ماں نے کمسن بیٹے کو اچانک اپنا نیا گھر دِکھاکر حیران کردیا
جذبات سے مغلوب بچہ رو پڑا، لائق دید ویڈیو کو
انسٹاگرام پر 58 لاکھ سے زائد صارفین نے دیکھا
نئی دہلی: 08۔نومبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)
ایسے بھی خوش نصیب ہوتے ہیں کہ انہیں ورثہ میں آسانی کے ساتھ ذاتی گھر مل جایاکرتے ہیں۔مکان اورگھر میں زیادہ فرق نہیں بتایا جاتا۔کہا جاتا ہے کہ”مکان اینٹوں اور پتھروں سے بنتے ہیں اور یہ قابل فروخت ہوتے ہیں۔جبکہ گھر رشتوں،احساسات اور پیارمحبت سے بنتے ہیں۔!!
اسی لیے نامور شاعر افتخار عارف نے کبھی کہا تھا کہ؎
مِرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے
دوسری جانب وہی افتخار عارف پتہ نہیں کیوں اپنے ایک شعر میں یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ؎
گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں
شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے
جبکہ مرزا غالب نے برسوں قبل کہا تھا کہ ؎
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
گھر کی تعمیر تصور ہی میں ہوسکتی ہے
اپنے نقشے کے مطابق یہ زمیں کچھ کم ہے
اسی دؤران کار کی پچھلی سیٹ پربیٹھی ایک معصوم لڑکی کی کچھ آواز آتی ہے شاید وہ اس لڑکے کی چھوٹی بہن ہے۔
لڑکا کہتا ہے ” رکو” پھر ماں سے پوچھتاہے ” کیا؟ "۔اور ماں کہتی ہے "جھوٹ نہیں،یہ ہمارا گھر ہے”۔لڑکا جوش میں چیختاہے اورفرط جذبات سے رونے لگتا ہے۔
” 38 سیکنڈ کا یہ ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے "



