شمالی ہند میں بارش کاقہر، دو فوجی سمیت زائداز 22 افراد ہلاک، ہماچل پردیش شدید متاثر، کئی کاریں، سڑکیں، پل اور مکانات بہہ گئے

شمالی ہند میں بارش کا قہر، دو فوجی سمیت زائداز 22 افراد ہلاک، ہماچل پردیش شدید متاثر
کئی کاریں، سڑکیں، پل اور مکانات بہہ گئے، شدید ترین بارش کی پیش قیاسی
امرناتھ یاترا معطل، کئی ریاستوں میں ریڈ الرٹ جاری، عام زندگی مفلوج

نئی دہلی : 09۔جولائی
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)

شمالی ہندوستان کی کئی ریاستوں میں شدید بارش کے باعث گزشتہ دو دنوں کے دوران زائد از 22 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔محکمہ موسمیات نے آئندہ چند دنوں کے دوران ان ریاستوں میں مزید بارش کی پیش قیاسی کی ہے۔

دارالحکومت دہلی کے کئی حصوں میں ٹریفک نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے۔سڑکیں اور نشیبی علاقے جھیلوں ککا منظر پیش کررہے ہیں۔ دہلی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 153 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے جوکہ 1982 کے بعد جولائی 2023 میں ایک دن میں سب سے زیادہ ہے۔

دہلی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں آج بھی موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔گروگرام (ہریانہ) کے کئی حصوں میں پانی بھر جانے سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ساتھ ہی کئی علاقوں میں برقی سربراہی بھی روک دی گئی ہے۔

مرکزی محکمہ موسمیات انڈین میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ(آئی ایم ڈی)نے دہلی،ہریانہ،ہماچل پردیش،اتراکھنڈ،راجستھان،پنجاب اور جموں وکشمیر میں موسلا دھار بارش کی پیش قیاسی کی ہے۔مرکزی محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ کل ہفتہ کے دن بارش کا شدید سلسلہ شروع ہوا،جس میں دہلی سمیت جاریہ سال مانسون کی پہلی بھاری بارش ہوئی۔

پہاڑی ریاست ہماچل پردیش میں شدید ترین بارش سے بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے۔جبکہ محکمہ موسمیات نے ہماچل پردیش کےسات اضلاع کے لیے ” ریڈ الرٹ ” جاری کیا ہے۔جہاں مٹی کے تودے گرنے،چٹانیں کھسکنے اور سیلاب کے باعث شملہ،سرمور، لاہول، سپتی، چمبہ اور سولن میں کئی سڑکیں بند ہو گئی ہیں۔کلو ضلع میں بیاس ندی خطرے کے نشان کو توڑکر اس کے اوپرسے بہہ رہی ہے،جس کے باعث قومی شاہراہ کا ایک حصہ بہہ گیا۔

ہماچل پردیش میں بارش سےہونے والی تباہی کے کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ہیں۔ہماچل پردیش میں جاری شدید بارش کے باعث مٹی کےتودے گرنے سے پانچ افراد ہلاک(ایک اور اطلاع میں 12 اموات) کی اطلاع ہے،اور تمام بڑی ندیاں اپنی سطح سےاوپر بہہ رہی ہیں۔

موسلا دھار بارش نے آج اتوار کو پہاڑی ریاست ہماچل پردیش میں تباہی مچادی ہے۔جہاں مٹی کےتودےگرنے،چٹانیں کھسکنے اور سیلاب کے باعث گھروں کو نقصان پہنچا ہے اور کئی مکانات بھی سیلابی پانی میں بہہ گئے ہیں۔عام زندگی مفلوج ہوگئی ہے۔اسکولوں اور کالجوں کو دو دن کے لیے بند کر نے کا اعلان کیا گیاہے۔

ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق گذشتہ 36 گھنٹوں کے دؤران 14 بڑے مٹی کے تودے گرنے،13 اچانک سیلابی ریلے آجانے سے 700 سے زیادہ سڑکیں بند ہونے کی اطلاع ملی ہے۔زرعی اراضی کو نقصان پہنچنے کلو،کنور اور چمبہ کے نالو میں آنے والےسیلاب میں گاڑیوں کے بہہ جانے اور منالی میں دکانوں کے تباہ ہونے کی بھی متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔اس کے علاوہ شملہ اضلاع میں کئی سڑکیں بند کردی گئی ہیں. ۔شاید سیلابی پانی کے باعث مندی میں موجود پانڈوہ بریج ٹوٹ گیا ہے۔جبکہ آج صبح ہی اس کے تمام گیٹ کھول دئیے گئے تھے۔

ہریانہ اور پنجاب کے کئی حصوں میں بھی موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔محکمہ موسمیات نے کہا کہ دونوں ریاستوں کی مشترکہ راجدھانی چنڈی گڑھ میں دن بھر بارش کا سلسلہ جاری ہے۔مرکزی محکمہ موسمیات نے راجستھان کے 9 سے زیادہ اضلاع میں شدید ترین بارش کی پیش قیاسی کی ہے۔

اس شدید بارش کے باعث جموں و کشمیر کے پونچھ ضلع میں کل سیلاب میں بہہ جانے کے باعث دو فوجی جوانوں کی موت واقع ہوگئی۔جبکہ دہلی میں ایک 58 سالہ خاتون اس وقت ہلاک ہوگئی جب اس کےفلیٹ کی چھت اس پر گرگئی۔وہیں راجستھان میں بارش سے متعلقہ واقعات میں چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔اسی طرح اترپردیش کےمظفر نگر میں آج علی الصبح ایک خاتون اور اس کی 6 سالہ بیٹی شدید بارش کی وجہ سے مکان گرنےسے ہلاک ہوگئے۔ 

مسلسل بارش اور مٹی کے تودے گرنے کے باعث سالانہ امرناتھ یاترا آج مسلسل تیسرے دن معطل رہی۔ سری نگر جموں ہائی وے پر تقریباً 3000 گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں جہاں کل سڑک کا ایک حصہ دھنس گیا تھا۔

جنوبی ہندوستان میں بھی لگاتار بارش نے کیرالہ اور کرناٹک کے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیاہے۔مرکزی محکمہ موسمیات نے کیرالہ کے چار اضلاع کوزی کوڈ، وائناڈ، کننور اور کاسرگوڈ میں شدید بارش کی پیش قیاسی کے ساتھ ” ایلو ” الرٹ جاری کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں ویڈیو اور تفصیلات اس لنک پر👇👇

مدھیہ پردیش : چلتی گاڑی میں مسلم نوجوان کو پاؤں چاٹنے پر مجبورکیا گیا، شدید مارپیٹ اور چپل سے زد و کوب، دو گرفتار