ملک میں بخار سے لے کر امراض قلب کی ادویات ہوجائیں گی مہنگی، یکم اپریل سے 800 مختلف ادویات کی قیمتوں میں بھی ہورہا ہے اضافہ

جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اُس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے

بخار سے لے کر امراض قلب کی ادویات تک ہوجائیں گی مہنگی
اب یکم اپریل سے 800 مختلف ادویات کی قیمتوں میں بھی ہورہا ہےاضافہ
پانچ دنوں کے دؤران پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں چار مرتبہ اضافہ

نئی دہلی: 26۔مارچ (سحرنیوز ڈاٹ کام)

اس ملک کا ہر طبقہ چاہے وہ امیر ہو،یا مڈل کلاس یا پھر غریب طبقہ ہو چند سال سے مہنگائی کی چکی میں اطمینان اور سکون کے ساتھ پستا جارہا ہے! اس ملک نے وہ دؤر بھی دیکھا ہے جب کبھی مرکزی حکومت پٹرول،ڈیزل پرمعمولی 50 پیسوں کا اور پکوان گیس کے فی سیلنڈر پر پانچ روپئے کا بھی اضافہ کردیتی تو اپوزیشن جماعتیں اپنے قائدین اور کارکنوں کے ساتھ سڑکوں پر آجایا کرتی تھیں اور مہنگائی کا شکار ہونے والے عوام خود اپنی طرف سے ان اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ شامل ہوجایا کرتے تھے۔

دھرنے دئیے جاتے،ریالیاں نکالی جاتیں،خالی پکوان گیس کے سیلنڈرز کے ساتھ خواتین راستے بند کرکے سڑکوں پر بیٹھ جاتیں۔اس وقت کی اپوزیشن جماعتوں کے اعلیٰ قائدین سائیکلیں چلاتے ہوئے سڑکوں پر آجایا کرتے تھے،بیل بنڈیوں میں موٹرسیکلوں کو رکھ کر شدید احتجاج کیا جاتا۔

بالآخر اپوزیشن جماعتوں کے اس احتجاج کو حاصل عوامی تائید کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت اضافہ شدہ قیمتوں کے اعلان سے دستبردار ہوجاتی یا پھر اضافہ شدہ رقم میں تخفیف کردی جاتی۔بھلا ہو اس وقت کی ان اپوزیشن جماعتوں کا کہ انہیں عوام کی فکر ہوتی تھی۔

لیکن چند سال سے پٹرول،ڈیزل اور پکوان گیس کی قیمتیں دو تا تین گنا بڑھ گئی ہیں۔چاول،دالیں،خوردنی تیل،شکر،آٹا،دودھ،ترکاریوں کے ساتھ ساتھ تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان چھورہی ہیں، متوسط اور غریب طبقہ کی قوت خرید سے یہ اشیا باہر ہوگئی ہیں لیکن اس کے باؤجود احتجاج کرنے والی وہ اپوزیشن جماعتیں نظر نہیں آرہی ہیں!!کیوں اور کیسے نظر آئیں گی؟

کیونکہ وہی اپوزیشن جماعت جس کا نام بھارتیہ جنتا پارٹی ہے نے 2014 میں”بہت ہوئی مہنگائی کی مار۔اب کی بار مودی سرکار” اور اچھے دنوں کا وعدہ کرتے ہوئے ملک کا اقتدار حاصل کرلیا۔اس طرح مہنگائی کا شکار اس ملک کے عوام ایک عوام دوست،ہمدرد اور مضبوط اپوزیشن جماعت سے محروم ہوگئی!!جس کے دؤر میں ہی گزشتہ 8 سال سے پٹرول،ڈیزل، پکوان گیس اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں آگ لگی ہوئی ہے!

اب کانگریس کے علاوہ دیگر اپوزیشن جماعتیں اگر بڑھتی مہنگائی کے خلاف احتجاج کرتی بھی ہیں تو ان کے پیچھے صرف ان کے اپنے پارٹی قائدین اور کارکنوں کے سوائے مہنگائی سے شدید پریشان عوام کا دور دور تک پتہ نہیں ہوتا!!شاید اس کی وجہ بی جے پی سے عوام کی محبت یا اندھی عقیدت ہے؟

یا پھر عوام مہنگائی سے تو پریشان ہے لیکن سوشل میڈیا پر اتنی مصروف ہوگئے ہیں کہ اس کو دھیان ہی نہیں رہا کہ 415 روپئے میں دستیاب ہونے والا پکوان گیس سیلنڈر اب 1000 روپئے سے زائد قیمت پر مل رہا ہے!

70 روپئے فی لیٹر پٹرول کی قیمت سنچری مارچکی ہے اور ڈیزل کی قیمت سنچری کے قریب پہنچ رہی ہے۔خوردنی تیلوں،دالوں،آٹا،چاول کے علاوہ تقریباً تمام اشیا مہنگائی کے سارے ریکارڈ توڑچکے ہیں!! 

یا پھر عوام کے لیے مہنگائی "بواسیر”کے مرض کے مماثل ہوگئی ہے کہ شرم کے مارے نہ کسی کو بتاسکتے ہیں اور نہ ہی دکھاسکتے ہیں!! اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ چند سال قبل تک” آٹا سستا اور ڈاٹا مہنگا ہوا کرتا تھا”۔اور اب ڈاٹا سستا اور آٹا مہنگا ہوگیا ہے!!

اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ اور آسمان چھوتی مہنگائی سے پہلے ہی سے پریشان عوام کو مرکزی حکومت نے 22 مارچ کو زبردست جھٹکا دیتے ہوئے گھریلو پکوان گیس کی قیمت میں فی سیلنڈر 50 روپئے،پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 80 پیسے فی لیتر کا اضافہ کیا تھا۔ملک میں ان پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں 137 دنوں کے بعد اضافہ کیا گیا تھا۔کیونکہ اتر پردیش،گوا،پنجاب،منی پور اور جھارکھنڈ جیسی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر 4 نومبر سے قیمتوں میں اضافہ کو روک دیا گیا تھا۔

اب 22 مارچ سے آج 26 مارچ تک ان پانچ دنوں کے دؤران پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید چار مرتبہ فی لیتر 80 پیسوں کا اضافہ کیا گیاہے۔اس طرح ان پانچ دنوں کے دؤران مرکزی حکومت زور کے جھٹکے، دھیرے سے دئیے ہیں۔اور پانچ دنوں کے دؤران چار قسطوں میں پٹرول اور ڈیزل پر پورے 3 روپئے 20 پیسے  کا فی لیتر کا اضافہ کیا گیا۔

ظاہر سی بات ہے کہ پٹرول بالخصوص ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث مختلف اشیا جن میں اشیائے ضروریہ بھی شامل ہیں کی قیمتوں میں بھی حمل و نقل کے کرایوں میں اضافہ کے پاس مزید آگ لگ جائے گی!!اطلاع ہے کہ پکوان گیس کی قیمت میں بھی دوبارہ 50 روپئے کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

پھر بھی یہ تو طئے ہے کہ عوام پر اس سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے؟سارا میڈیا اور پور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز  پر عوام کا بڑا طبقہ ” فلم کشمیر فائلز ”  کی تائید اور مخالفت میں مصروف کردیا گیا ہے۔جب اس ڈفلی کی آواز دھیمی پڑجائے گی تو پھر کوئی اور ایشو تھمادیا جائے گا!!

یہی مہنگائی کی مار کیا کم تھی کہ اب مرکزی حکومت کی جانب سے یکم اپریل سے بخار سے لے کر امراض قلب میں تک استعمال کی جانے والی 800 سے زائد ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جن میں پیراسیٹامول Paracetamol# بھی شامل ہے جو بخار کی شدت کو کم کرنے کے لیے کوئی بھی غریب انسان کسی بھی میڈیکل ہال سے خرید لیا کرتا ہے۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق ان ادویات کی قیمتوں میں کم از کم 10.7 فیصد اضافہ کیا جانے والا ہے۔حکومت کی جانب سے پیراسیٹامول سمیت 800 سے زائد ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا۔جن میں بخار،امراض قلب،ہائی بلڈ پریشر،جلد کے امراض اور خون کی کمی کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات بھی شامل ہیں۔

یکم اپریل سے درد کم کرنے والی ادویات عوام کے درد میں اضافہ کا باعث بننے والی ہیں۔اس کے علاوہ اینٹی بائیوٹکس جیسی ضروری ادویات جیسے پیراسیٹامول،فینیٹوئن سوڈیم،میٹرو نیڈازول کی بھی قیمتوں میں اضافہ ہونے والا ہے۔

میڈیا ذرائع کے بموجب اچھے دن آنے والے ہیں کا نعرہ دینے والی مرکز کی نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے ادویات کی اضافہ شدہ قیمتوں میں اضافہ کرنے کو منظوری دے دی ہے۔”نیشنل فارما پرائزنگ اتھارٹی (این پی پی اے)کے مطابق ملک میں ہول سیل مہنگائی کی بنیاد پر ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

میڈیا ذرائع سے دستیاب اطلاعات کے مطابق ملک میں کورونا وبا کے آغاز کے بعد ہی فارما سیوٹیکل کمپنیوں کی جانب سے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔حکومت کے فیصلے کے بعد ادویات کی قیمتوں میں کم از کم 10.7 فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے۔یاد رہے کہ جان بچانے والی اہم ادویات کوشیڈول ادویات کے زمرہ میں شامل کیا جاتا ہے اور ان کی قیمتوں کو حکومت کنٹرول کرتی ہے۔حکومت کی اجازت کے بغیر ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔

جن ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہونے والا ہے ان میں وہ اہم ادویات بھی شامل ہیں جنہیں ہسپتالوں میں شریک ہونے والے کورونا وائرس کے شدید متاثرین کے علاج میں استعمال کیا گیا تھا۔اور ساتھ ہی ان ادویات کی قیمتوں میں بھی اضافہ طئے ہے جنہیں بناء ہسپتالوں کو گئے اپنے مکانات میں ہی استعمال کرتے ہوئے بالخصوص غریب طبقہ کورونا وباء کے دؤران محفوظ رہا تھا۔غرض اشیائے ضروریہ سے لیکر پٹرول،ڈیزل،پکوان گیس کے ساتھ ساتھ اب مرکزی حکومت عوام کو ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کی سوغات دینے جارہی ہے!!