تلنگانہ میں نائٹ کرفیو کے نفاذ کا امکان نہیں!
کوویڈ متاثرین کی تعداد دس فیصد کو عبور کرلے تو ہی نائٹ کرفیو
ریاستی ڈائرکٹر محکمہ ہیلتھ سرینواس راؤ کی ہائی کورٹ میں رپورٹ داخل
حیدرآباد: 25۔جنوری(سحرنیوزڈاٹ کام)
ڈائرکٹر پبلک ہیلتھ حکومت تلنگانہ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ نے آج واضح کیا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں کورونا وبا کے باعث رات کا کرفیو نافذ کردئیے جانے جیسے حالات نہیں ہیں۔ان کے مطابق ریاست میں کورونا پازیٹیو معاملات کا تناسب اگر دس فیصد سے زائد ہوجائے تو ہی نائٹ کرفیو کے نفاذ کی ضرورت پڑتی ہے۔
ریاستی ہائی کورٹ میں آج ریاست میں کورونا وبا کے متعلق دائر کردہ ایک درخواست کی سماعت کے سلسلہ میں ڈائرکٹر محکمہ ہیلتھ تلنگانہ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤنے ریاست میں موجودہ کورونا وبا کے حالات اور حکومت،محکمہ ہیلتھ کی جانب سے کیے جارہے مختلف اقدامات سے متعلق اپنی تفصیلی رپورٹ ریاستی ہائی کورٹ میں داخل کی ہے۔
اپنی اس رپورٹ میں ڈائرکٹر محکمہ ہیلتھ تلنگانہ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ نے بتایا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں موجودہ طور پر کوویڈ متاثرین کا تناسب 3.16 فیصد ہے۔اور ریاست کے کسی بھی ضلع میں اب تک کوویڈ متاثرین کا تناسب فیصد دس سے زیادہ ریکارڈ نہیں ہوا ہے۔ساتھ ہی ریاست میں احتیاطی اقدامات کے طور پر کوویڈ قواعد پر سختی کے ساتھ عمل کرتے ہوئے عوامی اجتماعات پر 31 جنوری تک پابندی عائد کردی گئی ہے۔
ڈائرکٹر محکمہ ہیلتھ تلنگانہ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ کی جانب سے ہائی کورٹ میں داخل کردہ رپورٹ کے مطابق ریاست کے ضلع میدک میں کوویڈ متاثرین کا تناسب سب سے زیادہ 6.45 فیصد اور سب سے کم تناسب 1.14 فیصد ضلع راما گنڈم میں ریکارڈ ہوا ہے۔جبکہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے حدود میں کوویڈ متاثرین کا تناسب 4.26 فیصد اور میڑچل ضلع میں 4.22 فیصد ہے۔
وہیں ڈائرکٹر محکمہ ہیلتھ تلنگانہ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ نے اپنی رپورٹ میں معزز ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ ریاست میں گزشتہ ایک ہفتہ سے لاکھوں کی تعداد میں کورونا ٹسٹ کیے جارہے ہیں اور ساتھ ہی گھر گھر بخار کا سروے بھی کیا جارہا ہے اور گزشتہ تین دنوں کے دؤران ریاست میں عوام کو ادویات پرمشتمل ایک لاکھ 78 ہزار میڈیکل کِٹس فراہم کیے گئے ہیں۔
اپنی رپورٹ میں ڈائرکٹر محکمہ ہیلتھ تلنگانہ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ نے بتایا ہے کہ ریاست میں 15 تا 18 سال کی عمر کے حامل 59 فیصد بچوں کو کوویڈ ویکسین کا ٹیکہ دیا گیا ہے۔

