حیدرآباد میں دو خواتین کی خودکشی،ایک کو شوہر کا سیا ہوا بلاؤز پسند نہیں آیا دوسری کا شوہر سے اختلافات کے سبب انتہائی اقدام

حیدرآباد میں دو خواتین کی خودکشی
ایک کو شوہر کا سیا ہوا بلاؤز پسند نہیں آیا
دوسری کا شوہر سے اختلافات کے سبب انتہائی اقدام

حیدرآباد: 05۔ڈسمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

انسانی جان بہت قیمتی ہوتی ہے۔مختلف امراض کے شکار افراد سے بھرے ہوئے سرکاری اور خانگی ہسپتال اس بات کا ثبوت ہیں۔

مریضوں کے رشتہ دار مرض چاہے کتنا ہی جان لیوا ہو اپنے عزیزوں کی زندگیاں بچانے کے لیے اپنی ساری جمع پونجی لگا دیتے ہیں۔حتیٰ کہ اپنے پاس موجود زیورات کے علاوہ جائدادیں تک بیچ دیتے ہیں۔

وہیں اس نئے دؤر میں بدقسمتی سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر،مسائل اور اختلافات کے باعث خودکشی کے ذریعہ اپنی جانیں تلف کردینا ایک عام بات بنتی جارہی ہے!

خودکشی کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہوتا بلکہ یہ خود ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق ایک شخص کے خودکشی کرلینے سے اس سے وابستہ 135 افراد پر اس کے مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں!!

حیدرآباد میں دو خواتین کی خودکشی کے واقعات پیش آئے ہیں۔ان میں ایک خاتون نے محض اس لیے خودکشی کی کہ اس کے شوہر کی جانب سے اس کے لیے سیا گیا بلاؤز پسند نہیں آیا تھا اور دوسری بیوٹیشن خاتون نے اپنے شوہر کے ساتھ دو سال سے جاری اختلافات سے دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کرلی۔ان دونوں واقعات کی تفصیلات کے مطابق

گول ناکہ کے تروملا نگر میں مقیم سرینواسلو اور وجیہ لکشمی کو دو بچے ہیں۔سرینواسلو موٹرسیکل پر گھوم کر ساڑیاں، بلاؤز، ڈریس مٹیرئیل فروخت کیا کرتا ہے۔ساتھ ہی سرینواسلو ٹیلر بھی ہے جو اپنے خاندان کی کفالت کے لیے اپنے مکان میں ہی خواتین کے آرڈر پر بلاؤز کی سلوائی کرتا ہے۔

سرینواسلو نے کل ہفتہ کو اپنی بیوی وجیہ لکشمی کے لیے ایک بلاؤز سی کر دیا تھا۔تاہم بیوی وجیہ لکشمی کو اس بلاؤز کی سلوائی پسند نہیں آئی اور اپنے شوہر سے جھگڑا کیا۔جس پر شوہر سرینواسلو نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ اس بلاؤز کی سلوائی کے ٹانکے کھول دے گا پھر اپنے حساب سے وہ بلاؤز خود سی لے۔اس بات پر دلبرداشتہ وجیہ لکشمی (35 سالہ) نے اپنے مکان میں ساڑی کی مدد سے فیان سے لٹک کر خودکشی کرلی۔

جب دونوں بچے اسکول سے گھر لوٹے تو بیڈروم کا دروازہ اندر سے بند پایا اور دروازہ کھٹکھٹانے پر بھی نہیں کھولا گیا تو شوہر سرینواسلو نے بچوں کے ساتھ مل کر بیڈروم کا دروازہ توڑ کر اندر دیکھا تو وجیہ لکشمی کی نعش سیلنگ فیان سے لٹک رہی تھی اور اس کی موت واقع ہوگئی تھی۔

خودکشی جیسا انتہائی اقدام کرلینے والی وجیہ لکشمی اور بیوٹیشن انمٹ لیپچا کی خیالی تصویر۔

مقامی افراد نے اس واقعہ کی اطلاع عنبرپیٹ پولیس کو دی تو پولیس متاثرہ مکان پر پہنچ گئی بعد پنچنامہ نعش کو بغرض پوسٹ مارٹم ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اس سلسلہ میں عنبر پیٹ پولیس ایک کیس درج رجسٹر کرکے مصروف تحقیقات ہے۔     

حیدرآباد کے مادھا پور پولیس اسٹیشن کے حدود میں پیش آئےخودکشی کے دوسرے واقعہ کی تفصیلات سرکل انسپکٹر پولیس مادھاپور رویندرا پرساد کے مطابق مغربی بنگال کے دارجلنگ کی متوطن انمٹ لیپچا (39 سالہ) اپنے شوہر کی حیدرآباد میں ملازمت کی وجہ سے اپنے افراد خاندان کے ساتھ مادھاپور کے وٹھل راؤ نگر میں موجود الائنس بلینڈ اپارٹمنٹس میں مقیم تھی۔

لیکن انمٹ لیپچا اپنے شوہر کے ساتھ روزآنہ کےجھگڑوں کے تنگ آکر دوسال سے اپنے دونوں بچوں کے ساتھ حفیظ پیٹ میں علحدہ رہنے لگی تھی۔انمٹ لیپچا پیشہ سے بیوٹیشن Beautician تھی اور اس کے ذریعہ وہ اپنا گھر چلاتے ہوئے اپنے دونوں بچوں کی پرورش کررہی تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ چند دنوں سے شوہر اور بیوی میں دوبارہ لڑائی جھگڑوں کا آغاز ہوا تھا۔انمٹ لیپچا نے جمعہ کی نصف شب کے بعد اپنے مکان میں ساڑی کی مدد سے سیلنگ فیان سے لٹک کر خودکشی کرلی۔ہفتہ کی صبح انمٹ لیپچا کی ایک سہیلی جب اس کے مکان پہنچی تو اسے خودکشی کا علم ہوا اور اس نے مادھا پور پولیس کو اس واقعہ کی اطلاع دی۔

پولیس نے جائے مقام پر پر پہنچ کر بعد پنچنامہ نعش کو پوسٹ مارٹم کی غرض سے ہسپتال منتقل کیا۔سرکل انسپکٹر پولیس مادھاپور رویندرا پرساد نے بتایا کہ متوفی خاتون کی سہیلی کی شکایت پر پولیس ایک کیس درج رجسٹر کرکے مختلف زاویوں سے اس واقعہ کی تحقیقات میں مصروف ہے۔