ہمارے اسلاف نے سائنس و ٹکنالوجی پر بہت کام کیے ہیں ، نامور سائنسدانوں نے کئی ایجادات کیے ہیں:ڈاکٹر محمد غوث

ہمارے اسلاف نے سائنس و ٹکنالوجی پر بہت کام کیے ہیں، نامور سائنسدانوں نے کئی ایجادات کیے ہیں
تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی کے زیراہتمام "نیشنل لائبریری ویک” کے ضمن میں ادبی اجلاس کا انعقاد
ڈائرکٹر/سیکریٹری ڈاکٹرمحمدغوث،ممتازصحافی جناب اشہر ہاشمی،ڈاکٹرعبدالقدوس،عارف الدین احمد کا خطاب

حیدرآباد: 20۔نومبر (پریس ریلیز/سحرنیوزڈاٹ کام)

تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی کے زیر اہتمام خواجہ شوق ہال،اردو مسکن،خلوت حیدرآباد میں "نیشنل لائبریری ویک(14 نومبرتا 20 نومبر 2021) کے ضمن میں ڈاکٹر محمد غوث ڈائرکٹر /سکریٹری تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی کی زیر صدارت میں بعنوان”طلبہ کی ذہن سازی میں کتب خانوں کا رول‘‘ ایک ادبی اجلاس منعقد ہوا۔اس اجلاس کا آغاز شیخ اسمٰعیل سینئر اسٹینو اردو اکیڈیمی کی قراتِ کلام پاک سے ہوا۔

اس ادبی اجلاس سے اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر محمدغوث ڈائرکٹر /سکریٹری تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی نے تمام مہمان مقررین کا خیر مقدم کرتے ہوئے لائبریری کی اہمیت و افادیت سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ہمارے اسلاف نے سائنس اور ٹکنالوجی پر بہت کام کیا ہے،ہمارے اسلاف میں کئی بڑے بڑے سائنسدان گزرے ہیں۔جنہوں نے اپنے کامیاب تجربات کے ذریعہ کئی ایجادات کی ہیں۔

ڈاکٹر محمد غوث نے اپنے خطاب کے دوران ثبوت کے طور پر ایک اسکول کی ڈاکیومنٹری کے ذریعہ بتایا کہ ہمارا روشن ماضی کتنا تابناک تھا اور کس طرح ہمارے اسلاف نے کیا کیا ایجادات عمل میں لائی ہیں۔

ڈائرکٹر /سکریٹری تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی ڈاکٹر محمد غوث نے اپنے خطاب میں کہاکہ زیادہ طور پر کتابوں اور لائبریری کا استعمال اور مطالعہ اپنے ماضی سے باخبر رہنے والے ہی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی سائنٹسٹ،فلسفی اور دانشور کا تعلق لائبریری سے ہوتا ہے۔

ڈائرکٹر /سکریٹری اردواکیڈیمی نے کہا کہ ہمیں اپنی نسل میں روز ایک نئے قائد کو پیدا کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ کتابیں ہماری میراث ہوتی ہیں،ان کی حفاظت اسی وقت ہوسکتی ہے جب ہم ان کتابوں کامطالعہ کریں اور تحقیق کریں۔

قبل ازیں کلکتہ سے تشریف لائے ممتاز صحافی اشہر ہاشمی نے اس اجلاس سے اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری زندگی میں کتاب بہت اہم چیز ہے،انہو ں نے کہا کہ ہم اپنے دؤر میں کتابوں کے دور میں تھے،لیکن آج انٹر نیٹ گوگل پر دستیا ب ہورہا ہے لیکن ابھی بھی اتنا عظیم خزانہ ایسا ہے جو آپ کو گوگل پر نہیں ملے گا،پوری کتابیں نہیں ملیں گی۔

انہوں نے کہا کہ لائبریریاں صرف طلبہ کے لئے فائدہ مند نہیں ہیں بلکہ لائبریریوں نے ٹیچرس بھی پیداکئے ہیں اور قلمکار بھی پیدا کئے ہیں۔انہوں نے بچوں کے والدین سے کہا کہ تعلیم کے ساتھ تربیت اور روزگار کے شعبوں،سیکورٹی، عدلیہ اور انتظامیہ میں بچوں کو لے جانے کی کوشش کریں۔

مہمان مقرر ڈاکٹر عبدالقدوس نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ بات باعث مسرت ہے کہ تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی کے زیر اہتمام آج نیشنل لائبریری ویک کے ضمن میں ادبی اجلاس منعقد کیا جارہا ہے۔انہوں نے کتابوں اور لائبریری کی اہمیت سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ بغیر کتاب کے اور لائبریری کی مدد کے علم حاصل کرنامشکل ہے۔

انہوں نے طلبا وطالبات سے خواہش کی کہ وہ بچوں کے رسائل پڑھیں اس سے معلومات کے ساتھ ساتھ لکھنے کا بھی شوق پیدا ہوگا۔ڈاکٹر عبدالقدوس نے کہا حیدرآباد میں بعض اہم لائبریریاں ہیں جن میں آصفیہ سنٹرل لائبریری افضل گنج،سالارجنگ میوزیم،عثمانیہ یونیورسٹی ،مولانا آزاد یونیورسٹی میں لائبریریاں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ اردو اکیڈیمی اور گورنمنٹ ڈگری کالج حسینی علم کی لائبریریاں بھی ہیں جہاں سے طلبہ فیض حاصل کرسکتے ہیں اور آج ٹکنالوجی کے دور میں انٹرنیٹ پر بھی ہزاروں کتابیں دستیاب ہیں صرف ان کو حاصل کرنے اور مطالعہ کرنے کا شوق پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر محمدی اسریٰ سلطانہ اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ لائبریری و انفارمیشن سائنس گورنمنٹ ڈگری کالج برائے اناث حسینی علم نے اپنی تقریر میں تلنگانہ ریاستی اردو کی جانب سے لائبریریوں کے ضمن میں منعقدہ ادبی اجلاس کے انعقا د پر ڈاکٹر محمدغوث ڈائرکٹر /سکریٹری اردو اکیڈیمی کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ 1868ء میں آصفیہ لائبریری قائم ہوئی جس سے سابق میں اردو داں اصحاب نے بہت استفادہ کیا۔

لیکن آج حال یہ ہے کہ وہاں لوگ نہیں جارہے ہیں اور کتابیں دیمک کی نظر ہورہی ہیں،انہوں نے طلبہ سے خواہش کی کہ وہ لائبریریوں کو جایا کریں اور وہاں موجود کتابوں سے استفادہ کریں۔انہوں نے کہا کہ اردو زبان سیکھنے میں چھوٹے چھوٹے رسالے، اخبارات کی سرخیاں بہت کام آتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے بچوں کو اس کی عادت ڈالنا چاہیے۔

 ڈاکٹر مختار احمد فردین صدر ماس کمیونکیشن نے اپنے خطاب میں نیشنل لائبریری ویک کے موقع پر تلنگانہ اردو اکیڈیمی کے زیر اہتمام ادبی اجلاس کے انعقات پرمبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ لائبریریوں کے ذریعہ تعلیم اور ریسرچ میں بہت مدد ملتی ہے،طلبا کو چاہیے کہ وہ کتابوں کے مطالعہ کو اپنا معمول بنائیں۔سینئر صحافی عارف الدین احمد نے بھی اس اجلاس کو مخاطب کیا۔

سردارسلیم معاون ایڈیٹر روشن ستارے نے دلچسپ اور موثر انداز میں اس ادبی اجلاس کی نظامت کی۔

آخر میں محمد ارشد مبین زبیری انچارج ماہنامہ قومی زبان نے صدر اجلاس ڈاکٹر محمد غوث ڈائرکٹر /سکریٹری تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی، مہمان مقررین ڈاکٹر عبدالقدوس و ڈاکٹر محمدی اسری سلطانہ،اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ ڈگری کالج برائے اناث حسینی علم،جناب اشہر ہاشمی ممتاز صحافی کلکتہ،ڈاکٹر مختار احمد فردین صدر ماس کمیونکیشن،وی کرشنا سپرنٹنڈنٹ اردو اکیڈیمی اور دیگر مہمان مقررین،طلبا و طالبات،اردو اکیڈیمی کے عہدیداران و اراکین عملہ اور گورنمنٹ ڈگری کالج برائے اناث حسینی علم کی طالبات کا فرداً فرداً شکریہ ادا کیا۔