ماں نے کمسن بیٹے کو اپنا نیا گھر دکھاکر حیران کر دیا، جذبات سے مغلوب بچہ روپڑ ا، انسٹاگرام پر ویڈیو کو 58 لاکھ صارفین نے دیکھا

ماں نے کمسن بیٹے کو اچانک اپنا نیا گھر دِکھاکر حیران کردیا
جذبات سے مغلوب بچہ رو پڑا، لائق دید ویڈیو کو
انسٹاگرام پر 58 لاکھ سے زائد صارفین نے دیکھا

نئی دہلی: 08۔نومبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

ذاتی گھر ہر کسی کاخواب ہوتا ہے۔لیکن بدقسمتی سے زیادہ تر لوگ اپنا ذاتی مکان بنانےسے محروم ہی رہ جاتے ہیں۔تو کوئی پائی پائی جوڑ کر کسی طرح اپنے ذاتی گھر کےخواب کوعملی جامہ پہنانے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔کرایہ کے مکانات یا فلیٹس میں مقیم لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ "کرایہ کے مکان سے اپنی ذاتی جھونپڑی ہی بہتر”۔ہر ماہ آسمان چھوتے مکان کے کرایوں کی ادائیگی بالخصوص مڈل کلاس کےلوگوں کے لیے مشکلات کا باعث بنتی رہتی ہیں۔اس کے لیے اپنی کسی نہ کسی خواہش یا ضرورت کو مارنا ضروری ہوجاتا ہے۔

ایسے بھی خوش نصیب ہوتے ہیں کہ انہیں ورثہ میں آسانی کے ساتھ ذاتی گھر مل جایاکرتے ہیں۔مکان اورگھر میں زیادہ فرق نہیں بتایا جاتا۔کہا جاتا ہے کہ”مکان اینٹوں اور پتھروں سے بنتے ہیں اور یہ قابل فروخت ہوتے ہیں۔جبکہ گھر رشتوں،احساسات اور پیارمحبت سے بنتے ہیں۔!!
اسی لیے نامور شاعر افتخار عارف نے کبھی کہا تھا کہ؎
مِرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے

دوسری جانب وہی افتخار عارف پتہ نہیں کیوں اپنے ایک شعر میں یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ؎

گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں
شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

جبکہ مرزا غالب نے برسوں قبل کہا تھا کہ ؎

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

آج مہنگائی کے اس دؤر میں ہر کسی کے لیے ذاتی گھر بنانا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔نامور شاعر شہر یار نے کبھی کہا تھا کہ؎

گھر کی تعمیر تصور ہی میں ہوسکتی ہے
اپنے نقشے کے مطابق یہ زمیں کچھ کم ہے

خیر یہ تو تھا ذاتی گھر اور اس پر چند شعراء اور ذاتی گھروں کےخواہشمند افراد کے دل جذبات کی عکاسی۔کیونکہ اس تحریر کا تعلق بھی ایک ذاتی گھر کی خواہش اور اس کے اچانک حاصل ہونے سے ہے۔

دراصل ویڈیوز Videos# اور ریلز Reels# کے لیے مشہور انسٹاگرام پر ایک انتہائی دلنشین اور ایک کمسن بچہ کا ماں کی جانب سے اچانک اپنے ذاتی گھر کو دکھانے کے بعد فرط جذبات سے مغلوب ہوجانے والا ویڈیو بہت زیادہ پسند کیاجارہا ہے۔جس پر انسٹاگرام کےصارفین کاردعمل بھی لائق داد ہے۔

انسٹاگرام پر Martistry# نامی آئی ڈی سےیہ 38 سیکنڈ کا ویڈیو 18 اکتوبر کوپوسٹ کیا گیاتھا،تاہم اب گزشتہ دو چار دن سےاس ویڈیو نے انسٹا گرام صارفین کی توجہ حاصل کرنا شروع کردی ہے۔اس ویڈیو کواب تک 58 لاکھ (5.8Million) صارفین نے دیکھا ہے۔جبکہ 3 لاکھ 75 ہزارسے زائد نے اس ویڈیو کو لائیک کیا ہے۔وہیں 17,800 صارفین نے کمنٹس کیے ہیں۔

یہاں سب سے زیادہ قابل غور بات یہ ہے کہ اس Martisty# نامی انسٹاگرام ہینڈل کےصرف 20,000 فالوورز ہیں،لیکن ویڈیو کو 58 لاکھ افراد نے دیکھا ہے۔

اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتاہے کہ ماں کار چلارہی ہے اور اس کی بازو والی سیٹ پر ایک بچہ بیٹھا ہےاور محلے کےگھروں کودیکھ رہا ہے۔گاڑی ایک گھر کے سامنے رکتی ہے اور سامنےوالی سیٹ پرماں اپنے بازو والی سیٹ پر بیٹھے لڑکے سے پوچھتی ہےکہ”یہ گھر کیسا ہے؟ تو وہ لڑکا اپنی ماں سے پوچھتا ہے کہ ” کیا اس گھر کا پچھلا حصہ کھلا اور بڑا ہے؟”۔ تو ماں کہتی ہے کہ ” ہاں”۔

جب لڑکا گھر کی خوبصورتی کی تعریف کر تےہوئے کہتاہےکہ مجھے یہ چاہئے۔ماں بڑا انکشاف کرتےہوئے کہتی ہے کہ”یہ ہمارا ہے۔” لڑکا بے اعتباری سے ماں کی جانب اپنی گردن موڑ کر پوچھتا ہے ” کیا؟ ” وہ پھر کہتی ہے ” ہاں” "یہ ہمارا گھر ہے۔”

اسی دؤران کار کی پچھلی سیٹ پربیٹھی ایک معصوم لڑکی کی کچھ آواز آتی ہے شاید وہ اس لڑکے کی چھوٹی بہن ہے۔
لڑکا کہتا ہے ” رکو” پھر ماں سے پوچھتاہے ” کیا؟ "۔اور ماں کہتی ہے "جھوٹ نہیں،یہ ہمارا گھر ہے”۔لڑکا جوش میں چیختاہے اورفرط جذبات سے رونے لگتا ہے۔

ماں اور بچہ کے درمیان ہونے والی گفتگو،سوال اور جواب کے بعد حیرت کے شکار اس کمسن بچہ کے چہرہ کے اتار چڑھاؤ،حیرت و استعجاب کے ساتھ اس کا ردعمل،پھر خوشی کےساتھ اچانک رونے والا نظارہ اس ویڈیو کی اصل کشش ہے۔اور یہی بات ہے کہ اس ویڈیو کو 58 لاکھ سے زائد صارفین نے دیکھا ہے۔اور یہ تعداد روز بڑھتی ہی جارہی ہے۔

جبکہ کئی نامور اورمشہور ہستیوں کے جن کے لاکھوں فالوورز ہوتے ہیں کے ویڈیوز یا ریلز کوبھی اتنی بڑی تعداد میں نہیں دیکھا جاتا۔جبکہ اس خاتون کے فالوورز بھی ہزاروں میں ہیں۔وہیں اس خاتون نے اس ویڈیو کو وائرل کروانے یا صارفین کو راغب کرنے کے لیے کسی بھی ہیش ٹیگ کا استعمال بھی نہیں کیا ہے۔تاکہ اس کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ صارفین تک پہنچے۔اس خاتون کے فالوورز میں بھی اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

اپنے اس انسٹاگرام پیج کے پروفائل میں Martistry# نے خود کو قابل فخر دوبچوں کی ماں لکھا ہے۔پروفائل کےمطابق وہ فٹنس کی شوقین ہیں اور فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی کی سابق طالبہ ہیں۔اور انہوں نے خود کا تعارف مارشا ماریہ بیوٹی کی فاؤنڈر لکھا ہے۔

اس انسٹاگرام آئی ڈی پر اس خاتون کی زیادہ تفصیلات موجودنہیں ہیں۔انہوں نےصرف ATL# لکھاہے۔جسےسوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک، ٹوئٹر،انسٹاگرام،اسناپ چیٹ اور ٹک ٹاک پر ” اٹلانٹنا ” کامختصر لفظ مانا جاتاہے۔جو کہ امریکہ کی ایک ریاست جارجیا کادارالحکومت ہے۔اوراس کی پہچان سیاہ فام افریقی امریکی شہریوں کےعلاقہ کی ہے۔

اس ویڈیو پر کئی صارفین نے دل کو چھولینے والے کمنٹس کیے ہیں۔ایک صارف نے لکھا ہے کہ "اس لڑکےنے مجھے بس ہلاکر رکھ دیا،خدا آپ کےنئے گھر کوخوش رکھے”۔ایک اور کمنٹ میں لکھاہے کہ”یقینی طور پر ماں کے لیے فخر کا لمحہ۔” اگر آپ کو کبھی شبہ ہو تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ نے کچھ ٹھیک کیا”۔

38 سیکنڈ کا یہ ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے "

انسٹا گرام پر Martistry# نے ایک نیوز چینل پرنشر ہونے والے اس کے اس ویڈیو کو بھی پوسٹ کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیاہے۔اس ویڈیو کو جہاں انسٹاگرام پر پسند کیاجارہا ہے۔جسے ایک لاکھ 48 ہزار سے زائد صارفین نے دیکھا ہے۔اور 11,400 نے لائیک کرتے ہوئے دوبارہ مبارکباد والے کمنٹس کیے ہیں۔کئی بین الاقوامی اور ہندوستان کی مختلف زبانوں کےویب سائٹس نےبھی اس ویڈیو پرخصوصی فیچرس لکھے ہیں۔

 

نوٹ: کئی معزز قارئین ویڈیو دیکھنے کے لیے سیدھےلنک کو کلک کردیتے ہیں،جبکہ زیادہ تر لنکس صرف انہی قارئین کے لیے کلک ہوتے ہیں جن کے اکاؤنٹ انسٹاگرام یا ٹوئٹر پرموجود ہوں۔اس لیے قارئین یہیں انگلی سے ویڈیو کے درمیان میں کلک کرکے دیکھ سکتے ہیں۔

ٹوئٹر یا انسٹاگرام سے ویڈیوز کو ڈاؤن لوڈ کرکے یہاں اپ لوڈ کرنا سرقہ اور بددیانتی کے دائرہ میں آتا ہے۔اور اتنی طویل نیوز اسٹوریز کے ساتھ اصل لنک شیئر کرنا ہی قابل اعتبار مانا جاتا ہے۔اس لیے لنکس کا لگانا لازمی ہوتا ہے۔