تلنگانہ میں اومی کرون کے جملہ 9 کیس درج،لندن سے واپس ہنمکنڈہ کی ایک خاتون بھی متاثر: ڈائرکٹر محکمہ صحت

تلنگانہ میں اومی کرون کے جملہ 9 کیس درج
لندن سے واپس ہنمکنڈہ کی ایک خاتون بھی متاثر،عوام خوفزدہ نہ ہوں
 ریاستی ڈائرکٹر محکمہ صحت ڈاکٹر سرینواس راؤ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد: 17۔ڈسمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

حیدرآباد میں اومی کرون کے متاثرین کی تعداد اب 9 ہوگئی ہے ڈائرکٹر محکمہ صحت تلنگانہ ڈاکٹر سرینواس راؤ نے آج جمعہ کے دن پریس کانفرنس میں اس کی تصدیق کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لندن سے واپس ہونے والی ایک خاتون جن کا ہنمکنڈہ سے تعلق ہے واپسی کے 8 دن بعد اومی کرون سے متاثر پائی گئی ہیں۔

ڈائرکٹر محکمہ صحت تلنگانہ ڈاکٹر سرینواس راؤ نے آج 17 ڈسمبر بروز جمعہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک حیدرآباد ایرپورٹ پر دس ممالک سے حیدرآباد ایرپورٹ پہنچنے والے جملہ 6،564 مسافرین کی جانچ کی گئی ان میں سے 9 اومی کرون متاثرین کی شناخت ہوئی جن میں سے 8  ریاست سے داخل ہوئے ہیں جبکہ ایک کیس مغربی بنگال کا ہے۔

انہوں نے تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے بتایا کہ تین متاثرین کینیا سے،دو دبئی سے،ایک ابوظہبی سے،ایک لندن سے،ایک سوڈان سے اور ایک چیک ری پبلک سے حیدرآباد ایرپورٹ پہنچے تھے۔

ڈائرکٹر محکمہ صحت تلنگانہ ڈاکٹر سرینواس راؤ نے میڈیا کو بتایا کہ لندن سے آنے والی خاتون کی جب ایرپورٹ پر جانچ کی گئی تو ان کا ٹسٹ نگیٹیو تھا اور انہیں ان کے مکان میں قورنطین میں رکھا گیا تھا۔بعد ازاں 8 دن بعد محکمہ صحت کے ملازمین نے ان کے نمونے حاصل کرتے ہوئے ” جینیئوم سیکوینس” کو روانہ کیے تو ان کی اومی کرون رپورٹ پازیٹیو آئی ہے۔ 

ساتھ ہی ڈائرکٹر محکمہ صحت تلنگانہ ڈاکٹر سرینواس راؤ نے ریاست کے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہرگز خوفزدہ یا پریشان نہ ہوں۔اومی کرون سے موت کا خطرہ نہیں ہوتا۔انہوں نے بتایا کہ ان تمام 9 اومی کرون متاثرین میں کسی بھی قسم کی علامات نہیں پائی گئی ہیں۔

ڈاکٹر سرینواس راؤ نے انکشاف کیا کہ 95 فیصد اومی کرون متاثرین میں کسی بھی قسم کی کوئی علامات نظر نہیں آرہی ہیں۔

ڈاکٹر سرینواس راؤ نے واضح طور پر کہا کہ سوائے برطانیہ میں ایک اومی کرون متاثرہ کی موت کہ کسی بھی ملک میں اومی کرون متاثرین کی موت نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ پہنچنے والے 9 متاثرین میں سے 7 متاثرین ایسے ممالک سے پہنچے ہیں جو کہ اومی کرون سے متاثرہ یا اومی کرون کے خطرہ والے ممالک کی فہرست میں شامل نہیں ہیں۔سات متاثرہ مسافر Non Risk Countires سے حیدرآباد ایرپورٹ پہنچے ہیں۔

ڈائرکٹر محکمہ صحت ڈاکٹر سرینواس راؤ نے بتایا کہ ملک میں اب تک اومی کرون کے 88 تا 90 کیس درج ہوئے ہیں۔جس میں مہاراشٹرا میں 32، راجستھان میں 17، دہلی میں 10، کرناٹک میں 8، تلنگانہ میں 9 اور دیگر ریاستوں کے متاثرین شامل ہیں۔ 

اور ان میں سے صرف ایک دو متاثرہ افراد ہی ہسپتالوں میں داخل ہوئے ہیں۔جبکہ جملہ 90 ممالک اومی کرون سے متاثر ہوئے ہیں۔

ڈائرکٹر محکمہ صحت تلنگانہ ڈاکٹر سرینواس راؤ نے کہا کہ اومی کرون کے بڑھتے واقعات کو دیکھتے ہوئے لاک ڈاؤن کے نفاذ کی اطلاعات محض افواہ ہیں جن پر عوام یقین نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ کوویڈ ویکسین نہ لینا بھی اومی کرون سے متاثر ہونے کی ایک وجہ ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس نئے وائرس کو زیادہ اہمیت دینے اور اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔اور اگر کوئی علامات واضح ہوں تو فوری طور پر تشخیص کروالی جائے۔ڈائرکٹر محکمہ صحت تلنگانہ ڈاکٹر سرینواس راؤ نے کہا کہ مکان اور باہر ماسک پہننا چاہئے۔انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ کوویڈ قواعد پر لازمی طور پر عمل کریں۔

انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ مستقبل میں مزید دس اقسام کے وائریئنٹ آنے کا امکان ہے۔ڈائرکٹر محکمہ صحت تلنگانہ ڈاکٹر سرینواس راؤ نے بتایا کہ ریاست میں اب تک 97 فیصد افراد کوویڈ ویکسین کا پہلا ٹیکہ لے چکے ہیں۔

اور ریاست کے 11 اضلاع میں صد فیصد کوویڈ ویکسین کا پہلا ٹیکہ دیا گیا ہے جبکہ 56 فیصد افراد کو کوویڈ ویکسین کے دونوں ٹیکے دئیے جاچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاستی محکمہ صحت کورونا وائرس کی امکانی تیسری لہر سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ اس اومی کرون کی جنوبی افریقہ میں ماہ نومبر میں دریافت ہوئی تھی۔بعدازاں 27 نومبر کو آفریقن میڈیکل اسوسی ایشن AMAکے ڈاکٹرس نے ایک قابل راحت اور حوصلہ بخش انکشاف کیا تھا کہ”ڈیلٹا وائرئنٹ” کے مقابلہ میں”اومی کرون وائرئنٹ B.1.1.529 ” کا اثر کم ہوگا اور اس سے اموات کی شرح بھی کم ہوگی۔

پھر اس کے بعد جنوبی افریقی میڈیکل اسوسی ایشن کی چیئرپرسن انجلیک کوٹزی نے اومی کرون کی علامات کا انکشاف کیا تھا:-

٭٭ اس سے متاثرہ مریض انتہائی تھکاوٹ ظاہر کرتے ہیں۔اور یہ کسی بھی عمر کے گروپ تک محدود نہیں ہے اور نوجوان مریض بھی انتہائی تھکاوٹ ظاہر کرتے ہیں۔

٭٭ متاثرہ مریض میں آکسیجن لیول کی سطح میں کوئی بڑی کمی واقع نہیں ہوئی۔جیسا کہ کورونا وائرس کے متاثرین میں ہندوستان میں اس وبائی مرض کی دوسری لہر کے دوران مریضوں میں آکسیجن لیول کی سطح میں زبردست کمی دیکھی گئی تھی۔

٭٭ اومی کرون Omicron  سے متاثرہ مریضوں نے ذائقہ یا بو کی کمی کی شکایت نہیں کی ہے،جو کہ کورونا وائرس  سے متاثرہ مریضوں میں یہ علامات عام ہوتی ہیں۔

٭٭ اس رپورٹ کے مطابق تاہم اومی کرون Omicron کے مختلف قسم کے مریضوں نے "گلے میں خراش” کی شکایت کی ہے۔

٭٭ افریقی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اومی کرون Omicron کے زیادہ تر مریض ہسپتال میں داخل کیے بغیر صحت یاب ہو چکے ہیں۔