وزیر اعظم نریندر مودی نے سکندرآباد۔تروپتی وندے بھارت ایکسپریس کو ہری جھنڈی دکھائی، تلنگانہ میں 11,300 کروڑکے مختلف کاموں کے لیے سنگ بنیاد

وزیراعظم نریندر مودی نے سکندرآباد۔تروپتی وندے بھارت ایکسپریس کو ہری جھنڈی دکھائی
تلنگانہ میں 11,300 کروڑ روپے کے مختلف کاموں کے لیے سنگ بنیاد
سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کی تزئین کاری،ہائی ویز کی تعمیر اور ایمس بی بی نگر بھی شامل

حیدرآباد: 08۔اپریل (سحر نیوز ڈاٹ کام)

وزیراعظم نریندرمودی نے آج ہفتہ کے روز تلنگانہ کےسکندرآباد ریلوے اسٹیشن پر سکندرآباد۔تروپتی وندے بھارت ایکسپریس کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔طے شدہ مقام پر پہنچ کر وزیراعظم نے سکندرآباد۔تروپتی وندے بھارت ایکسپریس کا مشاہدہ کیا اور بچوں کے ساتھ ساتھ ٹرین کے عملے سے بھی بات چیت کی۔

سکندرآباد۔تروپتی وندے بھارت ایکسپریس جو آئی ٹی سٹی،حیدرآباد کو بالاجی وینکٹیشور مندر کے شہر تروپتی سے جوڑتی ہے،یہ دوسری وندےبھارت ٹرین ہے جو تین ماہ کے عرصہ میں ریاست تلنگانہ سے شروع کی گئی ہے۔یہ ٹرین دونوں شہروں کےدرمیان سفرکے وقت میں تقریباً ساڑھے تین گھنٹے کی کمی کر دے گی اور اس مندر کے درشن کو جانے والے بھگتوں کے لیے خاص طور پر فائدہ مند ہوگی۔

اس موقع پر وزیراعظم کےساتھ گورنر تلنگانہ ڈاکٹر تمل سائی ساؤندر راجن،مرکزی وزیر برائے ریلوے اشونی ویشنو اور مرکزی وزیرسیاحت جی کشن ریڈی،ریاستی وزیر تلسانی سرینواس یادو بھی موجود تھے۔

وندے بھارت ٹرین سکندرآباد اور تروپتی کے درمیان ہفتہ میں 6 دن چلے گی۔یہ ٹرین سکندرآباد سے 11.30 بجے دن روانہ ہوگی اور رات 9 بجے تروپتی ریلوے اسٹیشن پہنچے گی۔یہ ٹرین تلنگانہ کے سکندرآباد ریلوے اسٹیشن سے تروپتی ریلوے اسٹیشن تک کا 660 کلومیٹر کا فاصلہ ساڑھے آٹھ گھنٹوں میں طے کرے گی۔

صد فیصد ایئر کنڈیشنڈ،تمام عصری سہولتوں سےلیس جیسے خودکار دروازے،جی پی ایس سسٹم اور وائی فائی سرویس سےلیس وندے بھارت ٹرین صد فیصد دیسی ٹیکنالوجی سے تیار کی گئی ہے۔اب تک ملک میں جملہ 11 وندے بھارت ٹرینوں کا آغاز کیا گیا اب ان کی تعداد 12 ہو گئی ہے۔ سب سے پہلے وندے بھارت ٹرین دہلی سے وارانسی کے درمیان شروع کی گئی تھی۔اس کے علاوہ نئی دہلی۔ویشنو دیوی روٹ،گاندھی نگر-ممبئی روٹ،دہلی۔اندور روٹ،چنئی-میسور روٹ،ناگپور۔بلاسپور روٹ۔ہوڑہ۔نیوجلپائی گوڑی روٹ،وشاکھاپٹنم۔سکندرآباد روٹ،ممبئی۔سائی نگر شرڈی روٹ ،ممبئی۔شولاپور اور بھوپال۔دہلی وندے بھارت ٹرین چلائی جا رہی ہے۔

قبل ازیں وزیراعظم نریندر مودی خصوصی ہوائی جہاز سے حیدرآباد کے بیگم پیٹ ایئر پورٹ پہنچے۔جہاں ریاستی گورنر ڈاکٹر تملسائی سوؤندر راجن اور بی جے پی قائدین نے ان کا استقبال کیا۔اس مرتبہ بھی وزیراعظم کےدورہ حیدرآباد کےموقع پرچیف منسٹرتلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ وزیراعظم کے استقبال کےلیے ایرپورٹ نہیں پہنچے۔بلکہ انہوں نےماضی کی طرح اس مرتبہ بھی ریاستی وزیرافزائش مویشیان وسینماآٹوگرافی تلسانی سرینواس یادو کو وزیراعظم کے استقبال کے لیے روانہ کیا۔

بعدازاں وزیراعظم نریندر مودی نے سکندرآباد پریڈ گراؤنڈ میں 11,300 کروڑ روپے سے زائد کے صرفہ سے تلنگانہ میں مختلف پروجیکٹوں کے لیے سنگ بنیاد رکھا اور انہیں قوم کے نام معنون کیا۔ان پروجیکٹوں میں ایمس بی بی نگر،حیدرآباد کا سنگ بنیاد،پانچ نیشنل ہائی وے پروجیکٹوں اور سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کی از سر نو تعمیر شامل ہے۔انہوں نے ریلوے سےمتعلق دیگر ترقیاتی منصوبوں کو بھی قوم کے نام معنون کیا۔

سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کی 720 کروڑ روپئے کے صرفہ تزئین نو کےلیے وزیراعظم نے سنگ بنیاد رکھا۔اس ریلوے اسٹیشن کو عالمی معیار کی سہولیات اور ایک جمالیاتی طور پر ڈیزائن کردہ آئیکونک اسٹیشن عمارت کے ساتھ بڑے پیمانے پر تبدیلی کی جائے گی۔نئے سرے سے تیار کردہ اسٹیشن میں مسافروں کو تمام سہولیات کے ساتھ ایک جگہ پر ڈبل لیبل کشادہ چھت والا پلازہ ہوگا اور ساتھ ہی ملٹی ماڈل کنکٹیوٹی کے ساتھ مسافروں کو ریل سے دوسرے طریقوں میں بغیر کسی رکاوٹ کی منتقلی فراہم کی جائے گی۔

پروگرام کے دوران وزیر اعظم نے حیدرآباد ۔سکندرآباد جڑواں شہر کےمضافاتی علاقے میں 13 نئی ایم ایم ٹی ایس خدمات کوجھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔انہوں نےسکندرآباد۔محبوب نگر پروجیکٹ کی دوہراکاری اور برق کاری کے کام کو بھی قوم کے نام معنون کیا۔85 کلومیٹرسے زیادہ کی مسافت پر محیط اس منصوبے کو تقریبا ً 1410 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے۔یہ منصوبہ بغیر کسی رکاوٹ کے رابطے کی سہولت فراہم کرے گا اور ٹرینوں کی اوسط رفتار میں اضافہ کرے گا۔

وزیراعظم نے حیدرآباد میں ایمس بی بی نگر کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ایمس بی بی نگر کو 1350 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سےتیار کیاجارہا ہے۔ وزیراعظم نے قومی شاہراہوں کے منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا جس کی مالیت 7850 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔جو تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے سڑک رابطے کو مضبوط بنائے گا۔

بعدازاں پریڈ گراونڈ میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندرمودی نے ملک کے عوام کی امیدوں، امنگوں اور خوابوں کو پورا کرنے کے لیے اپنی حکومت کی ترجیح کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مٹھی بھر لوگ ترقی کی پیش رفت سے بہت پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقربا پروری اور کرپشن کو پروان چڑھانے والوں کا ملک کے مفاد اور معاشرے کی فلاح و بہبود سے کوئی تعلق نہیں ہے، جبکہ ایمانداری سے کام کرنے والوں کے لیے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے تلنگانہ کے عوام کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر پروجیکٹ اور سرمایہ کاری میں صرف اپنے خاندان کا مفاد دیکھتے ہیں۔

بدعنوانی اور اقربا پروری کے درمیان مماثلت کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیاکہ جب اقربا پروری ہوتی ہے توکرپشن پھلنا پھولنا شروع ہوجاتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کنٹرول،اقربا پروری اور خاندان پرست سیاست کا بنیادی اصول ہے۔ اس طرح کے اصولوں پر اپنی تنقید کو آگے بڑھاتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خاندان پرست ہر نظام پر اپنا کنٹرول رکھنا چاہتے ہیں اور جب کوئی ان کے کنٹرول کو چیلنج کرتا ہے تو اس سے نفرت کرتے ہیں۔

ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر سسٹم اور ملک بھر میں ڈیجیٹل ادائیگی کے فروغ کی مثال دیتے ہوئے وزیر اعظم نے ان خاندانی قوتوں پر انگلی اٹھائی جنہوں نے کنٹرول میں رکھا کہ کس فائدہ اٹھانے والے کو کیا فائدہ ملے گا اور اس صورت حال سے پیدا ہونے والے تین مفاہیم کی وضاحت کی۔ پہلی بات، وزیراعظم نے کہا کہ خاندان کی تعریف ہوتی رہے۔ دوم کرپشن کا پیسہ خاندان کو آتا رہے اور تیسرا یہ کہ غریبوں کے لیے جو پیسہ بھیجا جاتا ہے وہ کرپٹ ایکو سسٹم کو ملتا رہے۔ آج مودی نے بدعنوانی کی اصل جڑ پر حملہ کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ ہلے ہوئے ہیں اور جو کچھ بھی کیا جا رہا ہے اس سے وہ غصے میں ہیں۔ مودی نے ان سیاسی جماعتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جو احتجاج کے طور پر عدالت میں گئیں لیکن انہیں ایک جھٹکے سے نمٹا دیا گیا۔

وزیراعظم نے کہاکہ آئین کی اصل روح کا احساس تب ہوتا ہے جب جمہوریت کو حقیقی معنوں میں مضبوط کرنے کے لیے سب کا وکاس کے جذبے کے ساتھ کام کیا جاتا ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ 2014 میں مرکزی حکومت کی خاندانی سیاست کے زنجیروں سے آزاد ہونے کا نتیجہ پورا ملک دیکھ رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 9 سالوں میں ملک کی 11 کروڑ ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو بیت الخلاء کی سہولت ملی ہے، جس میں تلنگانہ کے 30 لاکھ سے زیادہ خاندان شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں 9 کروڑ سے زیادہ بہنوں اور بیٹیوں کو مفت اجولا گیس کنکشن ملے ہیں جس میں گزشتہ 9 سالوں میں تلنگانہ کے 11 لاکھ سے زیادہ غریب خاندان شامل ہیں۔