نائب صدر تلنگانہ کانگریس مائنارٹی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے تانڈور پولیس اسٹیشن میں صدر تلنگانہ بی جے پی بنڈی سنجے کمار کے خلاف شکایت

نائب صدر تلنگانہ کانگریس مائنارٹی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے تانڈور پولیس اسٹیشن میں
صدر تلنگانہ بی جے پی بنڈی سنجے کمار کے خلاف شکایت،گرفتار کرنے حکومت سے مطالبہ

وقارآباد/تانڈور: 28۔مئی(سحرنیوزڈاٹ کام )

صدر تلنگانہ بی جے پی و رکن پارلیمان کریم نگر بنڈی سنجے کمار کی جانب سے گزشتہ دنوں کریم نگر میں منعقدہ ہندو ایکتا یاترا میں اشتعال انگیز اورمسلمانوں کے خلاف دلآزار تقریر کے خلاف آج نائب صدر تلنگانہ کانگریس کمیٹی،مائنارٹی ڈپارٹمنٹ خالدسیف اللہ کی قیادت میں کانگریسی قائدین کے ایک وفد نے وقارآباد ضلع کے تانڈور پولیس اسٹیشن میں سرکل انسپکٹر پولیس راجندر ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے صدر تلنگانہ بی جے پی و رکن پارلیمان کریم نگر بنڈی سنجے کمار کے خلاف ایک تحریری یادداشت حوالے کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔جس میں پولیس سے شکایت کی گئی ہے کہ صدر تلنگانہ بی جے پی اپنے نفرت انگیز خطاب کے ذریعہ دو فرقوں میں دراڑ پیدا کرنے اور امن وامان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔

سرکل انسپکٹر پولیس سے ملاقات کرنے والے اس وفد میں پربھاکر گوڑ صدر ٹاؤن کانگریس و رکن بلدیہ،سیکریٹری کانگریس مینارٹی ڈپارٹمنٹ ضلع وقارآباد سید نواز،محمدحسین،عبدالصمد اور دیگر شامل تھے۔

اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے نائب صدر تلنگانہ کانگریس کمیٹی ،مائنارٹی ڈپارٹمنٹ خالد سیف اللہ نے استفسار کیا کہ بی جے پی پارٹی اور اس کے قائدین کب تک مذہب کے نام پر اپنی سیاست چلائیں گے؟اور کب تک ایک مذہب کے لوگوں کو نشانہ بناتے ہوئے تاریخ کو توڑ مروڑ کر جھوٹ کے سہارے برادران وطن کو خوفزدہ کرتے رہیں گے؟ خالدسیف اللہ نے بنڈی سنجے کمار کے اس بیان کو انتہائی شرمناک اور قابل مذمت بتاتے ہوئے کہ مساجد کھودی جائیں گی تو شیولنگ نکلیں گے۔

انہوں نے صدر تلنگانہ بی جے پی و رکن پارلیمان کریم نگر بنڈی سنجے کمار سے سوال کیا کہ انہیں تلنگانہ کے مسلمانوں کو دئیے جانے والے تحفظات،دینی مدارس اور اردو زبان سے اتنی نفرت کیوں ہے؟نائب صدر تلنگانہ کانگریس کمیٹی،مائنارٹی ڈپارٹمنٹ خالد سیف اللہ نے کہا کہ کمزور اور پسماندہ طبقات کو تحفظات ان کا آئینی حق ہے،اردو زبان دستور میں شامل زبان ہے جبکہ دینی مدارس میں انسانیت سے محبت کا پیغام سکھایا جاتا ہے۔

انہوں نے بنڈی سنجے کمار کو یاد دلایا کہ جنگ آزادی میں انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ مدرسہ سے ہی جاری کیا گیا تھا اور لاکھوں علماء کرام اور دینی مدارس کے طلبہ نے جنگ آزادی میں جام شہادت نوش کیا تھا۔اسی طرح انگریزوں کی نیندیں اڑانے والا انقلاب زندہ آباد کا نعرہ بھی اردو زبان کی دین ہے۔

خالد سیف اللہ نے کہا کہ مذہبی منافرت کے ذریعہ ملک اور ریاست تلنگانہ کو کمزور نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ صدر تلنگانہ بی جے پی بنڈی سنجے کمار اپنی اس نفرت انگیز سیاست کے ذریعہ تلنگانہ کی گنگا جمنی تہذیب اور آپسی بھائی چارہ کو ہرگز نقصان نہیں پہنچاسکتے۔کیونکہ یہاں کے عوام برسوں سے امن و سکون کے ساتھ مل جل کر رہتے آئے ہیں۔

بنڈی سنجے کمار کی اشتعال انگیزی کی مذمت کرتے ہوئے خالدسیف اللہ نے کہا کہ وہ ریاست میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ماحول کو نفرت انگیز بنانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں جنہیں عوام انتخابات میں بہتر سبق سکھائیں گے۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے بھاکر گوڑ صدر ٹاؤن کانگریس و رکن بلدیہ نے بھی صدر تلنگانہ بی جے پی کی اشتعال انگیزی کی مذمت کرتے ہوئے ان سے کہاکہ ریاست میں فرقہ پرستی کے لیےکوئی جگہ نہیں ہے اور صدر تلنگانہ بی جے پی معافی مانگیں اور اپنے الفاظ واپس لیں۔