ڈاکٹر عمر خالدی پر گورنمنٹ ڈگری کالج حسینی علم میں میموریل لیکچر کا اہتمام، خدمات کو خراج تحسین
سی ڈی پی پی اور جی ڈی سی حسینی علم کے مابین یادداشت مفاہمت پر دستخط
حیدرآباد : 12؍ڈسمبر (پریس نوٹ)
ڈاکٹر محمد غوث صدر شعبہ سیاسیات،گورنمنٹ ڈگری کالج برائے نسواں حسینی علم حیدرآباد کی اطلاع کے بموجب کالج ہذا میں 12 ڈسمبر کو ڈاکٹر عمر خالدی میموریل لیکچرسیریز کا پہلا لیکچربعنوان” ڈاکٹر عمر خالدی کا محروم طبقات کےحقوق کے لیے تعاون” پروفیسر سی اپیا چنماں کی صدارت میں منعقد کیا گیا۔جس میں پسماندہ طبقات کے حقوق کی وکالت کرنے میں مرحوم اسکالر کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
پروگرام کا آغاز گورنمنٹ ڈگری کالج حسینی علم کے شعبہ سیاسیات اور سنٹر فار ڈیولپمنٹ پالیسی اینڈ پروگرام(سی ڈی پی پی) کے مابین یادداشت مفاہمت پر دستخط سے ہوا۔مہمان مقرر ڈاکٹر سید انعام الرحمن (غیور)،سینئر صحافی،سماجی کارکن وسیاسی تجزیہ کار نے عمر خالدی کی حیات اور ان کے کارناموں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے عمر خالدی کی ان خدمات کو پیش کیا جس میں قطب شاہی، آصف جاہی دور میں شہر حیدرآباد کی عظمت رفتہ اور ترقی میں کیے جانے والے امور کی تفصیلات اکٹھا کرنے،ان کو انگریزی اور اردو میں تحریر کرنےکے علاوہ ہندوستان کے محروم مسلم طبقات کے لیے ان کے تعاون کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ بہت سی سماجی و معاشی تحقیقات کرنے والی کمیٹیوں نے عمر خالدی کے تحریری کام کی ستائش کی ہے اور ان اعداد و شمار کا استعمال کیا۔ڈاکٹر عمر خالدی کی توجہ محروم طبقات کے لیے مساوات اور انصاف کے حصول پر مرکوز تھی۔ وہ ہمیشہ کتابوں کے مطالعہ اور اعداد و شمار کو جمع کرنے میں مصروف رہتے تھے۔انہوں نے حیدرآباد اور دکن کے مطالعہ کو ان کا احسان عظیم قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کی پذیرائی شعبہ سیاسیات کی جانب سے ایک مستحسن اقدام ہے۔
اس موقع پر مہمان اعزازی پروفیسر ایم اے سمیع صدیقی،مانو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عمر خالدی کا شمار دکن کے ممتاز اسکالرز میں ہوتا ہے۔موجودہ دورکے طلبا و طالبات کو ان کے کارہائے نمایاں سے واقف کروانا اشد ضروری ہے۔اور اس ضمن میں ڈاکٹر محمد غوث صدر شعبہ سیاسیات، گورنمنٹ ڈگری کالج برائے نسواں حسینی علم حیدرآباد کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔
ڈاکٹر محمد صفی اللہ ٹرسٹی ” دکن ہیرٹیج ٹرسٹ حیدرآباد ” نے اس لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد دکن کے سیاسی ،سماجی منظر نامہ کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کروانے کا کام ڈاکٹر عمر خالدی نے اپنی تصانیف سے کیا ہے۔دکن ہیرٹیج ٹرسٹ عمر خالدی پر کیے جانے والی تحقیقات کو مالی تعاون کا پیشکش کیا۔
چیئرپرسن پروفیسر اپیا چنماں، پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج برائے نسواں حسینی علم حیدرآباد نے اپنے صدارتی خطاب میں پروگرام کی ستائش کرتے ہوئے آئندہ بھی اپنے تعاون کا تیقن دیا۔
قبل ازیں ڈاکٹر محمد غوث صدر شعبہ سیاسیات نے اپنے خطاب میں طالبات سے کہا کہ نئی نسل کو ڈاکٹر عمر خالدی کی خدمات سے متعارف کروانا ایک ملی اور سماجی فریضہ ہے اور اسلاف کے کارنامو ں کو بھول جانا تہذیب کے خاتمہ کی علامت ہے۔ بعدازاں ڈاکٹرمحمد غوث نے مہمانوں کا تعارف پیش کیا۔ڈاکٹر فرحانہ سلطانہ نے شعبہ سیاسیات اور میموریل لکچر کا تعارف پیش کیا۔ محترمہ کے سری دیوی آئی کیو اے سی کوآرڈینٹر نے کالج کی بیسٹ پریکٹیس سے متعلق بتایا۔ڈاکٹر کے سریکانت،اکیڈیمک کوآرڈینٹرنے ” گیسٹ لیکچر کی اہمیت ” سے متعلق خطاب کیا۔
ڈاکٹر پی لتا،وائس پرنسپل نے ایم او یوز (یادداشت مفاہمت) کی اہمیت اور اس کے اثرات پر روشنی ڈالی۔ڈاکٹرمحمد ذوالفقار محی الدین صدیقی ،صدر شعبہ عربی نے دانشوروں پر میموریل لیکچرس کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ڈاکٹر عمر خالدی پر کیس اسٹڈی ہونی چاہیے۔سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمر خالدی حساس دل اور بیدار مغز کی حامل شخصیت تھے۔
اس موقع پر گورنمنٹ ڈگری کالج برائے نسواں حسینی علم حیدرآباد کے اساتذہ اسماء پروین لیکچرر شعبہ تاریخ، ڈاکٹر شیخ حاجی حسین، لیکچرر شعبہ نظم ونسق اور دیگر اساتذہ کے علاوہ طلبہ کی کثیر تعداد موجود تھی۔تقریب کی کاروائی ڈاکٹر فرحانہ سلطانہ نے نہایت ہی خوش اسلوبی سے چلائی۔سیدہ زہرہ جبین کے شکریہ کلمات پر اس تقریب کا اختتام عمل میں آیا۔
” یہ بھی پڑھیں ”
واقف کہاں زمانہ ہماری اُڑان سے
وہ اور تھے جو ہار گئے آسمان سے
وقارآباد ضلع : کوڑنگل کے تنکی میٹلہ موضع کے نوجوان سید ارباز قریشی کو
دو کروڑ روپئے کے پیکیج پر امیزان کمپنی میں ملازمت، نوجوانوں کے لیے ایک مثال
تفصیلی رپورٹ اس لنک پر ⬇️


