وقارآباد ضلع میں بیمار والدین کے علاج،قرض کی ادائیگی اورمفلسی دور کرنے کے لیے معذورشخص نےتحصیلدار سے گردہ فروخت کرنے کی اجازت طلب کی

جو لوگ موت کو ظالم قرار دیتے ہیں
خدا ملائے انہیں زندگی کے ماروں سے

وقارآباد ضلع میں بیمار والدین کے علاج اورمفلسی دور کرنے کے لیے
ایک معذورشخص نےتحصیلدار سے گردہ فروخت کرنے کی اجازت طلب کی

وقارآباد:04۔ستمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

نامور شاعر راجیش ریڈی کی ایک شہرہ آفاق غزل،جسے مشہور غزل گلوکار جگجیت سنگھ نے اپنی جادوئی آواز میں گاکر اسے ساری دنیا میں مشہور کردیا اس غزل کا ایک اشعار ہے ؎

یہ جو زندگی کی کتاب ہے،یہ کتاب بھی کیا کتاب ہے؟
کہیں اِک حسین سا خواب ہے،کہیں جان لیوا عذاب ہے

موجودہ حالات میں لاکھوں غربت زدہ خاندانوں کی یہ شعرمکمل طور پر عکاسی کرتا ہے۔جو امیر ہیں وہ مزید امیر بنتے جارہے ہیں۔اور غریب مزید غریب ہوتا جارہا ہے۔کسی کو ملک کا سب سے بڑا امیر شخص بننے کا جنون سوار ہے،تو کوئی پوری دنیاکے امیروں میں اول نمبرحاصل کرنےمیں صرف دوپائیدان نیچے ہے۔!!

کورونا وبا کے بعد سے تو بیروزگاری اور بڑھتی مہنگائی نےجہاں مڈل کلاس کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے وہیں غریب طبقہ کو مفلسی کی لکیر تک پہنچادیا ہے۔پھر بھی سپنوں کے سوداگر حکمراں مست ہیں۔جبکہ انہی کا دعویٰ ہے کہ 139 کروڑ کے اس ملک میں 80 کروڑ عوام کو ماہانہ مفت راشن دیا جارہا ہے!!۔وہیں عوام کا ایک مخصوص طبقہ بھی اس خوشی کے ساتھ بہت مزے میں نظر آتا ہے کہ حکمران مست ہیں۔!!

ان کی خوشی کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ اس غربت زدہ ملک میں جب 800 کروڑ روپئے مالیتی 900 فلیٹس پرمشتمل جڑواں ٹاور 3,700 کلو دھماکو مادہ کے ذریعہ سرکاری مشنری کی جانب سےصرف 9 سیکنڈ میں زمین بوس کردئیے جاتے ہیں تو خوشی کے مارے تالیاں بجائی جاتی ہیں کہ چلو کرپشن کاخاتمہ ہوگیا۔!!میڈیا کے سینکڑوں کیمرے اور اسٹوڈیوز میں بیٹھے خوش پوش اینکرز بھی خوشی سے پھولے نہیں سماتے!!

ایسے میں ریاست تلنگانہ جہاں غرباء اورمستحقین کے لیے بشمول ماہانہ وظیفہ،سستا راشن اور مفت علاج جیسی کئی ایک اسکیمات کارکرد ہیں۔اسی ریاست کے ضلع وقارآباد جو کہ ریاست کے دارالحکومت حیدرآباد سے صرف 70 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود ہے سے ایک انتہائی افسوسناک خبر آئی ہے۔

جہاں ایک معذورشخص نے کلک چیرلہ منڈل کےتحصیلدار سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں باقاعدہ ایک درخواست حوالے کی ہے۔جس میں ان سے گزارش کی گئی ہے کہ اس کےضعیف اور بیمار والدین کے علاج و معالجہ اور ان کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ خود اس کے گزر بسر کے لیے اسے حکومت سے اپنا گردہ فروخت کرنے کی اجازت دلوائی جائے۔

اس افسوسناک واقعہ کی تفصیلات کے مطابق کلک چیرلا منڈل کے سالویڈ موضع کا ساکن وینکٹیا اپنے دونوں پیروں سے معذور ہوکر وہیل چیئر تک محدود ہوگیا۔اس پر بدقسمتی یہ کہ اس کے ماں باپ بھی بیمار ہوکر بستر تک محدود ہوگئے۔غربت اور مفلسی اس خاندان کا مقدر بن گئے۔اس خاندان کا ذرائع آمدنی بھی کچھ بھی نہیں ہے۔

اپنی معذوری،خاندان کی مفلسی،محرومی،غربت کی زندگی،والدین کی بیماری اورمجبوریوں سےعاجز آکر اور اب تک مختلف ذرائع سےزندگی گزارنے کے لیے حاصل کیے گئے قرض کی عدم ادائیگی سے پریشان معذور وینکٹیانےکل ہفتہ کے دن وہیل چیئر پر دفترتحصیل پہنچ کر تحصیلدار کلک چیرلہ سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں ایک درخواست حوالے کی۔

جس میں مطالبہ کیا گیا ہےکہ اس کی معاشی پریشانیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسے اس بات کی اجازت دی جائے کہ وہ اپنا گردہ ضرورتمند کو فروخت کرسکے۔

اس درخواست کو حاصل کرتےہوئے تحصیلدار کلک چیرلہ نے کہاکہ وینکٹیا کی معاشی حالت اور اس کے والدین کی بیماری اور دیگر مشکلات کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کی ایک تفصیلی رپورٹ کے ساتھ گردہ فروخت کرنے کی درخواست ضلع کلکٹر وقارآباد کے۔نکھیلا کو روانہ کی جائے گی۔تحصیلدار نے تیقن دیا کہ وینکٹیا کی سرکاری طور پر ہر طرح سے مدد کو یقینی بنایا جائے گا۔  

یہ جو زندگی کی کتاب ہے یہ کتاب بھی کیا کتاب ہے٭٭کہیں اِک حسین سا خواب ہے کہیں جان لیوا عذاب ہے: راجیش ریڈی،جگجیت سنگھ