علامہ اقبال،عظمت و حقوقِ بشر کا آفاقی شاعر
شعبہ اُردو یونیورسٹی آف حیدرآباد میں ڈاکٹر تقی عابدی کا آن لائن توسیعی لیکچر
’’اردو ادب میں مرزا غالب کے بعد تفکر و تخیل اور شعریت کا امتزاج اگر کسی شاعر کے یہاں مساوی پایا جاتا ہے تو وہ علامہ اقبال ہیں کسی نے علامہ اقبال کو ملی شاعر کہا،کسی نے اسلامی شاعر کہا،کسی نے فلسفی شاعر کہا تو کسی نے انہیں قومی شاعرقرار دیا۔اقبال مجموعی طور پر آفاقی شاعر ہیں،عظمتِ انسان کا شاعر ہے” حقوقِ بشر کا شاعر ہے”۔
ان خیالات کا اظہار اردو کے ممتاز ادیب،محقق و نقاد ڈاکٹر تقی عابدی (کینیڈا) نے شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدرآباد کے زیر اہتمام منعقدہ آن لائن توسیعی لیکچر (14 نومبر 2021 بروز اتوار بوقت صبح 11 بجے) میں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نکلسن نے جب علامہ اقبال کے اسرار خودی کا ترجمہ کیا تو اس نے کہا کہ علامہ اقبال کی معنویت کا راز اس نکتہ میں پوشیدہ ہے کہ وہ عظیم شاعر کی طرح اپنے زمانے میں قید نہیں بلکہ گزشتہ زمانے سے روشنی حاصل کرتے ہوئے آئندہ زمانے کے لیے خواب اور اس کی تعبیر اور آ نے والی نسلوں کے لیے امید راہ بن جاتے ہیں۔
ڈاکٹر تقی عابدی نے شاعر مشرق کے کلام کی اہمیت اور معنویت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کے علامہ کے فارسی اور اردو کے اشعار جو تقریباً ساڑھے چودہ اور پندرہ ہزار کے درمیان ہیں،قارئین کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کا مطالعہ کریں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقبال کا مرد مومن کے حوالے سے نوجوان نسل کو مخاطب کیا ہے۔
جوانوں کو سوز جگر بخش دے
میرا شوق میری نظر بخش دے
اقبال کہتے ہیں کہ "میرا پیغام ہی میری دولت ہے میرے پاس نہ سلطنت ہے نہ جواہر ہیں۔میں اپنی فقیری میں ہی خوش ہوں اسی فقیری نے مجھے امیر کیا”۔
انہوں نے کہا کہ اقبال عظیم شاعر اس وجہ سے ہیں کہ اقبال کی گفتگو انسان اور انسانیت سے ہے۔
اسرار خودی کے دیباچے میں اقبال نے کہا کہ میرا مقصد اسلام کی وکالت نہیں بلکہ میری قوت جستجو صرف اس چیز پر مرکوز رہی ہے کہ ایک جدید معاشرتی نظام کس طرح تشکیل دیا جائے۔اقبال کہتے ہیں کہ۔
’’ آشنائے من زمن بے گانہ رفت‘‘
میرا جاننے والا مجھ سے اجنبی بن کر چلا گیا۔
انہوں نے قرآن مجید کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ قران و ہ واحد کتاب ہے جس نے انسان کے بارے میں تین ایسی چیزیں کہی ہیں جو دوسری آسمانی کتابیں نہیں کہہ سکیں۔پہلا یہ کہ انسان اشرف المخلوقات ہے،دوسرا یہ کہ انسان تنہا مخلوق ہے جس کو خلیفہ کا درجہ ملاہے تیسرا یہ کہ انسان جمہور اور مختار کے درمیانی کیفیت کا حامل ہے۔اقبال کہتے ہیں کہ آدمیت اصل میں احترام آدمی ہے۔آج بھلے ہی انسان چاند پر پہنچ گیا ہو لیکن اخلاقی اعتبار سے وہ نیچے گر گیا ہے۔
آگے وہ کہتے ہیں کہ "Civilization is how you treat your minority”
وہ سجدہ روح جس سے روح زمین کانپ جاتی ہے
اسی کو آج ترستے ہیں مسجد و محراب
رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے اقبال
وہ دن وہ آرزو باقی نہیں ہے
نماز و روزہ قربانی و حج
یہ سب باقی ہے تو باقی نہیں
اقبال کہتے ہیں کہ کوئی انسان دوسرے انسان کا اس دنیا میں محتاج نہ رہے۔انسان اپنے اندھے پن سے دوسرے آدمی کا غلام بن گیا اور غلامی کرتے کرتے وہ کتوں سے بھی بدتر ہو گیا۔
بر ترس گر دوم مقام آدمس
اصل تہذیب احترام آدمس
اقبال کا کہنا ہے کہ اصل تہذیب یہ ہے کہ دوسرے آدمی کا احترام کیسے کیا جائے۔علامہ اقبال نے رشوت خوری اور یتیموں کا حق کھانا وغیرہ موضوعات پر بھی لکھا ہے۔یعنی عظمتِ آدم اور حقوقِ آدم ان کے نزدیک اہمیت کے حامل ہیں۔اگر علم میں عمل نہیں تو علم بیکار اور عمل میں اخلاص نہیں عمل بیکار اور اگر اخلاص میں اگر یقین نہیں تو اخلاص بیکار۔
اقبال نے کہا کہ انسان کو عزت نفسی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہیے۔اقبال زمانے حال کی تعلیم و تربیت سے خوش نہیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ تعلیم فکر کو تو آزاد کرتی ہے لیکن خیالات کو بے ربط کرتی ہے۔ہم سب مغربی تہذیب کے قائل ہیں۔
ڈاکٹر تقی عابدی نے اردو اور فارسی کے بیسوں اشعار کے حوالے سے اقبال کے ہاں عظمت و حقوقِ بشر کے موضوع پر تقریباََ ایک گھنٹہ تک پُر مغز خیالات کا اظہار کیا۔
اس بصیرت آموز لیکچر کے بعد مختصر مذاکرہ کا بھی وقت تھا۔جس میں عامر جاوید،جمال الدین، تیمور اور دیگر طلبا نے سوالات کیے۔جن کے ڈاکٹر تقی عابدی نے تشفی بخش جوابات دئیے۔

آخر میں صدر شعبہ اردو،یونیورسٹی آف حیدرآباد پروفیسرسیدفضل اللہ مکرم نے ڈاکٹر تقی عابدی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے حقوق بشر اور عظمت بشر کے حوالے سے بہت عمدہ گفتگو کی اور مزید کہا کہ عظمت انسان اس وقت تک بیان نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس کا سبب معلوم نہ ہو کہ کس وجہ سے انسان کو وہ عظمت عطا کی گئی۔
نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے
مشرقی سے ہو نہ بیزار نہ مغرب سے حذر کر
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر
صدر شعبہ اردو نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار ذمہ داریاں دی ہیں اگر وہ ان ذمہ داریوں کو پورا کرتا ہے تبھی اس کی عظمت بحال ہوتی ہے۔آج کے پُرآشوب دور میں علامہ اقبال کو بدنام کیا جاتا ہے۔ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انسان دوستی،انسان سازی،عظمت انسان اور حقوق بشر کے حوالے سے کلامِ اقبال کو لوگوں تک پہنچائیں۔
اس یادگار توسیعی لیکچرکا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی قرات شعبہ اردو کے پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر گلزار احمد نے کی۔جب کہ پروگرام کی نظامت شعبہ اُردو کے پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر جاوید رسول نے بہترین انداز میں کی۔انہوں نے علامہ اقبال کے کئی ایک اشعار سنائے۔
اس توسیعی لیکچر میں ملک اور بیرون ملک سے مختلف اساتذہ و طلباء اور ریسرچ اسکالرز کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
رپورتاژ : نیہا نورین پی۔ایچ۔ڈی ریسرچ اسکالر یونیورسٹی آف حیدرآباد

