حیدرآباد میں اومی کرون کے مزید چار کیس درج،جملہ متاثرین کی تعداد سات ہوگئی،محکمہ صحت چوکس

حیدرآباد میں اومی کرون کے مزید چار کیس،جملہ متاثرین کی تعداد سات ہوگئی
پرانے شہر کے میر چوک میں ایک شخص کے اومی کرون سے متاثر ہونے کی
غیر مصدقہ اطلاع تفصیلات کے ساتھ واٹس ایپ پر وائرل کردی گئی!!

حیدرآباد: 17۔ڈسمبر(سحرنیوزڈاٹ کام) 

حیدرآباد میں اومی کرون متاثرین کی تعداد میں تشویشناک طور پر اضافہ ہوتا جارہا ہے جو کہ غیرممالک سے حیدرآباد پہنچ رہے ہیں۔جس کے بعد محکمہ صحت کے عہدیدار چوکس ہوگئے ہیں۔

حیدرآباد میں مزید چار اومی کرون کے کیس درج ہوئے ہیں۔جس کے بعد تلنگانہ میں اومی کرون کے جملہ سات کیس درج ہوگئے ہیں۔یہ چاروں ہی اومی کرون متاثرین مختلف ممالک سےراجیو گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ پہنچے ہیں۔

عہدیداروں کے مطابق ان چار متاثرین میں سے تین متاثرین ان ممالک سے پہنچے ہیں جو کہ اومی کرون سے متاثر ممالک کی فہرست میں شامل نہیں ہیں جبکہ ایک متاثرہ شخص اومی کرون سے متاثرہ ملک سے حیدرآباد پہنچا ہے۔

تین دن قبل حیدرآباد میں جو دو اومی کرون کے کیس درج ہوئے تھے ان میں سے ایک کا تعلق صومالیہ سے اور ایک کا تعلق کینیا سے ہے جن کی شناخت 23سالہ خاتون اور 24 سالہ مرد کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

اسی دؤران آج واٹس ایپ پر ایک ایسی غیر مصدقہ خبر وائرل کردی گئی ہے کہ حیدرآباد کے پرانے شہر میرچوک میں ایک نوجوان اومی کرون سے متاثر پایا گیا ہے۔

جسے دیکھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ یہ جان بوجھ کر شہریوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے کیونکہ اب تک ریاستی محکمہ صحت کے عہدیداروں نے ایسی کسی بھی اطلاع کی تصدیق نہیں کی ہے۔

واٹس ایپ پر وائرل میسیج، ، چونکہ یہ غیر مصدقہ اطلاع ہے اس لیے ہم نے تفصیلات کو چھپادیا ہے۔

واٹس ایپ پر وائرل شدہ اس میسیج میں میرچوک کے ساتھ باقاعدہ متاثرہ شخص کا نام،اس کے والد کا نام، عمر اور اس علاقہ کی مکمل تفصیلات، قریبی ہوٹل کا نام تک لکھ دیا گیا ہے۔

اور اس وائرل شدہ واٹس ایپ میسیج میں لکھا گیا ہے کہ یہ نوجوان دبئی سے واپس ہوا ہے؟

جبکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے جاری کردہ رہنمایانہ ہدایات کے مطابق کورونا یا اومی کرون سے متاثرہ فرد کا نام اور اس کے رہائشی پتہ کی شناخت نہیں کرنا ہے۔

میڈیا کی جانب سے احتیاطً اس علاقہ کا نام اس لیے لکھا جاتا ہے کہ اس علاقہ کے عوام چوکس رہیں اور احتیاط کریں۔

واٹس ایپ پر وائرل شدہ اس غیر مصدقہ اطلاع کو جان بوجھ کر کی گئی حرکت مانا جاسکتا ہے!! کیونکہ ریاستی محکمہ صحت کی جانب سے ایسی کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے اور میڈیا کو ایسی کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے!! وہیں میڈیا کے ایک گوشہ میں ایسی اطلاع بھی ہے کہ مذکورہ علاقہ سے ایک مشتبہ اومی کرون متاثرہ نوجوان کو محکمہ صحت کے عہدیداروں نے تشخیص کی غرض سے ہسپتال منتقل کیا ہے!َ؟