انسٹاگرام پر جھمنڈا ۔آفیشل نامی اکاونٹ کے ذریعہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں نشانہ، پولیس نے کیس درج کرلیا، اکاؤنٹ غائب

انسٹاگرام پر جھمنڈا۔آفیشل نامی اکاونٹ کے ذریعہ
نوجوان لڑکے اور لڑکیاں نشانہ، حیدرآباد پولیس نے کیس درج کرلیا
اکاؤنٹ غائب،واٹس ایپ وائرل میسیج اور ٹوئٹر  کے ذریعہ شکایت

حیدرآباد: 16۔اکتوبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

سوشل میڈیاکےتمام پلیٹ فارمز محض تفریح طبع کی غرض سے اور دور دراز شہروں اور ملکوں میں موجوداپنے رشتہ داروں،دوست واحباب کے ساتھ رابطہ میں آسانی کےعلاوہ مختلف مماک کےمختلف مذاہب کوماننے والوں کے درمیان دوستانہ ڈور باندھنے یا پھر پیشہ وارانہ ماہرین کو ایک دوسرے کے رابطہ میں لانے کی غرض سے وجود میں لائے گئے تھے۔

لیکن افسوس کہ سوشل میڈیا کےپلیٹ فارمز جہاں مذہبی منافرت اورجھوٹ کو پھیلانے کےاڈے بن گئے ہیں وہیں سوشل میڈیا کے چند پلیٹ فارمز بے حیائی اور فحاشی کو پھیلانے کے ساتھ ساتھ دھوکہ دہی کے ذریعہ رقم اینٹھنے کے لیے بدنام ہوتے جارہے ہیں۔

جبکہ اسی سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز سے قابل اور باصلاحیت لوگ اپنے ویڈیوز کے ذریعہ مختلف طریقوں سے ماہانہ ہزاروں روپئے کمانے میں مصروف ہیں۔کئی افراد انسٹا گرام،فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پرمختلف مختصر معلومات،طبی نسخوں،پکوان کے طریقوں،اصلاحی بیانات یا پھر غزلوں اور گیتوں پرمشتمل ریلس Reels# کے ذریعہ ماہانہ ہزاروں روپئے کمانے میں مصروف ہیں۔ان میں حیدرآباد ی نوجوان بھی شامل ہیں۔

لیکن افسوس کےساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ ان میں بھی زیادہ ترمسلم نوجوانوں کے ریلس اور ویڈیوز غیرسطحی،بے معنی اور وہی گھسے پٹے ہوتےہیں جسے حرف عام میں چھچھورا پن کہا جاتا ہے!۔وہی مسلم معاشرہ و زبان کا مذاق،وہی سلیم پھیکو اور دیگر کے کردار،وہی غیر سطحی فلموں کے ڈائیلاگ!!

یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ دکھنی مزاح کے لیےمشہور دکھنی زبان میں پوہڑ پن اورچھچھورا پن ابھر آیا ہے۔وہیں چند ایسے بھی نوجوان اور فنکار بھی ہیں جو ایک حد تک حیدرآبادی مزاح کےمعیار کو قائم رکھےہوئے ہیں۔ریلس کے لیے انسٹاگرام بہترین پلیٹ فارم کی حیثیت سے مشہور ہوگیا ہے۔

انسٹاگرام نامور اورمشہورشخصیتوں کا پسندیدہ پلیٹ فارم مانا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ زیادہ ترفلمی اداکار،کرکٹرز،صحافی اور دیگر اپنے انسٹا اکاؤنٹس پر سرگرم رہتے ہیں۔وہاں ٹوئٹر کی طرح زیادہ ٹرولنگ کاخطرہ نظر نہیں آتا۔ان مشہورشخصیتوں کےعلاوہ کئی مرد و خواتین کے بھی ایسے اکاؤنٹس انسٹاگرام پر موجود ہیں جو عام طور پرمشہور تونہیں ہیں لیکن ان کے لاکھوں فالوورز ہیں۔جو ان کے ریلس کو پسند کرتے ہیں۔

ایسی شخصیتیں کسی بھی تجارتی و کاروباری یا کسی پراڈکٹ کااشتہار پیش کرتے ہوئے اس سے بھی پیسہ کماتے ہیں۔چند ایسے انسٹاگرام اکاؤنٹس بھی ہیں جہاں اردو شاعری کرنے والوں کے ہی لاکھوں میں فالوورز موجود ہیں اور ہزاروں صارفین ان کے ریلس اور ویڈیوز دیکھتے اور لائیک کمنٹس بھی کرتے ہیں۔

ایسےہی ایک نوجوان "شاہ نور شاہ”جن کاتعلق حیدرآباد سے بتایاجاتا ہےکی mrshayar_07@ انسٹاگرام آئی ڈی ہے۔جن کے 2.3 ملین فالوورس موجود ہیں۔ان کے ویڈیوز لاکھوں کی تعدادمیں دیکھے جاتے ہیں۔انہوں نے اب تک شاعری پرمشتمل اپنے صرف 677 ریلس/ویڈیوز پوسٹ کیے ہیں۔جبکہ انہی کے نام سے ملتے جلتے یا فینس کےنام سےنامعلوم افراد نے نصف درجن سے زائد اکاؤنٹ بنائے ہیں۔طرفہ تماشہ یہ کہ ویڈیوز بھی انہی کے پوسٹ کیے جاتے ہیں۔

ایسے میں انسٹاگرام پر چند دنوں سے”جھمنڈا” نامی اکاؤنٹس وجود میں آگئے۔جہاں ایک مخصوص طبقہ کے نوجوانوں کے ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کی جارہی تھیں۔ان میں ایک انسٹاگرام آئی ڈی”جھمنڈا۔آفیشل ” اور دوسری” جھمنڈا ۔2 ” شامل ہیں۔

وہیں چنددنوں سےجھمنڈا۔2 نامی انسٹاگرام آئی ڈی کےاسکرین شاٹ کےساتھ واٹس ایپ پر ایسا میسیج وائرل ہواکہ یہ انسٹاگرام اکاؤنٹ مذہبی منافرت پھیلارہا ہے۔اور ساتھ ہی حیدرآبادی لڑکیوں اور جوڑوں کے خفیہ ویڈیوز کو پوسٹ کررہا ہے۔واٹس ایپ پر وائرل اس میسیج کے ساتھ لکھا گیاکہ انسٹاگرام کا یہ جھمنڈا ۔2 ہینڈل دوسروں کو(اپنے فالوورز) کوبھی ترغیب دے رہا ہے کہ وہ اس طرح خفیہ طریقہ سے لیے گئے ویڈیوز اس کو روانہ کریں۔

وہیں دوسری جانب ٹوئٹر پر” بلیغ احمد”نامی ہینڈل سے اسی”جھمنڈا۔آفیشل”نامی انسٹاگرام کے خلاف ٹوئٹ کرتے ہوئے اس ٹوئٹ کوریاستی وزیر داخلہ،ڈی جی پی تلنگانہ،حیدرآباد سٹی پولیس،کمشنرپولیس حیدرآباد،سائبرآباد پولیس،تلنگانہ ویمن سیفٹی وِنگ،کمشنر پولیس سائبرآباد،سواتی لکڑا آئی پی ایس (شی-ٹیم)،،ڈی سی پی شمس آباد،ڈی سی پی ساؤتھ زون کوٹیگ کرتے ہوئے شکایت کی کہ جھمنڈا۔آفیشل نامی ٹوئٹر آئی ڈی سےخواتین سے متعلق اہانت آمیز اور ہندو۔مسلم مذہبی منافرت پھیلانے والے ویڈیوز پوسٹ کیے جارہے ہیں۔

https://twitter.com/Shahleegh/status/1569020507470856192

بلیغ احمد نامی اس ٹوئٹر ہینڈل پر کمشنر سٹی پولیس حیدرآباد کو روانہ کردہ جھمنڈا۔آفیشل کی انسٹاگرام آئی ڈی سے لیا گیا ایک ویڈیو بھی ان کے میسیج باکس میں بھیجتے ہوئے لکھا کہ”ایک طبقہ کےخلاف نفرت پھیلائی جارہی ہے۔اور خواتین کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کیا جارہاہے۔”

اس سلسلہ میں دیگر کئی شکایتوں کےبعد تین دن قبل حیدرآباد پولیس نے”جھمنڈا۔آفیشل”اکاؤنٹ کے خلاف انڈین پینل کوڈ کی دفعات 354(d)، 506 ,509 کے تحت ایک کیس درج رجسٹرکرلیا ہے۔اور اب پولیس اس تحقیقات میں مصروف ہے کہ اس انسٹاگرام اکاؤنٹ کو کون،کس مقصد سے اور کہاں سے چلا رہے تھے؟

بتایا جاتاہےکہ اس سے قبل بھی اسی انسٹاگرام اکاؤنٹ کےخلاف ایک جوڑے کی شکایت پر پولیس نےکیس درج کرتےہوئے تحقیقات کا آغاز کیاتھا۔پولیس کےمطابق جھمنڈا۔آفیشل انسٹاگرام کےخلاف کئی مقامات پر شکایت درج کروائی گئی ہیں اور کیس بھی درج رجسٹر کیے گئے ہیں۔

انسٹاگرام پر اس”جھمنڈا ۔آفیشل” نامی اس آئی ڈی کو 17,400 سےزائد انسٹاگرام صارفین فالو کیاکرتے تھے۔اطلاعات کےمطابق اس پیج کے اڈمن نے چند دنوں قبل ایک پوسٹ لکھا تھا کہ 900 نوجوان لڑکے لڑکیوں(عاشق جوڑوں) کی ویڈیوز جمع کی جارہی ہیں۔

وہیں واٹس ایپ پر وائرل جھمنڈا۔2،ٹیم ترشول” نامی اس انسٹاگرام اکاؤنٹ کے 14,900 فالوورزتھے۔اس اکاؤنٹ کےخلاف بھی شکایت عام تھی۔اب اس معاملہ کے منظر عام پر آنے اور پولیس کی جانب سے جھمنڈا۔آفیشل کےخلاف کیس درج کیے جانے کے بعد سے مذکورہ دونوں انسٹاگرام اکاؤنٹ غائب ہوگئے ہیں۔جبکہ انہی ناموں اور اسی تصویر کے ساتھ زائداز ایک درجن اکاؤنٹس انسٹاگرام پر موجود ہیں۔

دستیاب اطلاعات کےمطابق مذکورہ بالا دونوں انسٹاگرام اکاؤنٹس پرایک مخصوص طبقہ کےنوجوان لڑکوں اورلڑکیوں کے گاڑیوں پر جاتے ہوئے، پارکوں،مالس،سینماتھیٹرس و ملٹی پلیکس میں خفیہ طریقہ سے ویڈیوزلیے جاتے تھے اور ان انسٹاگرام اکاؤنٹس پرپوسٹ کردئیے جاتے تھے۔پولیس کی جانب سے تحقیقات اور گرفتاریوں کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ اس انسٹاگرام اکاؤنٹ کو کون چلارہے تھے؟ اور ان کا مقصد کیا تھا؟؟