۔انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ پر شدید تنقید کرتےہوئے الزام عائد کیاکہ وہ مذہب کےنام پر ووٹوں کی بھیک مانگنے میں مصروف ہیں۔پرینکا گاندھی اور ریونت ریڈی نےحلقہ پارلیمان چیوڑلہ سے کانگریس کے امیدوار ڈاکٹر رنجیت ریڈی کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی اپیل کی۔

اس جنا جاترا جلسہ عام میں صدرنشین بلدیہ تانڈور سواپنا پریمل،کانگریسی قائدین سرینواس ریڈی،عبدالرؤف،کرنم پرشوتم راؤ،ڈاکٹرسمپت کمار،سابق صدر ضلع لائبرریز مرلی کرشنا گوڑ، صدر تانڈور ٹاؤن کانگریس سید حبیب لالہ، روی گوڑ،سید مسعود احمد کے علاوہ ارکان بلدیہ اور کانگریسی قائدین شریک تھے۔