اردو شعر و شاعری کے ساتھ ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کی بھی زبان
ڈاکٹر عبدالحق اردو یونیورسٹی کرنول میں دوروزہ ورکشاپ
کرنول/آندھراپردیش۔12؍فروری (عبدالرحمٰن پاشا کی رپورٹ)
وائس چانسلر پروفیسر مظفر شہ میری ڈاکٹر عبدالحق اردو یونیورسٹی کرنول،آندھراپردیش نے کہا ہے کہ اردو زبان شعر و شاعری کے ساتھ ساتھ سائنس و ٹکنالوجی کی بھی زبان ہے اردوزبان ایک علمی و ثقافتی زبان ہے اردو زبان کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی روایت کو آگے بڑھانے کی کوششوں کو جاری رکھنا چاہئےجس سے نئی نسل اور آنے والی نسلوں کے لیے اس راہ کو آسان بنایا جاسکے۔

پروفیسر مظفر شہ میری آندھراپردیش کی پہلی اردو یونیورسٹی، ڈاکٹر عبدالحق اردو یونیورسٹی میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (این سی پی یو ایل) حکومت ہند، نئی دہلی کی جانب سے منعقدہ دو روزہ قومی ورکشاپ بعنوان’جدید سائنسی اور تیکنیکی تعلیم بذریعہ اردو مسائل اور حل‘ پراپناکلیدی خطبہ دے رہے تھے۔
پروفیسر مظفر شہ میری نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ فی زمانہ اردو میں جدید سائنسی و تیکنیکی تعلیم کی ترویج میں کئی مسائل حائل ہیں ان مسائل اور اس کے اسباب سے کماحقہ واقفیت حاصل ہوجائے تو ان کا حل تلاش کرنا دشوار نہ ہوگا۔ وائس چانسلر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان ہمہ لسانی ملک ہے اور ہر زبان والا اپنی علمی، سائنسی اور تیکنیکی اصطلاحیں بنانا چاہتا ہے۔
ہندوستان میں اردو ایک بین صوبہ جاتی زبان ہے ا س لیے اردو کو ثروت مند بنانے کے لیے اہل اردو کو بھی پیش قدمی کرنی چاہیے۔ ملک کی نئی قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) میں بھی مادری زبان میں تعلیم پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ورکشاپ اسی مقصد کے تحت منعقد کیا جارہا ہے تاکہ اردو ذریعہ تعلیم میں اساتذہ اور طلبہ کو پیش آنے والی مشکلات کو حل کیا جائے۔
ڈاکٹر عقیل احمد ڈائریکٹر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (این سی پی یو ایل) نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا ہے کہ اردو زبان میں مختلف علوم و فنون کے باہمی روابط کو بڑھانا چاہئے جس سے ترجمہ اور اصطلاح سازی میں مدد مل سکے جس طرح مذہب اور سائنس میں کوئی ٹکراو نہیں ہے، اسی طرح اردو زبان اور مختلف علوم و فنون میں کوئی تضاد نہیں ہے۔

ڈاکٹر عقیل احمد ڈائریکٹر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے کہا کہ سائنسی علوم ہمیں تجربہ ، تحقیق اور مشاہدہ کے ذریعہ حقائق تک براہ راست پہنچاتی ہیں اسی لیے اردو میں سائنسی اور معلوماتی ادب سے متعلق نصابی مواد کو پیش کرنا ضروری ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کی اہم ضرورت ہے کہ اردو ذریعہ تعلیم کے طلبہ میں سائنس کا ذوق و شوق پیدا کیا جائے تاکہ وہ بھی ترقی کی دؤڑ میں آگے بڑھ سکیں۔ اردو ذیعہ تعلیم کے طلبہ اس ترقی یافتہ دور میں خود کو کسی سے کم تر تصور نہ کریں کیونکہ ترقی اور کامیابی کے مواقع ہر ایک کومساوی طورپر میسر ہیںاوران مواقع کو اپنی صلاحیتوں اور علم کی بنیاد پر حاصل کیا جاسکتا ہے۔
معروف ادیب اور کئی سائنسی کتب کے مصنف ڈاکٹر عابد معز نے اس ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مادری زبان عطیہ خداوندی ہے جس طرح ہم اپنے والدین کی عزت و تعظیم کرتے ہیںاسی طرح فخر کے ساتھ ہم اپنی مادری زبان سے اپنے تعلق کا اظہار کریں۔

ڈاکٹر عابد معز نے کہا کہ آج کا دؤر صرف کسی ایک زبان پر ہی اکتفاء کرنے کا نہیں بلکہ ہمیں کئی زبانوں پر عبور حاصل کرنا چاہیےکوئی بھی زبان ترسیل کا بہترین ذریعہ ہوتی ہے مادری زبان میں حصول علم سے کسی بھی موصوغ پر مکمل اور گہری معلومات حاصل ہوتی ہیںاورمادری زبان میں تحصیل علم کے بعد دوسری زبانوں میں بھی علم حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ڈاکٹر عابد معز نے اپنی 20 سائنسی و ادبی کتابیں یونیورسٹی کے کتب خانہ کے لیے تحفہ میں پیش کیں۔
ڈاکٹر شفیع اخلاص نے اس دو روزہ ورکشاپ ’جدید سائنسی اور ٹیکنیکی تعلیم بذریعہ اردو مسائل اور حل‘ کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اردو زبان کو جدید سماجی، ثقافتی، سائنسی علوم اور ٹکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اردوزبان میں ان علوم میں نصاب کی تیاری اور اس کے مسائل کے حل کو پیش کرنا بھی اس ورکشاپ کا اہم مقصد ہے۔اس کے ذریعہ اردو اور اہل اردو کو نئے علوم و فنون سے آشنا کیا جاسکے۔

رجسٹرار ڈاکٹر عبدالحق اردو یونیورسٹی،کرنول ڈاکٹر بی۔ سر ینواسلو نے اپنے افتتاحی خطاب میں تمام مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر عبدالحق اردو یونیورسٹی کا قیام سنہ 2016 ءمیں ریاستی حکومت کی سرپرستی میں عمل میں آیا۔ جس کا مقصد اردو تہذیب کا تحفظ اور اس کا فروغ ہےاور اس کے ساتھ ساتھ اردو مادری زبان کے حامل طلبہ و طالبات کو اعلی تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
ڈاکٹر بی ۔سرینواسلو نے کہا کہ اردو کسی مخصوص مذہب کے ماننے والوں کی نہیں بلکہ ہندوستانی زبان ہے جس کو فروغ دینا ہم سب کی ذمہ داری ہےانہوں نے کہا کہ غیر اردوداں طبقہ میں اردو کے فروغ کے لیے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (این سی پی یو ایل) کے تعاون سے ایک ڈپلومہ کورس شروع کیا گیاہے۔جس میںفی الوقت 256 سے زائد طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ جنہیں بہترین اساتذہ، معقول انتظامات اور ساز گار ماحول میں تعلیم دی جارہی رہے۔
ڈاکٹر عقیل احمد ڈائریکٹر این سی پی یو ایل نے اپنے ورچوئیل خطاب میں خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اردو زبان میں سماجی علوم، جغرافیہ، نباتات، حیوانات، کیمیا، انسانی علوم، ایجادات و اختراعات، جنرل نالج، وضع اصطلاحات اور سائبر ٹکنالوجی سے متعلق نصابی کتب اور مواد کی تیاری وقت کی اہم ضرورت ہےاور اس ورکشاپ کے موقع پر اس سلسلہ میں کوئی تجویز پیش کی جاتی ہے تو قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (این سی پی یو ایل) مکمل تعاون کرے گی۔

اس دو روزہ ورکشاپ میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں شعبہ ترجمہ کے ڈائریکٹر پروفیسرمحمد ظفر الدین، ماہر تعلیم فاروق طاہر،سابق صدر شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدرآبادپروفیسر رحمت یوسف زئی، ڈاکٹر سید سلطان معین الدین حسینی،خالد قیصری، ڈاکٹر امین اللہ، ڈاکٹر نثار احمد (ایس وی یونیورسٹی، تروپتی)، ڈاکٹر امان اللہ (چینائی)، ڈاکٹر نجی اللہ (مانو) اور دیگر نے شرکت کرتے ہوئے مختلف موضوعات پر اپنے علمی و تحقیقی مقالات پیش کیے۔

افتتاحی پروگرام کے بعد تکنیکی سیشن میں ڈاکٹر پرویز،معروف صحافی اعظم شاہد(بنگلور)، عطا اللہ سنجیری (کیرالا) اور دیگر پروفیسرس او رریسرچ اسکالرس نے اپنے مقالات پیش کرتے ہوئے مباحث میں حصہ لیا۔ورکشاپ کے پہلے روز مقالات کی پیشکشی کے ساتھ ساتھ اجتماعی بحث و مباحثہ بھی کیا گیا ہے۔

اس پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کے علاوہ یونیورسٹی کے ترانہ ’جامعہ اردو ہماری نازش ہندوستاں‘ سے ہوا۔ مقامی دانشوران پروفیسر بشیر احمد، ڈاکٹر امیر احمد (کرسپانڈنٹ انجمن اسلامیہ کرنول)، سید ظہور اللہ حسینی ، فیض اللہ اور حافظ نذیر احمد کے علاوہ دیگر اساتذہ اور طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی۔

