بڑے ادیبوں کی پہچان یہی ہے کہ وہ آخری سانس تک مطالعہ کرنا نہیں چھوڑتے، شعبہ اردو، یونیورسٹی آف حیدرآباد میں مصنف سے ایک ملاقات پروگرام، پروفیسر شہزاد انجم کا اظہار خیال

بڑے ادیبوں کی پہچان یہی ہے کہ وہ آخری سانس تک مطالعہ کرنا نہیں چھوڑتے
شعبہ اردو، یونیورسٹی آف حیدرآباد میں مصنف سے ایک ملاقات پروگرام، پروفیسر شہزاد انجم کا اظہار خیال

رپورٹ : اسماء امروز
ریسرچ اسکالر۔یونیورسٹی آف حیدرآباد

شعبہ اردو، یونیورسٹی آف حیدر آباد کے کانفرنس ہال میں 27 اکتوبر شام 4 بجے بعنوان”مصنف سے ایک ملاقات” ایک نشت منعقد کی گئی۔اس پروگرام کےمہمان خصوصی اردو کےمشہور نقاد،محقق و مترجم پروفیسر شہزاد انجم،شعبہ اردو،جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی تھے۔اس پروگرام کی نظامت شعبہ کے استاد ڈاکٹر اے۔آر منظر نے کی۔انہوں نے شہزاد انجم کامختصر تعارف پیش کیا، ان کی علمی و ادبی خدمات پر روشنی ڈالی اور ان کی اہم تصانیف سے بھی حاضرین کو متعارف کر وایا۔

مہمان خصوصی کے استقبال کے لیے صدر شعبہ اردو، یونیورسٹی آف حیدرآباد پروفیسرسید فضل اللہ مکرم کو مدعو کیا گیا۔انہوں نے پروفیسر شہزاد انجم کی شال پوشی کی اور ان کےبڑے بھائی پروفیسر ظفر الدین اور ان سے اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کیا۔پروفیسر شہزاد انجم کی صحافتی خدمات، مختلف رسائل و جرائد سےوابستگی اور ان کی گراں قدر خدمات کی پذیرائی کی۔نیز انہوں نےموصوف کی زندگی کو طلبہ کےلیے ایک بہترین مثال اورنمونہ قرار دیا۔

صدر شعبہ اردو نے پروفیسر شہزاد انجم سے خواہش کی کہ آپ اپنے خاندانی حالات کے حوالے سے کچھ معلومات فراہم کریں۔ جس میں آپ کی نشونماء ہوئی۔اس طرح اس پروگرام میں گفت و شنید اورسوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا۔

پروفیسر شہزاد انجم نے اپنے خاندان کےمتعلق بتایاکہ ان کا وطن ریاست بہار کا شہر گیا ہے۔ان کےوالد محترم جناب قمر نظامی بہار کے مشہور کاتب تھے۔اپنے نام میں نظامی وہ اپنے استاد نظام الدین کی نسبت سے لگاتے تھے۔انہوں نے بتایاکہ کتابت اپنے والد سےسیکھی۔انٹر میڈیٹ اور بی۔اے مرزا غالب کالج سے مکمل کیا۔

ان کے بھائی ظفر الدین نے انہیں اعلی تعلیم کےلیے دہلی بلالیا،جہاں انہوں نے ایم۔اے کی تعلیم دہلی یونیورسٹی سے حاصل کی اس دوران اخراجات کےلیے بچوں کو ٹیوشن پڑھایا کرتےتھے۔ایم۔اے کے بعد انہوں نے نیٹ اور جے۔آر۔ایف کا امتحان پاس کیا اور دہلی کالج سے ہی ایم۔فل اور پی ۔ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔انہوں نے بتایا کہ میری تعلیم کے دوران میرے بڑے بھائی پروفیسر محمد ظفرالدین نےمیری بھرپور مدد کی۔اس کے بعد اتر پردیش پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ گرایجویٹ کالج رام پور میں بحیثیت لیکچرار ان کا تقرر ہوا۔جہاں وہ 2004ء تک برسر خدمت رہے۔

2004ء میں ہی انہوں نےجامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں بحیثیت ریڈر جوائن ہوئے۔2010ء میں مجھے پروفیسر کا عہدہ دیا گیا۔جامعہ کی ملازمت کے دوران ہی انہوں نے ٹیگور پروجیکٹ میں بحیثیت کوآرڈینیٹر کام کیا جو بہت اہم کام تھا۔

پروفیسر شہزاد انجم نے ٹیگور پروجیکٹ سے جڑے چند اہم واقعات سنائے۔محفل کی بے تکلفی کا حال یہ تھا کہ ہر کوئی بلا جھجھک سوال کرتا اور موصوف نہایت اطمینان و سکون اور متانت و سنجیدگی کے ساتھ جواب دیتے۔اساتذہ کےعلاوہ طلبہ نے بھی مختلف موضوعات پر سوالات کیے جن کا پروفیسر صاحب نے نہایت عمدگی سے جواب دیا۔

ترجمہ کی بحث چھڑی تو انہوں نے ترجمہ کے اصول اور اس کےملحوظات پر بھی مختصر لیکن جامعہ تبصرہ کیا۔انہوں نے بتایاکہ صرف دو زبانوں کا جاننا ہی ترجمہ کے لیے کافی نہیں بلکہ دونوں زبانوں کے کلچر سے واقفیت بھی ضروری ہے،اس کے بغیر ترجمہ کرنا ممکن ہی نہیں۔ نیز انہوں نے ٹیگور پروجیکٹ کے دوران ٹیگور کی کتابوں کے اردو ترجمہ میں جو مشکلات پیش آئیں ان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ترجمہ آسان کام ہے لیکن میرے خیال میں یہ بہت ہی مشکل عمل ہے۔

شہزاد انجم نےاس موقع پر اپنے ان تمام اساتذہ کوبھی یاد کیاجنہوں نےان کی شخصیت کو نکھارنے میں اہم رول ادا کیا۔اس ضمن میں انہوں نے شارب ردولوی،رشید حسن خان،گوپی چند نارنگ،مغیث الدین فریدی اور دیگر کو یاد کیا اور ان سے وابستہ چند یادوں کو بھی روشن کیا اور طلبہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ مجھے نہ دیکھیں اگر دیکھنا ہے تو میرے اساتذہ کو دیکھیں جن کی تربیت،حوصلہ افزائی اور رہنمائی میرے لیے ایک اثاثہ ہے۔

انہوں نے طلباء کو مطالعہ کی نصیحت کی اور کہا کہ جتنے بھی بڑے ادیب ہیں ان سب نے مطالعہ کا دامن آخری وقت تک نہیں چھوڑا۔گفتگو کے درمیان ڈاکٹر کاشف کے سوال(ہم اردو کیوں پڑھیں؟)کے جواب میں پروفیسر شہزاد انجم نے کہا کہ اردو ہماری تاریخ اور تہذیب کی نمائندہ زبان ہے اس سے دور رہنا اپنی تاریخ و تہذیب سے دور ہونے کے مترادف ہے۔ اسی سوال کے جواب میں شہزاد انجم کے چھوٹے بھائی منہاج الدین جو اس بزم میں موجود تھے نے جواب دیا کہ روزگار کی رو سے لینگویجس میں دیگر شعبوں کی بہ نسبت اردو میں زیادہ مواقع ہیں اور لینگویجس میں دیگر شعبوں کی بہ نسبت مقابلہ آرائی بھی کم ہے اسی لیے یہاں پر کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔

پروفیسر شہزاد انجم نے گفتگو کے آخر میں اپنا افسانہ ” وبا ” پیش کیا۔جس کاموضوع کورونا وبا کے دوران سیاسی انتشار اور سماجی حالات ہیں۔تمام حاضرین کی جانب سے افسانے کو بہت پسند کیا گیا اور آخر میں ڈاکٹر اے۔آر منظر نے کلمات تشکر پیش کیے، انہوں نے مہمان خصوصی شہزاد انجم کا شکریہ ادا کیا ساتھ ہی صدر شعبہ پروفیسر سید فضل اللہ مکرم کا بھی شکریہ ادا کیاکہ انہوں نےاتنی بڑی شخصیت کومدعو کرتے ہوئے ہمیں مستفیض ہونے کا موقع فراہم کیا۔

انہوں نے تمام حاضرین مجلس کا بھی شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر شہزاد انجم کے ہمراہ ان کے چھوٹے بھائی منہاج الدین بھی موجود تھے۔جن کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔شعبہ کے اساتذہ میں ڈاکٹر عرشیہ جبین، ڈاکٹر محمد کاشف، ڈاکٹر رفیعہ سلطانہ موجود تھے۔ان کے علاوہ ڈاکٹر کہکشاں لطیف اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ ترجمہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی بھی شریک محفل تھیں۔شعبہ اردو ،یونیورسٹی آف حیدرآبادکے ریسرچ اسکالرز اور ایم۔اے کے طلباء و طالبات کی کثیر تعداد شریک تھی۔

یہ بھی پڑھیں "

ساحر لدھیانوی : ایک انقلابی و ترقی پسند شاعر اور نامور گیت کار، 43 ویں برسی کے موقع پر خصوصی مضمون اور منتخب ویڈیوز

 

کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا ، نامور شاعر و گیت کار ندا فاضلی کے یوم پیدائش پر خصوصی مضمون