تانڈور میں ہیضہ کے متاثرین کی تعداد 105 ہوگئی،بہتر علاج کے لیے چار متاثرین حیدرآباد منتقل
دست و قئے کا شکارہونے والوں میں بچے،خواتین، مرد اورضعیف افراد شامل
سمیت غذاء یا آلودہ پانی اہم وجہ،پانی آلودہ نہیں ہے!بلدیہ نے لیاب کی جانچ رپورٹ جاری کی
وقارآباد/تانڈور:05۔ڈسمبر(سحرنیوز ڈاٹ کام)

وقارآباد ضلع کے قدیم تانڈور کے تلگوگڈہ علاقہ کے عوام یکم ڈسمبر سے دست و قئے کا شکار ہورہے ہیں اور روزآنہ متاثرین کی تعداد کا علاج کی غرض تانڈور کے گورنمنٹ ضلع ہسپتال پہنچنے کا سلسلہ جاری ہے۔
پہلے دن دست و قئے کے شکار 38 متاثرین کو تانڈور کے گورنمنٹ ضلع ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا جن میں8بچے،15خواتین اور 13 مرد شامل تھے۔
اس کے بعد آج اتوار کو اسی علاقہ سے مزید 20 دست وقئے سے متاثرین کو ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔اس طرح آج اتوار تک اس بلدی حلقہ 18 میں شامل تلگو گڈہ میں دست و قئے سے جملہ 105 افراد متاثر ہوئے ہیں۔
ان میں چار متاثرین کو تشویشناک حالت میں بہتر علاج کی غرض سے حیدرآباد منتقل کردیا گیا ہے۔جن میں رحمت پاشاہ 59 سالہ،ساوتری 38 سالہ اور سندیپ 12 سالہ شامل ہیں۔

دست و قئے سے متاثرہ ان 105 افراد میں بچے،خواتین، مرد اور ضعیف تمام شامل ہیں۔ان میں سے چند افراد کو علاج کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج بھی کردیا گیا ہے اور ہنوز متاثرین کی ایک بڑی تعداد گورنمنٹ ضلع ہسپتال میں زیر علاج ہے۔
اس واقعہ کی اطلاع کے بعد رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی نے ہسپتال پہنچ کر متاثرین سے ملاقات کی اور ڈاکٹرس کو ہدایت دی کہ تمام متاثرین کو بہتر طبی امداد بہم پہنچائی جائے۔اس موقع پر ان کے ساتھ نائب صدر نشین بلدیہ تانڈور دیپا نرسملو، صدر ٹاؤن ٹی آر ایس ایم اے نعیم افو اور دیگر پارٹی قائدین بھی موجود تھے۔

بڑی تعداد میں دست و قئے کے متاثرین کو گورنمنٹ ضلع ہسپتال سے رجوع کیے جانے کے بعد ڈاکٹرس کا کہنا تھا کہ متاثرین بلدیہ تانڈور کی جانب سے نلوں سے سربراہ کیے جانے والے آلودہ پانی کے استعمال یا پھر سمیت غذاء کا شکار ہوئے ہیں!!۔
اسی دؤران متاثرین کا الزام ہے کہ نلوں کے ذریعہ آلودہ پانی کی سربراہی کی شکایت بلدی عہدیداروں سے کی گئی تھی تاہم اسے نظرانداز کردیا گیا۔
قدیم تانڈور کے تلگوگڈہ علاقہ میں محکمہ صحت کی جانب سے ہیلتھ کیمپ بھی قائم کیا گیا ہے۔
دو دن قبل ریاستی ایڈیشنل ڈائرکٹر محکمہ ہیلتھ ڈاکٹر امرسنگھ نے متاثرہ علاقہ کا دؤرہ کیا اور مقامی واٹرٹینک کا مشاہدہ کرنے کے بعد اس واٹر ٹینک کے علاوہ تانڈور میں موجود دیگر واٹر ٹینکس سے بھی جانچ کے لیے پانی کے نمونے حاصل کیے گئے تھے۔

آج بلدیہ تانڈور کے عہدیداروں کی جانب سے پانی کی جانچ کے بعد جاری کی گئی لیاب کی رپورٹ جاری میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ علاقہ اور تانڈور کے دیگر مقامات پر سربراہ کیا جانے والا پانی آلودہ نہیں اور دست و قئے کا شکار افراد پانی کی وجہ سے متاثر نہیں ہوئے ہیں!!
دوسری جانب ایسی اطلاعات عام ہیں کہ مقامی طور پر اس وباء سے قبل ایک جاترا ہوا تھا اور اس جاترا میں شرکت کرنے والے ہی زیادہ سمیت غذا سے متاثر ہوئے ہیں!!۔
آر ڈی او و انچارج کمشنر بلدیہ تانڈور اشوک کمار نے بھی دست و قئے کی وباء سے متاثر قدیم تانڈور کے تلگو گڈہ علاقہ کا دؤرہ کیا۔وہاں انہوں نے قائم کیے گئے ہیلتھ کیمپ کا مشاہدہ کرتے ہوئے بلدی عہدیداروں اور محکمہ صحت کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ اس وباء پر قابو پانے کے لیے تمامتر اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے بلدی عہدیداروں کو ہدایت دی کہ اس پورے علاقہ میں صفائی کے کام انجام دئیے جائیں اور جراثیم کش ادویہ کا چھڑکاؤ کیا جائے۔اور عوام کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے مکانات اور اطراف کے علاقوں کو صاف رکھیں۔
آر ڈی او اشوک کمار نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ پینے کے پانی گرم کرکے ٹھنڈا کرنے کے بعد استعمال کریں۔
بعد ازاں انہوں نے کاگنا ندی اور قدیم تانڈور کے درمیان جاری پانی کی پائپ لائن کے مرمتی کاموں کا مشاہدہ کیا۔اس موقع پر آر ڈی او کے ساتھ ڈی ای رنگا ناتھم، مینجئر بلدیہ بچی بابو،سینیٹری انسپکٹر شیام سندر کے علاوہ دیگر ان کے ساتھ تھے۔

