مدھیہ پردیش کے وزیر شہری ترقی بھوپیندرسنگھ کے حکم پر،اداکار رضامراد کو
بھوپال میں صفائی کے سفیر کے عہدہ سے ایک دن میں ہی ہٹا دیا گیا
بھوپال: 15۔جنوری(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
معروف فلم اداکار رضا مراد سے کون واقف نہیں ہیں۔گرج دار آواز اور وضعدارشخصیت کے مالک رضامراد نے بالی ووڈ کی سینکڑوں مشہور فلموں کے علاوہ علاقائی زبانوں کی مختلف فلموں میں اپنی اداکاری کا لوہا منوایا ہے۔
اداکار رضا مراد کو مدھیہ پردیش کے شہری ترقی کے وزیر بھوپیندر سنگھ کے حکم پر جمعہ کو بھوپال میونسپل کارپوریشن کے”سوچھتا ابھیان” کے "برانڈ ایمبیسیڈر” کے عہدہ سے ہٹا دیا گیا۔جبکہ ان کا تقرر ایک دن قبل ہی عمل میں لایا گیا تھا۔
مدھیہ پردیش کے شہری ترقی کے وزیر بھوپیندر سنگھ نے بھوپال میونسپل کارپوریشن کے عہدیدار کو لکھے گئے اپنے مکتوب میں کہا ہے کہ مسٹر رضا مراد کو برانڈ ایمبیسیڈر کے طور پر ہٹا دیا جانا چاہئے کیونکہ صفائی کے شعبہ میں ان کی خدمات کے متعلق معلوم نہیں ہے۔ ریاستی وزیر نے لکھا ہے کہ ایک برانڈ ایمبیسیڈر ایسا شخص ہونا چاہئے جس نے صفائی کے میدان میں اہم کردار ادا کیا ہو یا جو بھوپال کی ثقافت سے بخوبی واقف ہو۔لہٰذا اس سلسلہ میں اس حکم کے بعد ان کے تقرر کو منسوخ کیا جائے۔

ریاستی وزیر نے حکم دیا ہے کہ ان کے بجائے کسی باوقار شخص/ادارے کو نامزد کریں جنہوں نے صفائی کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔
اس سلسلہ میں این ڈی ٹی وی نے خبررساں ادارہ پی ٹی آئی کے حوالے سے لکھا ہے کہ مسٹر رضا مراد نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ وہ بھوپال شہر سے بخوبی واقف ہیں کیونکہ ان کے یہاں سے تعلق رکھنے والے رشتہ دار موجود ہیں اور انہوں نے ریاستی دارالحکومت بھوپال میں اسکول کی تعلیم بھی مکمل کی تھی۔
اداکار رضامراد نے کہا کہ”مجھ سے بڑا بھوپالی کوئی نہیں ہوسکتا کیونکہ میری والدہ،اہلیہ اور خاندان کے بہت سے دوسرے افراد بھوپال سے تعلق رکھتے ہیں۔میں نے اپنی تعلیم یہاں کیمبرج اسکول سے حاصل کی۔مجھے اس شہر،اس کی سڑکوں،اس کی عام زبان،اس کی چائے، کھان پان سے اچھی طرح واقفیت حاصل ہے۔اس لیے اس الزام میں کوئی صداقت نہیں کہ میں اس شہر کی ثقافت کو نہیں جانتا”۔
رضا مراد نے کہا کہ دوسری بات ریاستی وزیر نے یہ بھی کہی کہ برانڈ ایمبیسیڈر ایسا شخص ہونا چاہیے جس نے "سوچھتا”(صفائی) کے شعبہ میں قابل ستائش کام کیا ہو۔لیکن جب آپ مجھے ثابت کرنے کا موقع نہیں دیتے تو آپ یہ کیسے فیصلہ کر سکتے ہیں کہ میں نے کچھ نہیں کیا”۔
اداکار رضا مراد نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے جمعرات کو شہر کے چوک میں اس موضوع پر کام بھی شروع کر دیا ہے اور عوام کوواقف کروایا کہ صاف صفائی کے متعلق کیا کیا اقدامات لازمی ہیں۔
انہوں نے کہا”اگر ریاستی وزیر میری خدمات نہیں چاہتے ہیں،تو ایسا ہو جائے،جیسا کہ وہ اختیارات اور طاقت کے مالک ہیں۔
بھوپال میونسپل کارپوریشن کے تعلقات عامہ کے عہدیدار نے بتایا کہ جمعرات کے دن جن 100-150 لوگوں کو صفائی کے سفیر کے طور پر منتخب کیا گیا یہ وہ اہم شخصتیں ہیں جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں نام کمایا ہے۔
دوسری جانب رضامراد کو تقرر کے دوسرے ہی دن برانڈ ایمبیسیڈر کے عہدہ سے ہٹائے جانے پر کانگریس نے بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے کہا ہے کہ مسٹر رضا مراد کو برانڈ ایمبیسیڈر کی فہرست سے نکالا جانا”سنگھی سوچ "ہے۔جنرل سیکریٹری مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی و میڈیا انچارج نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ "بھوپال نگر پالیکا کارپوریشن کی جانب سے چند گھنٹے قبل صفائی مہم کے لیے مقرر کیے گئے فلم اداکار مسٹر رضا مراد کو وزیر مسٹر بھوپیندر سنگھ نے برانڈ ایمبیسیڈر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا،شاید جرم یہ ہوگا کہ وہ مسلمان ہیں!سنگھی سوچ کی سطح کیا ہے؟ اگر آپ کنگنا رناوت کو پسند کرتے ہیں تو!! "
جبکہ انڈیا نیوز کے خصوصی نمائندہ بھوپال Brijesh Jain@ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”مودی کی طرف سے مسلم ٹوپی نہ پہننے پر سوال اٹھانا فلم اداکار رضا مراد کو مہنگا پڑا۔دو روز قبل میونسپل کارپوریشن نے انہیں صفائی کا برانڈ ایمبیسیڈر بنایا تھا”۔وزیر شہری ترقی کے وزیر بھوپیندر سنگھ نے حکم نامہ جاری کر کے ہٹا دیا۔

