” موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس "
این ڈی ٹی وی کے نامورصحافی کمال خان کے انتقال پر
رویش کمار،آدتیہ ناتھ،اروندکیجریوال،ہیمنت سورین،راہول گاندھی،مایاوتی،
مختار عباس نقوی،اکھلیش یادو،پرینکا گاندھی اور دیگر کا اظہار تعزیت
لکھنئو/نئی دہلی: 14۔جنوری(سحرنیوزڈیسک)
زائد از تین دہوں سے این ڈی ٹی وی سے وابستہ اتر پردیش (لکھنو) کے مشہور اور نامور صحافی کمال خان کا آج صبح لکھنو میں ان کی رہائش گاہ پر قلب پر حملہ کے باعث انتقال ہوگیا۔کمال خان 1960 میں لکھنئو میں پیدا ہوئے تھے۔ماسکو یونیورسٹی سے انہوں نے روسی زبان کی سند بھی حاصل کی۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک لڑکا ہے۔
ایک ایسے وقت جب گودی میڈیا کا جھوٹ عروج پر ہے،دن رات صحافت کے نام پر نفرت اور جھوٹ کو پھیلایا جارہا ہے۔اور اس طرح کی صحافت سے تنگ آچکے ناظرین اور قارئین کی جانب سے صحافت کو دلالی یا پھر صحافیوں کو Presstitutes# جیسے الفاظ سے پکارا جانے لگا ہے تو ایسے میں کمال خان کی موت بے باک اور غیر جانبدار صحافت کے لیے ایک عظم نقصان ہے۔
حال ہی میں ایسے ہی ایک صحافت کے مضبوط ستون ونود دوا بھی داغ مفارقت دے گئے۔یہ صدمہ ابھی تازہ تھا کہ اب کمال خان کی موت نے لاکھوں کروڑں غیرجانبدار صحافت کو پسند کرنے والوں کو غمزدہ کردیا ہے۔
کمال خان نے اپنی بہترین صحافت پر 2010 میں رام ناتھ گوئنکا ایوارڈ اور صدر جمہوریہ ہند کے ہاتھوں گنیش شنکر ودیارتھی ایوارڈ کے علاوہ کئی ایوارڈز حاصل کیے تھے۔

61 سالہ کمال خان جو کہ این ڈی ٹی وی کے لکھنو بیورو چیف تھے کو دھیمی آواز مہذب اور نرم لہجہ،انوکھا انداز بیاں،نپے تلے لفظوں میں خبر پیش کرنے میں شہرہ حاصل تھا اور موضوع کے مطابق اردو اشعار اور الفاظ کا برملا اظہار انتہائی متاثر کن ہوتا تھا۔کمال خان نے کبھی اونچی آواز یا نفرتی لہجے میں رپورٹنگ نہیں کی۔دل کو چھولینے والی صحافت اور سماج کو اپنے ڈھنگ سے سمجھنے اور سمجھانے میں کمال خان ماہر تھے۔
کمال خان نے کبھی بھی کسی بھی خبر کو مذہبی نقطہ نظر سے پیش نہیں کیا اور کسی خبر کا ایک ہی پہلو پیش نہیں کیا بلکہ ہر خبر کے دونوں پہلو اپنے ناظرین کے سامنے رکھنے کا ہنر کمال خان میں بدرجہ اتم پایا جاتا تھا۔
اصل صحافت بھی یہی ہے کہ صحافی کا کام ہوتا ہے کہ وہ حساس اور اہم خبر کوبنامسالحہ لگائے ناظرین تک پہنچائے تو اس خبر کے اچھے یا برے ہونے کا فیصلہ کرنا صرف قاری یا ناظرین کا حق ہوتا ہے۔اپنی پوری صحافتی زندگی میں کمال خان نے اس پر عمل کیا۔
کمال خان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمس بشمول ٹوئٹر،فیس بک، انسٹاگرام پر باقاعدہ ہیش ٹیگ کے ذریعہ ان کی بہترین صحافتی خدمات کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراج پیش کیا جارہا ہے جن میں تمام مذاہب اور جنس کے لوگ شامل ہیں۔کمال خان کی اچانک موت پر صحافتی برادری میں بھی غم اور افسوس کی لہر دؤڑ گئی ہے۔
مشہور صحافی،سینیر ایگزیکٹیو ایڈیٹر رویش کمار نے اپنے ساتھی کمال خان کی اچانک موت پر این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے شدید غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی ٹی وی کے ناظر ہیں وہ جانتے ہیں کہ کمال خان کون ہیں اور کسی شخصیت کے مالک تھے۔انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت صدمہ میں ہیں اور کچھ بھی کہنے کے لیے انہیں الفاظ نہیں مل رہے ہیں۔
” کمال خان کے انتقال پر رویش کمار کا مکمل بیان یہاں سنا جاسکتا ہے ”
جبکہ رویش کمار نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”پھر کوئی دوسرا کمال خان نہیں ہوگا،ہندوستان کی صحافت آج تہذیب سے ویران ہوگئی ہے۔وہ لکھنؤ آج خالی ہو گیا جس کی آواز کمال خان کے الفاظ سے کھنکھناتی تھی۔این ڈی ٹی وی خاندان آج غمگین ہے۔کمال کے کروڑوں ناظرین کا دکھ جوار بن کر امڈ رہا ہے۔الوداع کمال صاحب۔”
اپنی غیر جانبداری اور بے باک صحافت کے لیے مشہور آزاد صحافیوں پنیا پرفل باجپائی،ابھیسر شرما،ساکشی جوشی،عارفہ خانم شیروانی، آر جے صائمہ کے علاوہ دیگر شامل ہیں۔
اتر پردیش کے وزیراعلی آدتیہ ناتھ کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں نے سینئر صحافی کمال خان کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا گیاہے۔ وزیراعلیٰ نے مرحوم کی روح کے سکون کے لیے دعا کرتے ہوئے سوگوار کنبہ کے افراد سے تعزیت کا اظہار کیا۔
وزیراعلیٰ دہلی اروند کیجریوال نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”بہت دکھ کی بات معروف صحافی کمال خان جی کا ناگہانی انتقال صحافت کی دنیا کے لیے بڑا نقصان ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کے اہل خانہ کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی طاقت دے۔
چیف منسٹر جھارکھنڈ ہیمنت سورین نے بھی کمال خان کی اچانک موت پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے کہ "سینئر صحافی کمال خان جی کے بے وقت انتقال کی افسوسناک خبر موصول ہوئی ہے۔ان کے جانے سے جمہوریت کے چوتھے ستون کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی روح کو سکون عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو اس دکھ کی گھڑی کو برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
سابق وزیراعلیٰ اترپردیش مایاوتی نے اپنے ٹوئٹ میں کمال خان کی موت پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”معروف ٹی وی صحافی کمال خان کے اچانک انتقال کی خبر صحافتی دنیا کے لیے انتہائی افسوسناک اور ناقابل تلافی نقصان ہے۔ان کے خاندان اور ان کے تمام چاہنے والوں کے ساتھ میری گہری تعزیت۔قدرت سب کو اس دکھ کو برداشت کرنے کی طاقت دے، ایسی قدرت سے دعا ہے۔”
سابق صدر کل ہند کانگریس و رکن لوک سبھا راہول گاندھی نے فیس بک پر لکھا ہے کہ "کمال خان جی کی وفات کا سن کر دکھ ہوا۔وہ ایک اچھے اور معزز صحافی تھے۔ان کے چاہنے والوں سے میری تعزیت "

جبکہ سابق وزیراعلیٰ اترپردیش اکھلیش یادو نے آج اپنی ایک ریالی کے دؤران اپنا خطاب روک کر کمال خان کے انتقال پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے انہیں ایک منجھا ہوا اور قابل صحافی قرار دیا۔
” اکھلیش یادو کا ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے”
اکھلیش یادو نے اپنے ٹوئٹ میں بھی لکھا ہے کہ صحافت کی ایک گمبھیر آواز بن کر ابھرنے والے کمال خان کا جانا دکھ کا باعث ہے۔ان کی سچائی کی گہری آواز ہمیشہ بنی رہے گی،دلی خراج عقیدت”
قومی سیکریٹری و انچارج کانگریس اترپردیش پرینکا گاندھی واڈرا نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "سینئر صحافی شری کمال خان جی کے انتقال کی خبر سن کر صدمہ ہوا۔کچھ دن پہلے ان سے میری ملاقات کے دوران ڈھیر ساری باتیں ہوئی تھیں۔انہوں نے صحافت میں سچائی اور مفاد عامہ کے اقدار کو زندہ رکھا۔شری کمال خان جی کے اہل خانہ کے ساتھ میری گہری تعزیت۔عاجزانہ خراج تحسین۔”
جبکہ کسان رہنما راکیش ٹکیٹ نے بھی کمال خان کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کسانوں،مزدوروں اور بےزبان عوام کی آواز تھے کمال خان،اور کمال خان کی اچانک موت کسان ایکتا منچ کا ذاتی نقصان ہے۔انہوں نے کمال خان کے افراد سے اظہار تعزیت کیا ہے۔
ان کے علاوہ مرکزی وزرا مختار عباس نقوی، ہردیپ سنگھ پوری،جیوترآدتیہ سندھیا،سابق وزیراعلیٰ مدھیہ پردیش کمل ناتھ،مہارشٹرا کے وزیر نواب ملک،سابق کانگریسی رکن پارلیمان راج ببر اور دیگر شخصیتوں نے کمال خان کی موت پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
وہیں اڈیشہ کے مشہور آرٹسٹ سدرشن پٹنائیک جو کہ سمندر کے کنارے ریت کے ذریعہ تصاویر بنانے میں ماہر ہیں نے بھی کمال خان کی تصویر بناکر انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔


