نرس جس نے 5,000 خواتین کی زچگی میں پیشہ وارانہ مدد فراہم کی تھی اپنی زچگی کے بعد فوت
اورنگ آباد: 16۔نومبر(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
مہاراشٹر کے ہنگولی ضلع سے تعلق رکھنے والی ایک 38 سالہ نرس جنہوں نے زائداز 5.000 خواتین کی زچگیوں کے دؤران اپنے مقدس پیشہ کی ذمہ داریوں کے تحت مدد فراہم کی تھی کی ان کی اپنی زچگی کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کی وجہ سے موت واقع ہوگئی۔
ہسپتال کے ریزیڈنٹ میڈیکل آفیسر نے آج اس کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ نرس جیوتی گاؤلی نے 2 نومبر کو ہنگولی سول اسپتال میں اپنے دوسرے بچے کو جنم دیا تھا اور اتوار کو ناندیڑ کے ایک ہسپتال میں نمونیا اور دیگر پیچیدگیوں کی وجہ سے انتقال کر گئیں۔

ریزیڈنٹ میڈیکل آفیسر ہنگولی سول ہسپتال ڈاکٹر گوپال کدم نے خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ جیوتی گاؤلی اپنی خدمات کے حصہ کے طور پر اپنے حمل کے آخری دن تک بھی اپنی خدمات پیش کیں اور پھر اپنی زچگی کے لیے رخصت حاصل کی تھیں۔
ڈاکٹر گوپال کدم نے بتایا کہ نرس جیوتی گاؤلی نے گزشتہ دو سالوں سے ہنگولی کے سول ہسپتال میں بطور نرس بہترین خدمات انجام دے رہی تھیں اور اس سے قبل وہ دو دیگر ہسپتالوں میں تین سال تک اپنی خدمات انجام دی تھیں۔اور جیوتی گاؤلی اپنے پیشہ کے تئیں ہمیشہ انتہائی ذمہ داری اور انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتی تھیں۔
ریزیڈنٹ میڈیکل آفیسر سول ہسپتال ہنگولی ڈاکٹر گوپال کدم نے بتایا کہ 2 نومبر کو نرس جیوتی گاؤلی سول ہسپتال میں زچگی ہوئی تھی انہوں نے بتایا کہ بعد میں جیوتی گاؤلی کو دو طرفہ نمونیا ہوگیا تھا اور دیگر پیچیدگیوں کی وجہ سے انہیں ناندیڑ کے ایک پرائیویٹ ہسپتال کو منتقل کیا گیا تھا کیونکہ انہیں وینٹی لیٹر پر رکھنا ضروری ہوگیا تھا۔جہاں وہ اتوار کو انتقال کرگئیں۔
ریزیڈنٹ میڈیکل آفیسر سول ہسپتال ہنگولی ڈاکٹر گوپال کدم نے بتایا کہ ہم عام طور پر ایک دن میں 15 زچگیاں انجام دیتے ہیں وہیں نرس جیوتی گاؤلی تقریباً پانچ سال کی اپنی ملازمت کی مدت کے دؤران تقریباً 5,000 زچگیوں کی انجام دہی میں یقیناً ڈاکٹرس اور طبی عملہ کی مدد تھی اور ان کی موت ہم سب کے لیے ایک صدمہ ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں کورونا وباء کے آغاز کے بعد پھر کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دؤران سرکاری اور خانگی ڈاکٹرس، نرسوں اور دیگر طبی عملہ کی خدمات یقیناً ناقابل فراموش ہی مانی جائیں گی۔اور ساتھ ہی ہسپتالوں میں عام مریضوں کے ساتھ ساتھ دیگر مریضوں کی خدمت اور تیمارداری نرسوں کو ایک اعلیٰ مقام عطا کرتے ہیں شاید اسی لیے نرس کو ” سسٹر ” کہا جاتا ہے!!
کورونا وائرس کی دونوں لہروں کے دؤران متاثرین کا علاج کرتے ہوئے کئی ڈاکٹرس،نرسوں اور طبی عملہ کی نے اپنی جانیں گنوائی ہیں۔

